جموں و کشمیر
قومی شاہراہ کی بندش کو ختم کرنے کےلئے جنگی بنیادوں پر کوششیں :مرکزی وزیر ڈاکٹرجتیندر سنگھ
سری نگرجموں قومی شاہراہ پر مسلسل14ویں روز بھی بندش، گاڑیوں کی آواجاہی ناممکن
معمول کی ٹریفک کو بحال کرنے کی ایجنسیاںکوشاں
ادھم پور میں شاہراہ کی کلیئرنس کا کام جاری ، خصوصی ٹرین کے ذریعے ضروری سامان پہنچایا گیا
سری نگر : جے کے این ایس : 26اگست کو بارشوں کاسلسلہ شروع ہونے کے بعد سری نگر جموں قومی شاہراہ کی بندش کاسلسلہ 14ویں روز بھی جاری رہاجبکہ اس دوران گزشتہ پیر کو شاہراہ پر درماندہ پڑی گاڑیوں کو اپنی منزل کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دی گئی تھی ۔حکام کا کہناہے کہ اودھم سے رام بن تک قومی شاہراہ کو بارشوں ،مٹی کے تودے وپتھر گرآنے اور سڑک کاایک بڑا حصہ ڈھہہ جانے سے پیداہونے والی رکاﺅٹوں اور خرابیوںکو دور کرنے کیلئے بیکن اور دوسری ایجنسیوں نے مشینوں اور مزدوروںکو کام پر لگادیاہے لیکن ابھی بحالی کے کام میں مزید کچھ وقت درکار ہے ،بالخصوص اُن مقامات پر جہاں زمین کھسک جانے کی وجہ سے شاہراہ کو نقصا ن پہنچاہے ۔اس دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ ادھم پور کے تھرڈ اور بالی نالہ میں جموں سری نگر قومی شاہراہ کی بندش کو ختم کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق کشمیر وادی کو باقی ملک سے جوڑنے والا ہمہ موسمی واحد زمینی رابطہ مسلسل منقطع پڑا ہے ۔حکام نے بتایاکہ 26اگست کو بارشوں کاسلسلہ شروع ہونے کے بعد سری نگر جموں قومی شاہراہ کو کئی مقامات پر بالخصوص اودھم پور اور رام بن کی پٹی میں بارشوں ،مٹی کے تودے وپتھر گرآنے اورزمین کھسک جانے کے سبب کافی نقصان پہنچا اوران مقامات پر گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن بن گئی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ اودھم پورمیں شاہراہ کاایک بڑا حصہ ڈھہ جانے کیساتھ ساتھ رام بن کی پٹی میں کئی مقامات پر قومی شاہراہ کو مٹی کے تودے اور بھاری پتھرگرآنے کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاہے۔انہوںنے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کچھ مقامات پررکاﺅٹوں کو ہٹانے کے بعد درماندہ پڑی گاڑیوں کواپنی منزل کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دی گئی تھی،لیکن بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے اور کچھ مقامات پر سیلابی صورتحال پیداہونے کے بعد بحالی کے کاموںمیں پھررکاﺅٹ پیداہوگئی۔حکام نے مزید بتایاکہ بیکن اورکئی تعمیراتی ایجنسیوں نے مشینوں اور مزدوروںکو کام پر لگادیاہے لیکن ابھی بحالی کے کام میں مزید کچھ وقت درکار ہے ،بالخصوص اُن مقامات پر جہاں زمین کھسک جانے کی وجہ سے شاہراہ کو نقصا ن پہنچاہے ۔حکام نے بتایاکہ شاہراہ مسلسل بندرہنے کی وجہ سے کٹھوعہ سے قاضی گنڈتک سینکڑوں بڑی گاڑیاں در ماندہ پڑی ہوئی ہیں ،اوران گاڑیوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں ۔اس دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ ادھم پور کے تھرڈ اور بالی نالہ میں جموں سری نگر قومی شاہراہ کی بندش کو ختم کرنے کےلئے جنگی بنیادوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ موسم صاف ہو گیا ہے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے حکامسری نگر جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت کو بحال کرنے کےلئے چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ اُمید ہے کہ دیر شام تک، ٹریفک کی نقل و حرکت کی اجازت دینا شروع کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ادھم پور سے آگے سڑک رابطے کی عدم موجودگی میں ضروری سامان کی نقل و حمل کے لئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک نئی متعارف کردہ خصوصی مقامی مسافر ٹرین کٹرا اور رام بن سنگلدان کے درمیان چل رہی ہے، جو ضروری اشیاءکی نقل و حرکت کو یقینی بناتی ہے۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہاکہ اس کے بعد یہ ضروری چیزیں سڑک کے ذریعے ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اضلاع میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔وزیرموصوف نے کہا، یہ یقین دلاتے ہوئے کہ سری نگر جموں قومی شاہراہ پر معمول کی ٹریفک کو بحال کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
