ہندوستان
وزیر اعظم مودی کی زندگی اور کارناموں کا گہرا تجزیہ پیش کرنے والی 11 اہم کتابیں
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کی جدوجہد، خدمت اور تپسیا سے بھرپور 75 سالہ زندگی کے سفر پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔
آج جناب مودی کی سالگرہ کے موقع پر ان پر لکھی گئی چند کتابیں بھی زیر بحث ہیں، جن میں 11 نمایاں کتابوں کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی زندگی اور کارناموں کی بیش قیمت معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
ملک و بیرونِ ملک کے دانشور طبقے، مصنفین اور صحافیوں نے ان کتابوں میں جناب مودی کی قائدانہ صلاحیت اور ان کے کام کرنے کے انداز کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری سے لے کر گجرات کے سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ اور پھر لگاتار تیسری بار وزیر اعظم بننے تک کے سفر کو ان کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان میں ایک خاص کتاب ‘کرم یودھاگرنتھ’ ہے، جس میں اُن کے ذریعہ انتودیہ کے عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ اس کتاب میں ریاستوں کو اختیارات میں اضافہ، مرکزی ٹیکس میں ریاستوں کے حصے میں اضافہ، آیوشمان یوجنا، ملک کی سلامتی پالیسی کو مضبوط بنانے، سرجیکل اور ایئر اسٹرائیک جیسے مودی حکومت کے اقدامات اور فیصلوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
پرکاش جاوڑیکر، اسمرتی ایرانی، ڈاکٹر ہرش وردھن، وجے روپانی اور رمیش پتنگے کی تحریر کردہ اس کتاب کے اجرا کے موقع پر، 7 جنوری 2020 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ جناب مودی ایک حساس انسان،بہترین منتظم اور بے خوف سپہ سالار ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ‘راجا پرتھمو سیوک’کے منتر پر عمل کیا ہے۔
اسی طرح ایک مشہور کتاب ‘نریندر مودی: اے پولیٹیکل بایوگرافی’ ہے، جسے برطانیہ کے مصنف اینڈی میرینو نے لکھا ہے۔ اس میں جناب مودی کی ابتدائی زندگی سے لے کر ان کی سیاسی جدوجہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں جناب مودی کے سیاسی فیصلوں، تنازعات اور ان کی قیادت میں ہندوستانی سیاست میں آئی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
‘سینٹر اسٹیج: انسائیڈ دی نریندر مودی ماڈل آف گورننس’ کے مصنف اُدے ماہورکر نے مودی کے حکمرانی کے ماڈل کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ زراعت، سیاحت، ای-گورننس اور تعلیم جیسے مختلف شعبوں میں اُن کے ذریعے کی گئی جدت طرازی اور اصلاحات کو ترتیب وار پیش کیا ہے۔ جناب ماہورکر نے مودی کے مالیاتی نظم و نسق کی مہارت، ہمہ گیر ترقی کی کوششوں اور ووٹ بینک کی سیاست سے اوپر اٹھنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
وزیر اعظم پر ایک اور کتاب ‘مودی: میکنگ آف اے پرائم منسٹر: لیڈرشپ، گورننس اینڈ پرفارمنس’ میں، صحافی اور مصنف ویوین فرنانڈیز نے گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ اُن کی معاشی قیادت اور طرز حکمرانی کا جائزہ لیا ہے۔
اس کتاب میں جناب مودی کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بننے کے اسباب اور تیاریوں کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مصنف نے جناب مودی کو ایک عوامی رہنما اور سب کے قابلِ قبول لیڈر کے طور پر بھی جانچنے کی کوشش کی ہے۔
‘دی مین آف دی مومینٹ: نریندر مودی’ کے عنوان سے ایک اور مشہور کتاب میں ایم وی کامتھ اور کالِندی راندیری نے نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے کی کہانی بیان کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ جناب مودی کی حیرت انگیز قوت برداشت اور تنقیدوں کے باوجود نہ جھکنے کا رویہ، انہیں مزید مضبوط بناتا ہے۔
کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ الزامات اور 2002 کے گجرات فسادات کے منفی پہلوؤں کے باوجود، ان کا گجرات ماڈل، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت، اور ذاتی دیانت داری انہیں نمایاں بناتی ہے۔
ایک اور کتاب ‘دی نمو اسٹوری: اے پولیٹیکل لائف’ جو کِنگشُک ناگ نے لکھی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ہندوستانی سیاست میں نریندر مودی کی شخصیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
کنگشک ناگ نے جناب مودی کو ایک غیر معمولی سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے۔
‘نریندر مودی: دی گیم چینجر’نامی کتاب صحافی اور سیاستدان سودیش ورما نے لکھی ہے، جس میں مودی کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جن پر کم گفتگو ہوئی ہے۔
اس کتاب میں،وزیر اعظم مودی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مدت کار میں ان کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات اور ان کے خیالات و افعال کو شکل دینے والے اثرات کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔
برطانوی مصنف لانس پرائس کی کتاب ‘دی مودی ایفیکٹ: انسائیڈ نریندر مودی کیمپین ٹو ٹرانسفارم انڈیا’میں بتایا گیا ہے کہ بچپن میں ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا ایک ‘چائے والا’ کس طرح ہندوستان کا وزیر اعظم بن گیا۔
اس کتاب میں سال 2014 کی ان کی انتخابی حکمتِ عملی اور 16 مئی 2014 کی شاندار کامیابی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
مذکورہ کتاب میں 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کو اور جناب مودی کی جدید انتخابی تشہیر کو ایک شاندار مثال قرار دیا گیا ہے، جس میں ان کی ٹیم نے ایک ایسی الیکشن مشین تیار کی جو سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، موبائل فون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نئی راہ پر گامزن ہوئی۔
جناب مودی نے ہزاروں عوامی جلسوں میں شرکت کی، لیکن اتنے بڑے ملک میں ہر گاؤں اور قصبے کا ذاتی دورہ کرنا ممکن نہیں تھا۔
ایک اور کتاب ‘نریندریان: اسٹوری آف نریندر مودی’ میں، گِریش دابکے نے جناب مودی کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔
اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب مودی اپنی کرشماتی شخصیت، گجرات میں مضبوط، بدعنوانی سے پاک قیادت اور ترقی کے پس منظر کے ساتھ جدیدہندوستان میں ایک نمایاں اثر بن کر ابھرے ہیں۔
یہ کتاب نریندر مودی کے فیصلوں کے سماجی و سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور ادبی حلقوں پر پڑنے والے اثرات کا بھی تفصیلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔
‘مودی: کامن مین پی ایم’ کے عنوان سے اپنی کتاب میں کیشور مکوانا نے جناب مودی کی ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر کو بہت سنجیدگی سے پیش کیا ہے۔
اس کتاب پر ہندی میں ایک ویب سیریز بھی بن چکی ہے۔
اسی طرح، ایک اور کتاب’وار روم: دی پیپل، ٹیکٹکس اینڈ ٹیکنالوجی بہائنڈ’میں مصنف این پی اُلیکھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے وار روم سے لے کر زمینی چیلنجز تک کی دلچسپ تفصیلات فراہم کی ہیں۔
یو این آئی- م ک۔ایس وائی۔
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
