ہندوستان
وزیر اعظم مودی کی زندگی اور کارناموں کا گہرا تجزیہ پیش کرنے والی 11 اہم کتابیں
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کی جدوجہد، خدمت اور تپسیا سے بھرپور 75 سالہ زندگی کے سفر پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔
آج جناب مودی کی سالگرہ کے موقع پر ان پر لکھی گئی چند کتابیں بھی زیر بحث ہیں، جن میں 11 نمایاں کتابوں کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی زندگی اور کارناموں کی بیش قیمت معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
ملک و بیرونِ ملک کے دانشور طبقے، مصنفین اور صحافیوں نے ان کتابوں میں جناب مودی کی قائدانہ صلاحیت اور ان کے کام کرنے کے انداز کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری سے لے کر گجرات کے سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ اور پھر لگاتار تیسری بار وزیر اعظم بننے تک کے سفر کو ان کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان میں ایک خاص کتاب ‘کرم یودھاگرنتھ’ ہے، جس میں اُن کے ذریعہ انتودیہ کے عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ اس کتاب میں ریاستوں کو اختیارات میں اضافہ، مرکزی ٹیکس میں ریاستوں کے حصے میں اضافہ، آیوشمان یوجنا، ملک کی سلامتی پالیسی کو مضبوط بنانے، سرجیکل اور ایئر اسٹرائیک جیسے مودی حکومت کے اقدامات اور فیصلوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
پرکاش جاوڑیکر، اسمرتی ایرانی، ڈاکٹر ہرش وردھن، وجے روپانی اور رمیش پتنگے کی تحریر کردہ اس کتاب کے اجرا کے موقع پر، 7 جنوری 2020 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ جناب مودی ایک حساس انسان،بہترین منتظم اور بے خوف سپہ سالار ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ‘راجا پرتھمو سیوک’کے منتر پر عمل کیا ہے۔
اسی طرح ایک مشہور کتاب ‘نریندر مودی: اے پولیٹیکل بایوگرافی’ ہے، جسے برطانیہ کے مصنف اینڈی میرینو نے لکھا ہے۔ اس میں جناب مودی کی ابتدائی زندگی سے لے کر ان کی سیاسی جدوجہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں جناب مودی کے سیاسی فیصلوں، تنازعات اور ان کی قیادت میں ہندوستانی سیاست میں آئی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
‘سینٹر اسٹیج: انسائیڈ دی نریندر مودی ماڈل آف گورننس’ کے مصنف اُدے ماہورکر نے مودی کے حکمرانی کے ماڈل کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ زراعت، سیاحت، ای-گورننس اور تعلیم جیسے مختلف شعبوں میں اُن کے ذریعے کی گئی جدت طرازی اور اصلاحات کو ترتیب وار پیش کیا ہے۔ جناب ماہورکر نے مودی کے مالیاتی نظم و نسق کی مہارت، ہمہ گیر ترقی کی کوششوں اور ووٹ بینک کی سیاست سے اوپر اٹھنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
وزیر اعظم پر ایک اور کتاب ‘مودی: میکنگ آف اے پرائم منسٹر: لیڈرشپ، گورننس اینڈ پرفارمنس’ میں، صحافی اور مصنف ویوین فرنانڈیز نے گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ اُن کی معاشی قیادت اور طرز حکمرانی کا جائزہ لیا ہے۔
اس کتاب میں جناب مودی کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بننے کے اسباب اور تیاریوں کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مصنف نے جناب مودی کو ایک عوامی رہنما اور سب کے قابلِ قبول لیڈر کے طور پر بھی جانچنے کی کوشش کی ہے۔
‘دی مین آف دی مومینٹ: نریندر مودی’ کے عنوان سے ایک اور مشہور کتاب میں ایم وی کامتھ اور کالِندی راندیری نے نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے کی کہانی بیان کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ جناب مودی کی حیرت انگیز قوت برداشت اور تنقیدوں کے باوجود نہ جھکنے کا رویہ، انہیں مزید مضبوط بناتا ہے۔
کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ الزامات اور 2002 کے گجرات فسادات کے منفی پہلوؤں کے باوجود، ان کا گجرات ماڈل، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت، اور ذاتی دیانت داری انہیں نمایاں بناتی ہے۔
ایک اور کتاب ‘دی نمو اسٹوری: اے پولیٹیکل لائف’ جو کِنگشُک ناگ نے لکھی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ہندوستانی سیاست میں نریندر مودی کی شخصیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
کنگشک ناگ نے جناب مودی کو ایک غیر معمولی سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے۔
‘نریندر مودی: دی گیم چینجر’نامی کتاب صحافی اور سیاستدان سودیش ورما نے لکھی ہے، جس میں مودی کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جن پر کم گفتگو ہوئی ہے۔
اس کتاب میں،وزیر اعظم مودی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مدت کار میں ان کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات اور ان کے خیالات و افعال کو شکل دینے والے اثرات کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔
برطانوی مصنف لانس پرائس کی کتاب ‘دی مودی ایفیکٹ: انسائیڈ نریندر مودی کیمپین ٹو ٹرانسفارم انڈیا’میں بتایا گیا ہے کہ بچپن میں ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا ایک ‘چائے والا’ کس طرح ہندوستان کا وزیر اعظم بن گیا۔
اس کتاب میں سال 2014 کی ان کی انتخابی حکمتِ عملی اور 16 مئی 2014 کی شاندار کامیابی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
مذکورہ کتاب میں 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کو اور جناب مودی کی جدید انتخابی تشہیر کو ایک شاندار مثال قرار دیا گیا ہے، جس میں ان کی ٹیم نے ایک ایسی الیکشن مشین تیار کی جو سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، موبائل فون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نئی راہ پر گامزن ہوئی۔
جناب مودی نے ہزاروں عوامی جلسوں میں شرکت کی، لیکن اتنے بڑے ملک میں ہر گاؤں اور قصبے کا ذاتی دورہ کرنا ممکن نہیں تھا۔
ایک اور کتاب ‘نریندریان: اسٹوری آف نریندر مودی’ میں، گِریش دابکے نے جناب مودی کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔
اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب مودی اپنی کرشماتی شخصیت، گجرات میں مضبوط، بدعنوانی سے پاک قیادت اور ترقی کے پس منظر کے ساتھ جدیدہندوستان میں ایک نمایاں اثر بن کر ابھرے ہیں۔
یہ کتاب نریندر مودی کے فیصلوں کے سماجی و سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور ادبی حلقوں پر پڑنے والے اثرات کا بھی تفصیلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔
‘مودی: کامن مین پی ایم’ کے عنوان سے اپنی کتاب میں کیشور مکوانا نے جناب مودی کی ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر کو بہت سنجیدگی سے پیش کیا ہے۔
اس کتاب پر ہندی میں ایک ویب سیریز بھی بن چکی ہے۔
اسی طرح، ایک اور کتاب’وار روم: دی پیپل، ٹیکٹکس اینڈ ٹیکنالوجی بہائنڈ’میں مصنف این پی اُلیکھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے وار روم سے لے کر زمینی چیلنجز تک کی دلچسپ تفصیلات فراہم کی ہیں۔
یو این آئی- م ک۔ایس وائی۔
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
