ہندوستان
بنگلہ دیش کا شدید ہوتا بحران اور طویل المدت بے عملی کی اسٹریٹجک قیمتیں
نئی دہلی، بنگلہ دیش اندرونی عدم استحکام کےایک سنگین مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں ہجومی تشدد، ریاستی اختیارات کا خاتمہ اور انتہا پسند اسلامی گروپوں کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ شامل ہے، بھالوکہ، میمن سنگھ میں فیکٹری کے مزدور دیپو چندر داس کا قتل، جسے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا قانون اور عوامی نظم و نسق کے زوال کو ظاہر کرتا ہے۔ دیپو چندر داس کی لاش کو قومی شاہراہ پر جلانے کی کوشش اور اس کے بعد کی مفلوج صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں خوف اداروں پر حاوی ہے
یہ تشدد کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ اس سال کے آغاز میں ایک طالب علم رہنما کے قتل کے بعد سڑکوں پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ انتہا پسند گروہ، بنیاد پرست نیٹ ورک اور مفاد پرست سیاسی عناصر نے غیر یقینی صورتحال اور انتظامیہ کے ناکارہ پن کا فائدہ اٹھایا ہے۔ پولیس کا ردعمل غیر متوازن اور کمزور رہا ہے اور یہ الزامات بڑھ رہے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کو تشدد کا نشانہ بنے ہجوم کے خلاف کارروائی کرنے سے روکا گیا ہے۔
کئی مواقع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کھلے عام حملوں کے باوجود خاموش رہے۔
اقلیتی برادریوں بالخصوص ہندوؤں کو پھر سے دھمکی، تشدد اور سماجی دباؤ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان مخالف نعرے اورمنظم دشمنی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کسی قدرتی احتجاج کی بجائے نظریاتی طور پر منظم بدامنی ہے۔ انتہا پسند اسلامی تنظیموں کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں اور کئی علاقوں میں صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہ رجحانات ڈھانچہ جاتی ابتری کا اشارہ دیتے ہیں
اب اس بحران کا ایک سنگین بین الاقوامی پہلو بھی ہے۔ چٹاگانگ میں ہندوستانی سفارتی مشن پر حملے اور ڈھاکہ، کھلنہ اور راجشاہی میں ہندوستانی مشنوں کی طرف مارچ کی کوششیں بین الاقوامی اصولوں کے لیے ایک براہ راست چیلنج ہیں۔ یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کس طرح ہندوستان مخالف جذبات کو ایک وسیع حکمت عملی کے حصے کے طور پر ہتھیار بنایا جا رہا ہے تاکہ خطے میں بے چینی پیدا کی جا سکے اورہندوستان کے مشرقی محاذ کو کمزور کیا جاسکے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران طویل عرصے تک غیر فعال رہنے کی وجہ سے ہندوستان کی پوزیشن مزید غیر یقینی ہوگئی ہے۔ ایک نازک موقع پر جب بنگلہ دیشی معاشرے کے بڑے طبقوں نے ہندوستان سے استحکام اور اصلاحی کردار ادا کرنے کی توقع کی تھی تو نئی دہلی نے خود کو احتیاط کی وجہ سے مشاہدے تک محدود رکھا۔ اس فیصلہ کن مداخلت کی کمی نے ایک خلا پیدا کر دیا جسے بنیاد پرست طاقتوں نے اپنے فائدے کے لئے فوراً پر کرلیا۔
تاہم بنگلہ دیش میں ناکامی کا الزام صرف سیاسی جماعتوں یا شہری اداروں پر نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی بنیادی ذمہ داری فوجی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ بنگلہ دیشی فوج نے ایسے وقت میں بار بارعدم مداخلت کا راستہ اختیار کیا جب آئینی نظم و نسق اور عوامی سلامتی براہ راست خطرے میں تھی۔ وہ اس وقت خاموش رہی جب ہجوم نے شیخ حسینہ کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کا واضح مقصد انہیں قتل کرنا تھا۔ وہ اس وقت بھی خاموش رہی جب پورے ملک میں تشدد پھوٹا، اقلیتی برادریوں پر حملے ہوئے اور جانی نقصان بڑھا۔ وہ اس وقت بھی غافل رہی جب انتہا پسند گروہ آہستہ آہستہ سڑکوں پر قابض ہوتے گئے اور جب بنگلہ دیش کی بیوروکریسی میں شدت پسندی کے اثرات بڑھتے گئے۔
فوج کی عدم مداخلت کو حکومتی اختیار کا احترام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی ملکی میں سیاسی بحران کے وقت یا حکومت میں تعطل پیدا ہونے پر اس کی غیر جانبداری دراصل ذمہ داری کی عدم ادائیگی ہے۔ مداخلت نہ کر کے فوج نے نہ صرف جمہوریت، آئینی نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کا تحفظ نہیں کیا بلکہ شیخ حسینہ کو ناکام بنایا سڑکوں پر تشدد کو روکنے میں ناکامی کا سامنا کیا اور سب سے بڑھ کر بنگلہ دیش کے عوام کو مایوس کیا۔
یہ خاموشی اس وقت بھی جاری رہی جب شدت پسندی میں اضافہ ہوا، عوامی ادارے کمزور ہوئے اور غیر ملکی انتہا پسند نیٹ ورکوں کا اثر بڑھا۔ ایسی غیر مداخلت نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے وابستہ قوتوں کو اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے، عدم استحکام میں اضافہ کرنے اور بنگلہ دیش کو ایک زیادہ جارحیت پسند اور مذہبی ریاست کی طرف دھکیلنے کا آراستہ آسان کیا۔
بنگلہ دیش کے عدم استحکام کے اثرات اس کی سرحدوں سےکہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی سپلائی چین، سرحدی تحفظ اوربحری رسائی کے لیے مرکزی حیثیت عطا کرتی ہے۔ طویل مدت تک جاری رہنے والا انتشار ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں پراثر انداز ہوسکتا ہے، ہندوستان-میانمار سرحد کے ساتھ سیکورٹی کے چیلنجوں کو مزید بڑھا سکتا ہے اورعلاقائی اقتصادی سرگر میوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کی گھنی آبادی اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت کے پیش نظر یہاں بنیاد پرستی بہت سے دوسرے تنازعات سےزیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
اس کی فوری ذمہ داری اب بنگلہ دیشی فوج پر عائد ہوتی ہے۔ یہ فوجی حکمرانی کا مطالبہ نہیں بلکہ عارضی آئینی ذمہ داری ہے۔ فوج کو امن و امان کی بحالی، ہجوم کے کنٹرول کو ختم کرنے، اقلیتوں کے تحفظ اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے حالات سازگار کرنے کے لیے قدم بڑھانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ ٹائم لائن ایک محفوظ ماحول کی ضرورت ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہو سکتی۔ ایک قلیل مدتی فوجی حمایت یافتہ استحکام کا فریم ورک، جو سختی سے سیکورٹی کے انتظام اور انتخابی سہولت تک محدود ہے، اب ناگزیر ہے
ہندوستان کے لیے سبق واضح ہے کہ اسٹریٹجک صبر کو اسٹریٹجک غفلت میں نہیں بدلنا چاہیے۔ نئی دہلی کو بنگلہ دیش کے اداروں، شہری معاشرہ اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مزید پُرعزم انداز میں رابطہ کرنا چاہیے۔ تشدد، اقلیتوں کے تحفظ اور سفارتی سکیورٹی پر واضح سرخ لکیرون کو سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی ذرائع سے نافذ کیا جانا چاہیے۔
سرحدی انتظام اور انٹیلی جنس کی ہم آہنگی کو فوری طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
عالمی اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر مغربی حکومتوں کو اپنے نقطہ نظر کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ سیکورٹی کے حقائق سے الگ تھلگ رہ کر سیاسی تبدیلیوں کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ قانون کی حکمرانی، اقلیتوں کے تحفظ اور معتبر انتخابات سے مشروط شمولیت ضروری ہے۔ مسلسل خاموشی صرف بنیاد پرست قوتوں کو حوصلہ دے گی۔
نگلہ دیش کے پاس اب بھی پرامن صورت حال کی بحالی کے لیے سماجی بنیادیں موجود ہیں لیکن اصلاح کا موقع تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ابھی کارروائی نہ کی گئی تو یہ نہ صرف بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کرسکتا ہے بلکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے سکیورٹی منظرنامے کو ایسی تبدیلیوں سے دوچار کرسکتا ہے جو واپسی کے قابل نہیں ہوں گی۔
(مضمون نگار سابق سفارت کار ہیں اور یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)
یو این آئی۔ ایس وائی۔
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
