ہندوستان
بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے بڑھنے پر ہندوستانی عسکری ماہرین پریشان
نئی دہلی، ہندوستان کی اسٹریٹجک اسٹیبلشمنٹ اس بات سے تیزی سے گھبرا رہی ہے جسے وہ بنگلہ دیش میں انتہا پسند قوتوں کے دوبارہ سر اٹھانے اور اسلام پسند عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے ہندوستان کے خلاف بیان بازی اور مخالفانہ موقف کو تیز کرنے کے طور پر دیکھتی ہے, ماریشس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر شانتنو مکھرجی نے یو این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان کی مشرقی سرحد کے پار ہونے والی حالیہ پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ “عسکریت پسندی کے خلاف مشکل سے حاصل کردہ کامیابیوں کا ایک خطرناک طور پرمعکوس جانا”۔
افراد اور سفارتی مشنوں پر ہجوم کے حملوں کے حالیہ واقعات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی قیادت بنیاد پرست اسلامی تنظیمیں کررہی ہیں اور یہاں اس رجحان کو بغور دیکھا جا رہا ہے۔
مسٹر مکھرجی جوکہ ایک سابق آئی پی ایس افسر انہوں نے پایا کہ بنیاد پرست قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جو ایک بار پھر بنگلہ دیش کو بین الاقوامی ‘جہادی’ نیٹ ورکس کے لیے ایک میدان بناسکتے ہیں جیسا کہ 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں موجود تھا۔ مسٹر مکھرجی نے کہا، ‘گزشتہ سال رہا ہونے کے بعد جس طرح سے یہ گروپ دوبارہ منظم ہوئے ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہے۔
1990 کی دہائی کے اواخر میں بنگلہ دیش کو دہشت گردی کے ایک غیر متوقع مرکز کے طور پر سامنے آیا تھا جب 6 مارچ 1999 کو جیسور میں سیکولر گروپ اُدیچی کے زیر اہتمام ایک ثقافتی پروگرام میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 10 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ حملے نے عسکریت پسندانہ تشدد کے ایک پریشان کن دور کا آغاز کیا۔
یہ خطرہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں مزید شدت اختیار کرگیا اور یہ 21 اگست 2004 کو ڈھاکہ میں عوامی لیگ کی ریلی پر دستی بم پر منتج ہوا جس میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ایک دہائی سے زائد عرصے بعد، 2016 میں ڈھاکہ میں ہولی آرٹیسن بیکری پر حملہ جس میں بڑی تعداد میں غیر ملکیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے، نے ایک بار پھر ملک میں انتہا پسند عناصر کی جانب سے مسلسل خطرے کی طرف توجہ دلائی۔
اس بار بھی سیکولر ثقافتی اداروں جیسے اُڈیچی اور چایانوٹ ہجوم نے پرتشدد حملے کئے ۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ بدقسمتی سے گزشتہ سالوں کے برعکس، پولیس اور سیکورٹی فورسز زیادہ تر خاموش تماشائی بنے ہوئی ہیں۔
مکھرجی جو اسٹریٹجک امور کے ماہر ہیں نے کہا۔ “اس سے نہ صرف بنگلہ دیش کے اندر تشدد بلکہ ہندوستان کے لیے سرحد پار سے نئے خطرات کا اندیشہ بڑھتا ہے،”۔
بنگلہ دیش سے منسلک سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں ہندوستان کے خدشات کئی دہائی پرانے ہیں، جو عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک اور علاقائی سیاست کو تبدیل کرنے کے بجائے کھلی جنگ سے کم ہے۔
1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل کے دوران، ہندوستان کے شمال مشرق میں سرگرم کئی باغی گروپ، بشمول یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) کے دھڑے، بنگلہ دیش کے اندر کیمپوں اور لاجسٹک اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے جانے جاتے تھے۔
ہندوستانی تجزیوں میں عسکریت پسند اسلامی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ حرکت الجہاد الاسلامی (ہوجی) اور انصارالبنگلہ جیسے گروپس جن کی جڑیں بنگلہ دیش میں ہیں، کو ہندوستانی تفتیش کاروں نے بم دھماکوں اور 2000 کی دہائی میں کولکتہ اور وارانسی سمیت شہروں کو نشانہ بنانے کی سازشوں سے جوڑا تھا۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں سیاسی سرپرستی نے ایسے نیٹ ورکس کو نسبتاً آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی تھی اور “ایسا دوبارہ ہو سکتا ہے”۔
ہندوستانی حکام خاص طور پر اس اندیشہ کے بارے میں فکر مند ہیں کہ بنگلہ دیشی عسکریت پسند گروپ پاکستان اور مغربی ایشیا میں شدت پسند تنظیموں کے ساتھ دوبارہ روابط قائم کرسکتے ہیں۔
مکھرجی نے پہلے ادوار کی طرف اشارہ کیا جب بنگلہ دیش میں تربیت یافتہ عسکریت پسندوں نے بعد میں “افغانستان، شام اور عراق جیسے تنازعات والے علاقوں میں سر اٹھایا”۔
انہوں نے خبردار کیا، اسی طرح کا نمونہ، “موجودہ عدم استحکام کے دوران ایک بار پھر ابھر سکتا ہے”۔ نئی دہلی میں سیکورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خوف صرف دور دراز کے میدان جنگ تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہندوستان کے اندر، یا بنگلہ دیش میں ہندوستانی مفادات کے خلاف حملوں کا اندیشہ حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر ہندوستانی سفارتی مشنوں اور تنصیبات پر حملوں کے سلسلے کے بعد، زیادہ قوی ہوگیا ہے۔
مکھرجی نے کہا کہ ان واقعات نے سیکورٹی ماحول کی نزاکت کو مزید واضح کردیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ دلیل دی کہ ہندوستان کو مدافعتی انداز میں پیچھے ہٹنے سے گریز کرنا چاہیے حالانکہ سرحدی انتظام کو مستحکم کرنے اور سرحد پار سے ممکنہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان عوام سے عوام کے تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے جن کی تاریخیں اور معاشرے گہرے طور پر جڑ ہوئے ہیں اور بنیاد پرست نظریات سے مقابلہ کرنے اور دونوں پڑوسیوں کے درمیان وسیع تر تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے جن کے باہمی تبادلے بیحد ضروری ہیں۔
مکھرجی نے کہا “شدت پسندی کے یکسر خاتمے کے لئے باہمی اشتراک ضروری ہے، “تاہم، تعلقات کا فروغ ملک کی سیکورٹی کی قیمت پر نہیں ہوسکتی ہے۔ ہندوستانی اہلکاروں اور اداروں کی سیکورٹی پر بات چیت ہونی چاہئے۔”
نئی دہلی کے لیے، بنگلہ دیش کی سیاسی اور سماجی پیش رفت بہت اہمیت کی حامل رہی ہیں کیونکہ یہ ہندوستان کی سرحدی سلامتی، علاقائی استحکام اور جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کے توازن سے متعلق ہیں۔
جیسے کہ انتہاپسند نیٹ ورکس بحالی کے اثرات دکھا رہے ہیں اس لئے حکام کا کہنا ہے کہ چیلنج سماجی اور سفارتی تعلقات کو ختم کیے بغیر خطرے پر قابو پانا ہو گا جو تاریخی طور پر تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔ جینت رائے چودھری
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
