دنیا
امریکہ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔
سوشل میڈیا ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں مسٹر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ فیصلہ “فوری طور پر” نافذ العمل ہوگا اور زور دیا کہ “حکم حتمی اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ فیصلہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔ یہ حکم حتمی اور فیصلہ کن ہے۔”
مسٹر ٹرمپ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر ملک گیر احتجاج جاری رہا تو امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تہران نے مذاکرات کے لیے امریکا سے رابطہ کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران مذاکرات چاہتا ہے، مسٹر ٹرمپ نے کہا، “ہاں، وہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کل بات کرنے کے لیے فون کیا، ایرانی رہنماؤں نے فون کیا۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ امریکہ سے تھک چکے ہیں۔ ایران بات چیت چاہتا ہے۔”
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حالات امریکہ کو مذاکرات سے پہلے ہی ایکشن لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
دریں اثنا، ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے مسٹر ٹرمپ کے 25 فیصد محصولات عائد کرنے کے فیصلے کو سراہا اور اسے ایرانی قیادت کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی جانب ایک “زبردست موثر” قدم قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، مسٹر گراہم نے لکھا، “مسٹر ٹرمپ، آج آپ کے اقدامات کے ذریعے اس حکومت کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں آپ کی فیصلہ کن قیادت بہت متاثر کن ہے۔ مظاہرین کی حمایت اور اس حکومت کو یہ واضح پیغام دینے کا آپ کا وعدہ کہ آپ قتل کو برداشت نہیں کریں گے، نے اس شدت پسند حکومت کے قیام کے بعد سے سب سے بڑی عوامی تحریک کو جنم دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایرانی حکومت تمام حدیں پار کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو نظر انداز کیا جارہا ہےْ اب فیصلہ کن فوجی کارروائی کا وقت ہے۔”
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا ہندوستان پر خاصا اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ہندستان ایران کے ساتھ برآمدات اور درآمدات دونوں کے ذریعے اہم تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہندوستان کو پہلے ہی امریکہ کو اپنی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جس میں سے 25 فیصد امریکہ کا ہندوستان سے روسی تیل کی خریداری سے تعلق ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ یوکرین جنگ کے لیے روس کی فنڈنگ میں معاون ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور ایران بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور حالیہ برسوں میں ہندوستان، ایران کے پانچ بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف لگانے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 646 ہو گئی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
دنیا
ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار
تہران، ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی ’’یک طرفہ اقتصادی پابندیاں‘‘ استعمال کر رہا ہے جو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے حالیہ امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں عراقچی نے واشنگٹن کی پابندیوں کی مہم کو ’’ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر تہران کے خلاف غیر قانونی، یک طرفہ اور جبری اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔
عراقچی نے کہا، ’’پابندیاں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس سے زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل، انسانی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔
عراقچی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ممالک کو ایران کے ساتھ قانونی اقتصادی اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور کمپنیوں پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا بند کرے اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
