ہندوستان
ہندوستان اور یورپی یونین کے بڑھتے مراسم اور نئی عالمی صف بندی
نئی دہلی، ہندوستان کے 77 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر یورپی کمیشن کی صدرمحترمہ ارسلہ وان ڈیر لئین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس ڈا کوسٹا کو بطورمہمانِ خصوصی یومِ جمہوریہ پر مدعو کرنا ہندوستان کا ایک بڑا سفارتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ عالمی عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے تناظر میں یہ فیصلہ دونوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے ۔
کرتویہ پتھ پر فوجی پریڈ اور ثقافتی تقریبات کے دوران یورپی رہنماؤں نے ہندوستان کی طاقت اور تنوع کو حیرت اور تحسین سے دیکھا۔یورپی رہنماؤں کو دعوت ہندوستان-یوروپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے، اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے اور موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان توازن قائم کرنے کی جانب ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ دعوت ایک بامعنی سفارتی اقدام کے طور پر سامنے آئی، جو ہندوستان کی عالمی سطح پر مستحکم، قابل اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر پوزیشن ہونے کی خواہش کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس دعوت کے پس پردہ سفارتی مقاصد محض جشن تک محدود نہیں ہیں بلکہ موجودہ عالمی عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے تناظر میں یہ فیصلہ دونوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔
ارسلہ وان ڈیر لئین نے ہندوستان آمد کے موقع پر کہا کہ ہندوستان اور یورپ نے “اسٹریٹجک شراکت، مکالمہ اور کھلے پن” کا انتخاب کیا ہے اور دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ “ایک مختلف راستہ ممکن ہے”۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی اتحادی امریکہ سے کچھ حد تک دور ہو کرہندوستان کے بڑھتے ہوئے معاشی، دفاعی اور سیاسی استحکام کو اپنا ممکنہ متبادل سمجھ رہا ہے۔
ہندوستان اور یورپی یونین فی الحال فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی کہ ایف ٹی اے پر بات چیت کے آخری مراحل میں ہیں، جسے ارسلہ وان ڈیر لئین نے ’اساسی معاہدہ ‘ قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں فریق ایک نئے سکیورٹی اور دفاعی اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام پر بھی متفق ہوئے ہیں، جو جاپان اور جنوبی کوریا کے بعد ایشیا میں یورپی یونین کا تیسرا جامع معاہدہ ہے۔
اس معاہدے میں انڈو-پیسیفک کی بحری سلامتی، خلائی پروگرام اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں شامل ہیں، جو ہندوستان کو ایشیا میں ایک جغرافیائی سیاسی طاقت کے طور پر مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی ۔ ساتھ ہی چین پر انحصار کم کرنے کی عالمی کوششوں کے دوران، یورپی یونین ہندوستان کو ایک مستحکم مینوفیکچرنگ بیس کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب یورپی یونین کے اعلئ اہلکار ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں شریک ہوئے ہیں، بلکہ گزشتہ آٹھ سالوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ اس اہم عالمی گروپ کے سربراہان مہمان خصوصی کے طور پر ہندوستان آئے ہیں۔ پہلی مرتبہ 2018 میں آسیان ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔ ہندوستان کا یوم جمہوریہ دیگر ممالک کی فوجی پریڈوں سے مختلف ہے، کیونکہ ہندوستان کا یہ جشن آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان-یورپی یونین کی بڑھتی قربت امریکہ کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ہندوستان جو ایشیا میں امریکہ کا مضبوط اتحادی ہے، اب یورپی یونین کے قریب جا رہا ہے۔
یو این آئی ۔م اع
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
