تازہ ترین
سابق جنرل نے لکھا ہے کہ نازک گھڑی میں مودی نے فوج کو اکیلا چھوڑدیا: راہل- پرینکا
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے چینی دراندازی کے نازک وقت پر سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ کر فوج کو اکیلا چھوڑ دیا اور جب سابق جنرل کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی تفصیلات کی بنیاد پر وجوہات پوچھی جاتی ہیں، تو پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا جا رہا ہے۔
مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا نے بدھ کو لوک سبھا سے بجٹ اجلاس کے لیے معطل کیے گئے کانگریس کے آٹھ ارکان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے ’مکر دوار‘ پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے بعد صحافیوں سے کہا کہ بحران کی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔ جنرل نروانے نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس وقت سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا تھا اور اب جب اس کی وجوہات پوچھی جا رہی ہیں، تو اپوزیشن لیڈر کو پارلیمنٹ میں بولنے سے روک کر جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین کی جا رہی ہے۔
سابق فوجی چیف کی کتاب صحافیوں کو دکھاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے بارے میں اسپیکر اوم برلا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر نوجوان کو دیکھنا چاہیے کہ اس کتاب میں لداخ کا پورا سچ لکھا ہوا ہے۔ کتاب میں دی گئی تفصیلات سے واضح ہے کہ اس وقت پورے نظام نے جنرل نروانے کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’جب جنرل نروانے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کر کے بتایا کہ چینی فوج کے ٹینک کیلاش رِج پر آ گئے ہیں اور پوچھا کہ کیا کرنا ہے، تو کوئی جواب نہیں ملا۔ نروانے کی جانب سے راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر سے پوچھنے پر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ نروانے نے راج ناتھ سنگھ کو دوبارہ فون کیا، جس پر وزیر دفاع نے کہا کہ میں ’اوپر‘ سے پوچھتا ہوں۔ اس وقت اعلیٰ سطح سے یہ حکم تھا کہ اگر چینی فوج ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو، تو ہماری اجازت کے بغیر فائرنگ نہ کی جائے۔ فیصلہ لینے کے وقت وزیر اعظم کی جانب سے پیغام آیا کہ جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔‘‘
مسٹر مودی پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کی اب لوک سبھا آنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔ اگر وزیر اعظم ایوان میں آتے ہیں، تو وہ خود جا کر انہیں یہ کتاب سونپیں گے، تاکہ وہ اسے پڑھ سکیں اور ملک کو یہ معلوم ہو سکے کہ لداخ تعطل کے دوران حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جب چینی فوج ہماری سرحد میں گھس آئی تھی، ایسی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’یہی وہ سچائی ہے، جسے بولنے سے انہیں پارلیمنٹ میں روکا جا رہا ہے۔ ملک سوال پوچھ رہا ہے اور حکومت جواب دینے سے بھاگ رہی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ جب فیصلہ لینے کا وقت آیا، تو وزیر اعظم نے سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر لیے۔ جنرل نروانے نے خود لکھا ہے کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا۔‘‘
محترمہ واڈرا نے حکومت پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت چاہتی ہے کہ ایوان میں خلل پیدا کیا جائے تو وہ نشیکانت دوبے کو بولنے کے لیے کھڑا کر دیتی ہے۔ جب مسٹر گاندھی کو شائع شدہ کتاب کے اقتباسات پڑھنے نہیں دیے گئے، تو نشیکانت دوبے چھ کتابیں لے کر ایوان میں آئے لیکن ان کا مائیک بند نہیں کیا گیا۔ ایوان میں بار بار نہرو جی کا نام لے کر ملک کی توجہ بھٹکائی جا رہی ہے۔ حکومت دکھانا چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف انہی کی چلتی ہے۔ یہ اسپیکر کے عہدے، پارلیمنٹ، جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین ہے۔ اپوزیشن لیڈر ایک فرد نہیں ہیں- وہ پوری اپوزیشن کے نمائندے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت ان کروڑوں لوگوں کا منہ بند کرنا چاہتی ہے جنہوں نے اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ کو ووٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو نروانے جی کی لکھی ہوئی باتیں معلوم نہ ہوں۔ جب چین کی فوج ہماری سرحد پر تھی، تو اقتدار میں بیٹھے لیڈر یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ اب کیا کرنا ہے۔ دو گھنٹے بعد حکومت یہ کہتی ہے کہ آپ خود ہی فیصلہ لے لو اور بی جے پی کے یہی لوگ اندرا گاندھی جی اور تاریخ کی باتیں کرتے ہیں۔‘‘
یو این آئی- م ک
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
