ہندوستان
اردو صحافت چمک دمک کے بجائے قومی شعور کی بیداری کا آئینہ دار ہے: لئیق رضوی
نئی دہلی اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ قومی شعور کی بیداری میں مستحکم کردار ادا کرتی رہی ہے اس کی تاریخ مولوی محمد باقر کی شہادت کے لہو سے روشن ہے اردو چینل کی اسکرین پر مصنوعی چمک دمک بھلے ہی نہ ہو، لیکن اپنے مشمولات اور ادارتی رنگ و آہنگ کے نظریے سے یہ کسی سے بھی کم نہیں۔ اردو بلیٹین تیار کرتے وقت بنیادی طور پر اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی ضرورت اور پسند پیشِ نظر رہتی ہے عجلت کے چکر میں کچھ بھی اسکرین پر انڈیل دینے کی بدنام روِش ، مین اسٹریم میڈیا کی بہ نسبت اردو میں بہت کم پائی جاتی ہے۔ خبرناموں کی طرح اردو چینل پر نشر ہونے والے مذاکرے بھی عمومی طور پر صحافتی اصول اور اخلاق کے ماتحت ہوتے ہیں۔ چیخ و پکار، ہنگامے اور دیگر ڈرامائی صورتوں کے بجائے یہاں بحث کا تناظر اور پیرایۂ اظہار سنجیدہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام شمیم حنفی سیمینار ہال میں ’’اردو صحافت: چیلنجز اور امکانات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ توسیعی خطبے میں معروف صحافی لئیق رضوی نے کیا۔
انھوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ اردو صحافت کو بہت سی علمی دشواریوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ فعال اور وسیع اشاعت کے حامل اخبارات محدود رہ گئے ہیں۔ اردو اخبارات کو سرکولیشن کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اردو صحافت میں وسائل، تربیت اور تکنیکی مہارتوں کی کمی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ معاشی بحران، قارئین کا بدلتا رجحان، تکنیکی پس ماندگی، تعلیمی و لسانی مسائل اور سماجی تاثر، اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ لئیق رضوی نے اردو صحافت کے روشن امکانات کے حوالے سے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو صحافت کے لیے سب سے بڑا میدان ہے۔ یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور ای میگزین نئی نسل تک رسائی دے سکتے ہیں۔ ڈیٹا جرنلزم میں بھی اردو صحافت کے امکانات وسیع ہیں۔
صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے خطبۂ صدارت میں مہمان مقرر کو ہدیۂ تبریک و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ محض معلومات کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ پرخلوص درمندی اور تصنع سے پاک جذبات کا مظہر بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ لئیق رضوی کے خطبے سے یہ بصیرت بھی ملی کہ اخبار صرف خبر کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ تہذیبی، سیاسی، معاشرتی اور ادبی شعور وآگہی کا سرچشمہ بھی ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے تمام اردو والوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ لازماً اردو اخبارات کے خریدار بنیں۔ راشٹریہ سہارا کا بند ہوجانا اردو صحافت کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مہمان مقرر کا نہال پیشی سے استقبال کیا۔
اس توسیعی خطبے کے کنوینر پروفیسر سرورالہدیٰ نے مہمان مقرر کے تعارفی کلمات میں اردو کے صحافتی نظام کو ہمہ گیر تاریخی، قومی، تہذیبی اور تخلیقی سفر کا ایک ثروت مند ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادبی روایت سے صحافتی تاریخ کو منہا کردینا مناسب نہیں۔ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ لئیق رضوی کے لیے صحافت علم نہیں، بلکہ زندگی ہے۔
علم محض سوزِ دماغ کا عمل ہے، جب کہ زندگی سوزِ جگر چاہتی ہے۔ خطبے کا آغاز شعبے کے ریسرچ اسکالر عبدالرحمن عابد کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر خان رضوان، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزا کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات موجود تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔ م الف
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
