ہندوستان
وزیر اعظم مودی، صدر میکخوان نے دو طرفہ میٹنگ کی، ہندوستان-فرانس سال اختراع 2026 کا آغاز کیا
ممبئی/نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کو ممبئی میں ہندوستان-فرانس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اور دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں گہرے تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرتے ہوئے مختلف مسائل پر بات چیت کی صدر میکخواں، جو وزیر اعظم مودی کی دعوت پر 17 سے 19 فروری تک تین روزہ سرکاری دورے پر پیر کی شام ممبئی پہنچے، مہاراشٹر کے گورنر آچاریہ دیوورت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ان کا خیرمقدم کیا۔ یہ 2017 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میکخواں کا چوتھا دورہ ہندوستان ہے اور ان کا ممبئی کا پہلا دورہ ہے۔
دونوں قائدین نے لوک بھون میں ملاقات کی جس کا مقصد دیرینہ شراکت داری کو مستحکم کرنا اور نئے اور ابھرتے ہوئے ڈومینز میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق ” دونوں رہنماؤں نے ہندوستان-فرانس اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔”
بات چیت میں دفاعی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری، کلائمیٹ ایکشن، میری ٹائم سیکیورٹی، ڈیجیٹل اختراعات اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا احاطہ کیا گیا۔ ذرائع نے اشارہ کیا کہ دونوں فریق جغرافیائی سیاسی حرکیات کی تبدیلی کے درمیان اپنی ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں اور ایک آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظم کے لیے اپنی وابستگی کو تقویت دینے کے خواہاں ہیں، خاص طور پر انڈو پیسیفک خطے میں۔
ہندوستان اور فرانس نے دفاعی خریداری اور مشترکہ فوجی مشقوں، سول نیوکلیئر توانائی، خلائی تعاون اور موسمیاتی اقدامات جیسے شعبوں میں مسلسل گہرے تعلقات بنائے ہیں۔ 1998 میں اسٹریٹجک سطح پر قائم ہونے والی شراکت داری کو یورپ میں ہندوستان کے مضبوط ترین تعلقات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
سربراہی اجلاس سے پہلے وزیر اعظم مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر میکخواں کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی ذاتی تعلقات پر زور دیا۔
مسٹر مودی نے لکھا کہ”ہندوستان میں خوش آمدید! ہندوستان آپ کے دورے اور ہمارے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا منتظر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری بات چیت سے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید تقویت ملے گی اور عالمی ترقی میں مدد ملے گی۔ آپ سے ممبئی اور بعد میں دہلی میں ملیں گے، میرے پیارے دوست ایمانوئل میکخواں۔‘
ایجنڈے سے واقف ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ یہ دورہ “عالمی چیلنجوں پر ترجیحات کو ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتا ہے، بشمول موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی استحکام، اور پائیدار ترقی،” انہوں نے مزید کہا کہ شراکت داری “اعتماد اور مشترکہ جمہوری اقدار پر قائم ہے۔”
دفاعی تعاون مذاکرات کا ایک اہم جز ہونے کی توقع ہے، جس میں اضافی ڈسالٹ ایوی ایشن ڈسالت رافیل لڑاکا طیاروں کے لیے ممکنہ اربوں ڈالر کے معاہدے پر بات چیت بھی شامل ہے۔
ہندوستان مبینہ طور پر 114 اضافی رافیل طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو تقریباً 3.60 لاکھ کروڑ روپے کی تجویز کے تحت مقامی طور پر تیار کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی صنعتی تعاون کو وسعت دینے کی رفتار کا اشارہ کرتے ہوئے، خریداری کی تجویز کو منظوری دی تھی۔
فرانس پہلے سے ہی ہندوستان کے لیے ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے، جس میں ہندوستانی فضائیہ نے رافیل جیٹ طیاروں کو پہلے سے طے شدہ بین حکومتی معاہدے کے تحت شامل کیا تھا۔
جدت اور جدید ٹیکنالوجی اس دورے کا ایک اور ستون ہے۔ صدر میکخواں ہندوستان کی میزبانی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کرنے والے ہیں اور بعد میں اضافی مصروفیات کے لیے نئی دہلی کا سفر کریں گے۔
دونوں رہنما آج ممبئی میں ہندوستان-فرانس سال اختراع 2026 کا مشترکہ طور پر افتتاح کرنے والے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت، گرین ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے جدید شعبوں میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، محققین اور اختراع کاروں کو اکٹھا کرنا ہے۔
ایرو اسپیس، انفراسٹرکچر، شہری ترقی اور صاف توانائی میں تعاون کو وسعت دینے کے ساتھ فرانس ہندوستان کے سرکردہ یورپی تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے بہاؤ کو کھولنے اور سپلائی چین کی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے بے چین ہیں۔
صدر میکخواں نئی دہلی جانے سے پہلے ممبئی میں اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں، توقعات بہت زیادہ ہیں کہ اس دورے سے ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے جن کا مقصد یورپ میں ہندوستان کی سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت داری کو تقویت دینا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
