ہندوستان
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کا عروج اور ہندوستان پر اس کے اثرات
خصوصی تحریر: اسد مرزا
نئی دہلی، بنگلہ دیش سے متوقع انتخابی نتائج آ چکے ہیں، الیکشن کمیشن نے 297 حلقوں کے انتخابی نتائج کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق بی این پی نے 209 جب کہ جماعت اسلامی نے 70 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی کی صرف 70 نشستوں پر فتح نے ا س کی مقبولیت پرسوالیہ نشان بھی لگادیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات نہ صرف ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ اس کے مرکز میں جماعت اسلامی (جے آئی) کی متوقع کارکردگی تھی۔ اس اسلام پسند جماعت نے 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو معزول کرنے والی بغاوت کے دوران مظاہرین کے مطالبات سے ہم آہنگ ہونے کے بعد اہمیت حاصل کی تھی۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی، جس نے 15 سال حکومت کی تھی، اس پران مظاہروں کے بعد ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور 2026 میں ہونے والے انتخابات پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
جماعت اسلامی نے انتخابات میں اتحاد کی قیادت کی، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، جسے نوجوان کارکنوں نے تشکیل دیا تھا اور اس نے حسینہ حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ شکست کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنی اب تک کی سب سے زیادہ 70 نشستیں حاصل کیں اور خود کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا، جسے تجزیہ کار ایک “بہت مضبوط اپوزیشن” کے طور پر بیان کرتے ہیں، جو مستقبل کی پارلیمانی بحث کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاریخی طور پر جماعت کو پاکستان کا حامی دیکھا گیا ہے، اس کے کئی رہنماؤں کو 1971 کے جنگی جرائم کے لیے بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل کی طرف سے مقدمہ چلانے کے بعد پھانسی بھی دی جاچکی ہے۔
ساتھ ہی اس سے قبل بھی بی این پی اور جے آئی حکومتی اتحاد کے شراکت دار رہ چکے ہیں، مثلاً 2001 سے 2006 تک بی این پی کی خالدہ ضیاء کی حکومت میں وہ شامل رہ چکی ہے۔ جماعت کو 2014 میں ہونے والے انتخابات میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور یکم اگست، 2024 کو حسینہ حکومت کی طرف سے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی کیوں کہ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی۔
ہندوستان کے لیے تشویش کی وجہ
تاہم بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حسینہ حکومت کے آخری مرحلے میں، خاص طور پر 2021 کے بعد ہندوستان مخالف جذبات اور پاکستان حامی عناصر میں اضافہ دیکھا گیا۔ مزید یہ کہ یونس کی زیرقیادت نگراں سیٹ اپ میں بنیاد پرستوں اور اسلام پسند انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ بی این پی-جماعت کی پچھلی حکومت (2001۔2006) ہندوستان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ ہندوستان مخالف دہشت گرد اور جہادی عناصر نے ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بنگلہ دیشی سرزمین استعمال کی۔
جماعت اسلامی کی تاریخ
جماعت اسلامی، جسے غلطی سے دیوبندی اسلامی جماعت کے طور پر بیان کیا جارہا ہے، اس کا تعلق کسی بھی طرح سے ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند، ہندوستان سے نہیں ہے اور اس لیے اسے دیوبندی تنظیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
درحقیقت، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی پاکستان کی جماعت اسلامی سے اپنی اصل اور فلسفیانہ جھکاؤ کی مرہون منت ہے، جس کی بنیاد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی تھی۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (25 ستمبر 1903 – 22 ستمبر 1979) ایک ممتاز اسلامی اسکالر، ماہر الہیات، سیاسی فلسفی اور برطانوی ہندوستان کے سیاست دان تھے، جو بعد میں پاکستان میں مقیم ہوگئے تھے۔ انہوں نے 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، جس نے شریعت کے تحت چلنے والی اسلامی ریاست کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
مولانا مودودی نے حیدرآباد کے مختلف اسلامی اداروں میں اسلامی الہیات کا مطالعہ کیا اور جدید فلسفہ اور مغربی افکار کے ساتھ گہرا تعلق قائم کیا، جس نے جدیدیت پر ان کی تنقید کو شکل دی۔ انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں اور تحریروں کی وجہ سے مختلف حکومتوں کے تحت برسوں جیل میں گزارے، جن میں احمدیہ کمیونٹی پر تنقید کرنے پر سزائے موت (بعد میں تبدیل) بھی شامل ہے۔
مولانا مودودی نے جنوبی ایشیا میں سیاسی اسلام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی لیکن بعد میں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے پر توجہ دی۔ ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے بارے میں ان کے نظریات نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے پیروکاروں میں کچھ مقام حاصل کیا۔ جب کہ جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش ایک بنیادی نظریہ اور تاریخی نسب کا اشتراک بھی ہوتا ہے، وہ اپنے سیاسی انضمام، ریاستی تعلقات اور تشدد کے ساتھ اپنے سیاسی نظریہ میں نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ پاکستان میں جماعت اسلامی ایک مسلم اکثریتی ریاست میں مرکزی دھارے کے سیاسی کھلاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو جنگ کے وقت کے تعاون اور انتہا پسندی سے مبینہ روابط کی وجہ سے پسماندہ، کالعدم اور دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے راستے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مختلف سیاسی اور تاریخی سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، جماعت اسلامی ہندوستان میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ان نظریات کی وکالت نہیں کرتی ہے۔ وہ مولانا مودودی کی مذہبی تعلیمات کی پیروی اور تائید کرتی ہے لیکن یہ ان کے زیادہ تر سیاسی فلسفے کو نہیں مانتی۔ یہ ہندوستانی ہم آہنگی، اقدار اور ثقافتی اخلاقیات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ لہذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہندوستانی جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
ہندوستان پر جے آئی کی جیت کے اثرات
ہندوستان، جس کے بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں، اس لئے ہندوستانی حکومت آئندہ مستقبل میں بی این پی ۔جے آئی حکومت کے ساتھ بھی باہمی تعلقات قائم رکھے گی، تاہم جماعت کی جیت نئی دہلی کے لیے مختلف مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔
جماعت اسلامی کے ساتھ، جو کہ 17 فروری کو بنگلہ دیش میں اقتدار سنبھالنے والی نئی حکومت کی ایک بڑی شراکت دار ہے، ہندوستان کو اپنے پڑوسی ملک کی ملکی، خارجہ اور دفاعی پالیسیوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو حکمراں بی این پی کے اعتدال پسند عناصر اور اس کے رہنما طارق رحمان کے ساتھ مل کر اس خطرے کا عملی طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہوگی، جنہوں نے ڈھاکہ میں وزیر اعظم مودی کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کر کے ہندوستان کے ساتھ فعال طور پر شراکت دار بننے کا مثبت اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی۔ الف م ۔ م الف
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
