ہندوستان
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کا عروج اور ہندوستان پر اس کے اثرات
خصوصی تحریر: اسد مرزا
نئی دہلی، بنگلہ دیش سے متوقع انتخابی نتائج آ چکے ہیں، الیکشن کمیشن نے 297 حلقوں کے انتخابی نتائج کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق بی این پی نے 209 جب کہ جماعت اسلامی نے 70 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی کی صرف 70 نشستوں پر فتح نے ا س کی مقبولیت پرسوالیہ نشان بھی لگادیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات نہ صرف ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ اس کے مرکز میں جماعت اسلامی (جے آئی) کی متوقع کارکردگی تھی۔ اس اسلام پسند جماعت نے 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو معزول کرنے والی بغاوت کے دوران مظاہرین کے مطالبات سے ہم آہنگ ہونے کے بعد اہمیت حاصل کی تھی۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی، جس نے 15 سال حکومت کی تھی، اس پران مظاہروں کے بعد ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور 2026 میں ہونے والے انتخابات پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
جماعت اسلامی نے انتخابات میں اتحاد کی قیادت کی، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، جسے نوجوان کارکنوں نے تشکیل دیا تھا اور اس نے حسینہ حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ شکست کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنی اب تک کی سب سے زیادہ 70 نشستیں حاصل کیں اور خود کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا، جسے تجزیہ کار ایک “بہت مضبوط اپوزیشن” کے طور پر بیان کرتے ہیں، جو مستقبل کی پارلیمانی بحث کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاریخی طور پر جماعت کو پاکستان کا حامی دیکھا گیا ہے، اس کے کئی رہنماؤں کو 1971 کے جنگی جرائم کے لیے بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل کی طرف سے مقدمہ چلانے کے بعد پھانسی بھی دی جاچکی ہے۔
ساتھ ہی اس سے قبل بھی بی این پی اور جے آئی حکومتی اتحاد کے شراکت دار رہ چکے ہیں، مثلاً 2001 سے 2006 تک بی این پی کی خالدہ ضیاء کی حکومت میں وہ شامل رہ چکی ہے۔ جماعت کو 2014 میں ہونے والے انتخابات میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور یکم اگست، 2024 کو حسینہ حکومت کی طرف سے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی کیوں کہ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی۔
ہندوستان کے لیے تشویش کی وجہ
تاہم بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حسینہ حکومت کے آخری مرحلے میں، خاص طور پر 2021 کے بعد ہندوستان مخالف جذبات اور پاکستان حامی عناصر میں اضافہ دیکھا گیا۔ مزید یہ کہ یونس کی زیرقیادت نگراں سیٹ اپ میں بنیاد پرستوں اور اسلام پسند انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ بی این پی-جماعت کی پچھلی حکومت (2001۔2006) ہندوستان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ ہندوستان مخالف دہشت گرد اور جہادی عناصر نے ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بنگلہ دیشی سرزمین استعمال کی۔
جماعت اسلامی کی تاریخ
جماعت اسلامی، جسے غلطی سے دیوبندی اسلامی جماعت کے طور پر بیان کیا جارہا ہے، اس کا تعلق کسی بھی طرح سے ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند، ہندوستان سے نہیں ہے اور اس لیے اسے دیوبندی تنظیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
درحقیقت، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی پاکستان کی جماعت اسلامی سے اپنی اصل اور فلسفیانہ جھکاؤ کی مرہون منت ہے، جس کی بنیاد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی تھی۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (25 ستمبر 1903 – 22 ستمبر 1979) ایک ممتاز اسلامی اسکالر، ماہر الہیات، سیاسی فلسفی اور برطانوی ہندوستان کے سیاست دان تھے، جو بعد میں پاکستان میں مقیم ہوگئے تھے۔ انہوں نے 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، جس نے شریعت کے تحت چلنے والی اسلامی ریاست کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
مولانا مودودی نے حیدرآباد کے مختلف اسلامی اداروں میں اسلامی الہیات کا مطالعہ کیا اور جدید فلسفہ اور مغربی افکار کے ساتھ گہرا تعلق قائم کیا، جس نے جدیدیت پر ان کی تنقید کو شکل دی۔ انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں اور تحریروں کی وجہ سے مختلف حکومتوں کے تحت برسوں جیل میں گزارے، جن میں احمدیہ کمیونٹی پر تنقید کرنے پر سزائے موت (بعد میں تبدیل) بھی شامل ہے۔
مولانا مودودی نے جنوبی ایشیا میں سیاسی اسلام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی لیکن بعد میں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے پر توجہ دی۔ ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے بارے میں ان کے نظریات نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے پیروکاروں میں کچھ مقام حاصل کیا۔ جب کہ جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش ایک بنیادی نظریہ اور تاریخی نسب کا اشتراک بھی ہوتا ہے، وہ اپنے سیاسی انضمام، ریاستی تعلقات اور تشدد کے ساتھ اپنے سیاسی نظریہ میں نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ پاکستان میں جماعت اسلامی ایک مسلم اکثریتی ریاست میں مرکزی دھارے کے سیاسی کھلاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو جنگ کے وقت کے تعاون اور انتہا پسندی سے مبینہ روابط کی وجہ سے پسماندہ، کالعدم اور دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے راستے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مختلف سیاسی اور تاریخی سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، جماعت اسلامی ہندوستان میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ان نظریات کی وکالت نہیں کرتی ہے۔ وہ مولانا مودودی کی مذہبی تعلیمات کی پیروی اور تائید کرتی ہے لیکن یہ ان کے زیادہ تر سیاسی فلسفے کو نہیں مانتی۔ یہ ہندوستانی ہم آہنگی، اقدار اور ثقافتی اخلاقیات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ لہذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہندوستانی جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
ہندوستان پر جے آئی کی جیت کے اثرات
ہندوستان، جس کے بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں، اس لئے ہندوستانی حکومت آئندہ مستقبل میں بی این پی ۔جے آئی حکومت کے ساتھ بھی باہمی تعلقات قائم رکھے گی، تاہم جماعت کی جیت نئی دہلی کے لیے مختلف مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔
جماعت اسلامی کے ساتھ، جو کہ 17 فروری کو بنگلہ دیش میں اقتدار سنبھالنے والی نئی حکومت کی ایک بڑی شراکت دار ہے، ہندوستان کو اپنے پڑوسی ملک کی ملکی، خارجہ اور دفاعی پالیسیوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو حکمراں بی این پی کے اعتدال پسند عناصر اور اس کے رہنما طارق رحمان کے ساتھ مل کر اس خطرے کا عملی طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہوگی، جنہوں نے ڈھاکہ میں وزیر اعظم مودی کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کر کے ہندوستان کے ساتھ فعال طور پر شراکت دار بننے کا مثبت اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی۔ الف م ۔ م الف
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
