تازہ ترین
بنگلہ دیش میں یونس دور کا خاتمہ
نعیم نظام
بنگلہ دیش کے سابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی تنازعات سے باہر نہیں آ سکے۔ صدر محمد شہاب الدین نے ان پر نہ صرف ہجوم کی حکمرانی قائم کرنے بلکہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے بعض مشیروں پر بھی سنگین بے ضابطگیوں، تضادات اور ہجوم سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک قومی اخبار میں صدر کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یونس اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف آئینی خلاف ورزی کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
حالیہ دو انٹرویوز میں صدر محمد شہاب الدین نے متعدد الزامات عائد کیے۔ تاہم حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ان معاملات پر ابھی تک کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم طارق رحمان کو صدر سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے بیانات صرف انتظامی اختلاف نہیں بلکہ عبوری حکومت کی آئینی حیثیت اور اس کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز کیا بلکہ عملی طور پر صدر کے آئینی کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی۔ صدر کے مطابق انہیں تقریباً 18 ماہ تک عملی طور پر محدود رکھا گیا۔ انہیں بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری مقامات سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں اور انہیں سیاسی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوانِ صدر کے کنٹرول کی کوششیں بھی کی گئیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور یونس کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی ان معاملات پر بات کی۔
صدر نے الزام لگایا کہ یونس کے دور میں آئین کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار صدر کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان کے مطابق کئی آرڈیننس ان کی مکمل مشاورت یا طے شدہ آئینی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے گئے، جو ایک غیر معمولی اور منفی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ خریداری سے متعلق بعض معاہدوں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے مطابق انہیں ریاستی امور سے تقریباً مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہیں قومی دنوں پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ انہیں قومی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ ان کا ذاتی پریس ونگ بھی واپس لے لیا گیا۔
آئینی روایت کے مطابق ریاست کے سربراہ کو خارجہ پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں، انتظامی اصلاحات اور سلامتی سے متعلق فیصلوں سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، مگر صدر کا کہنا ہے کہ انہیں اہم پالیسی فیصلوں سے بھی بے خبر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نہیں بلکہ صدر کے کردار کو محدود کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جو کسی چیف ایڈوائزر کے اختیار میں نہیں۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض حلقے ان کے عہدے کے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ صدر کا عہدہ آئین میں واضح طور پر متعین ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بھی طے شدہ ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی دباؤ کے ذریعے اس عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئینی نظام کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی لیے بعض حلقے ڈاکٹر یونس اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ صدر پر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ صدر کے مطابق شدید سیاسی بے چینی کے دوران ان سے ایمرجنسی نافذ کرنے کو کہا گیا۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ہنگامی اختیارات کو اکثر طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر عبوری حکومت کے اندر سے واقعی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو یہ غیر معمولی طاقت کے ارتکاز کی علامت ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔
ان الزامات کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معروف شخصیت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یونس اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کو فروغ دیا اور آمرانہ انداز اپنایا۔ ان کی قیادت میں بننے والی عبوری حکومت نے اختیارات کے استعمال میں آئینی حدود کو عبور کیا، اسی لیے اب ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ سابق چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور ان جیسے افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان پر بغاوت، آزادی کی جنگ کی تاریخ مٹانے، 1971 کے دشمن پاکستان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور “سیون سسٹرز” علاقوں پر قبضے کی دھمکیوں جیسے الزامات کے تحت مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے۔
یوں ڈاکٹر محمد یونس اب بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک متنازع باب بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے 18 ماہ کے دورِ اقتدار نے ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی “ری سیٹ بٹن” دبانے کی بات کی اور بنگلہ دیش کو دوبارہ مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ہجوم کی سیاست کو فروغ ملا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ گئی۔
ایک ڈھاکا کے اخبار کے مطابق یونس کے تین مشیروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہجوم سازی کی حکمت عملی اختیار کی، مگر آخرکار یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سنہ 2024 میں یونس نے جان بوجھ کر اقتدار سنبھالنے میں تاخیر کی۔ 5 اگست کو ذمہ داری کا اعلان ہونے اور 8 اگست کو حلف لینے کے درمیان تین دن تک ملک میں عملی طور پر حکومت موجود نہیں تھی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور مخالفین پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ بعض مبصرین کے مطابق عبوری قیادت کی تاخیر نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ڈاکٹر یونس کو طلبہ کی تجویز پر چیف ایڈوائزر بنایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے طلبہ کی غلطیوں کو برداشت کیا اور تعلیمی اداروں میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل اور منظم تشدد کے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2024 سے 2026 کے درمیان ہجوم کے تشدد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا۔
ان کے اقتصادی فیصلوں پر بھی شدید تنقید ہوئی۔ ان کی طویل عرصے سے وابستہ تنظیم گرامین بینک کے لیے ٹیکس چھوٹ، ٹیکس ہالیڈے اور ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات کو مفادات کے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تنظیم کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات نے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔
الزام ہے کہ یونس نے اپنی ملکیت والی کمپنیوں کے نام پر افرادی قوت برآمد کرنے اور یونیورسٹیوں سمیت 20 تجارتی لائسنس حاصل کیے، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
ناقدین کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے 18 ماہ کے دور میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، تھانوں کو جلانا، اسلحہ لوٹنا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد جیسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے۔ اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔
صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں اور اساتذہ کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کے مطابق صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یونس نے کئی معاملات میں من مانی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کی حکمرانی، اقتصادی اخلاقیات، سیاسی برداشت اور ریاستی تسلسل جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاست سے باہر کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش طویل سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
(مصنف: نعیم نظام، سابق مدیر بنگلہ دیش پرتیدن ۔ یہ ذاتی آراء ہیں۔)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
