تازہ ترین
بنگلہ دیش میں یونس دور کا خاتمہ
نعیم نظام
بنگلہ دیش کے سابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی تنازعات سے باہر نہیں آ سکے۔ صدر محمد شہاب الدین نے ان پر نہ صرف ہجوم کی حکمرانی قائم کرنے بلکہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے بعض مشیروں پر بھی سنگین بے ضابطگیوں، تضادات اور ہجوم سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک قومی اخبار میں صدر کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یونس اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف آئینی خلاف ورزی کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
حالیہ دو انٹرویوز میں صدر محمد شہاب الدین نے متعدد الزامات عائد کیے۔ تاہم حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ان معاملات پر ابھی تک کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم طارق رحمان کو صدر سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے بیانات صرف انتظامی اختلاف نہیں بلکہ عبوری حکومت کی آئینی حیثیت اور اس کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز کیا بلکہ عملی طور پر صدر کے آئینی کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی۔ صدر کے مطابق انہیں تقریباً 18 ماہ تک عملی طور پر محدود رکھا گیا۔ انہیں بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری مقامات سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں اور انہیں سیاسی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوانِ صدر کے کنٹرول کی کوششیں بھی کی گئیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور یونس کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی ان معاملات پر بات کی۔
صدر نے الزام لگایا کہ یونس کے دور میں آئین کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار صدر کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان کے مطابق کئی آرڈیننس ان کی مکمل مشاورت یا طے شدہ آئینی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے گئے، جو ایک غیر معمولی اور منفی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ خریداری سے متعلق بعض معاہدوں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے مطابق انہیں ریاستی امور سے تقریباً مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہیں قومی دنوں پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ انہیں قومی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ ان کا ذاتی پریس ونگ بھی واپس لے لیا گیا۔
آئینی روایت کے مطابق ریاست کے سربراہ کو خارجہ پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں، انتظامی اصلاحات اور سلامتی سے متعلق فیصلوں سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، مگر صدر کا کہنا ہے کہ انہیں اہم پالیسی فیصلوں سے بھی بے خبر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نہیں بلکہ صدر کے کردار کو محدود کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جو کسی چیف ایڈوائزر کے اختیار میں نہیں۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض حلقے ان کے عہدے کے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ صدر کا عہدہ آئین میں واضح طور پر متعین ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بھی طے شدہ ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی دباؤ کے ذریعے اس عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئینی نظام کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی لیے بعض حلقے ڈاکٹر یونس اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ صدر پر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ صدر کے مطابق شدید سیاسی بے چینی کے دوران ان سے ایمرجنسی نافذ کرنے کو کہا گیا۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ہنگامی اختیارات کو اکثر طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر عبوری حکومت کے اندر سے واقعی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو یہ غیر معمولی طاقت کے ارتکاز کی علامت ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔
ان الزامات کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معروف شخصیت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یونس اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کو فروغ دیا اور آمرانہ انداز اپنایا۔ ان کی قیادت میں بننے والی عبوری حکومت نے اختیارات کے استعمال میں آئینی حدود کو عبور کیا، اسی لیے اب ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ سابق چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور ان جیسے افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان پر بغاوت، آزادی کی جنگ کی تاریخ مٹانے، 1971 کے دشمن پاکستان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور “سیون سسٹرز” علاقوں پر قبضے کی دھمکیوں جیسے الزامات کے تحت مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے۔
یوں ڈاکٹر محمد یونس اب بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک متنازع باب بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے 18 ماہ کے دورِ اقتدار نے ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی “ری سیٹ بٹن” دبانے کی بات کی اور بنگلہ دیش کو دوبارہ مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ہجوم کی سیاست کو فروغ ملا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ گئی۔
ایک ڈھاکا کے اخبار کے مطابق یونس کے تین مشیروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہجوم سازی کی حکمت عملی اختیار کی، مگر آخرکار یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سنہ 2024 میں یونس نے جان بوجھ کر اقتدار سنبھالنے میں تاخیر کی۔ 5 اگست کو ذمہ داری کا اعلان ہونے اور 8 اگست کو حلف لینے کے درمیان تین دن تک ملک میں عملی طور پر حکومت موجود نہیں تھی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور مخالفین پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ بعض مبصرین کے مطابق عبوری قیادت کی تاخیر نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ڈاکٹر یونس کو طلبہ کی تجویز پر چیف ایڈوائزر بنایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے طلبہ کی غلطیوں کو برداشت کیا اور تعلیمی اداروں میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل اور منظم تشدد کے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2024 سے 2026 کے درمیان ہجوم کے تشدد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا۔
ان کے اقتصادی فیصلوں پر بھی شدید تنقید ہوئی۔ ان کی طویل عرصے سے وابستہ تنظیم گرامین بینک کے لیے ٹیکس چھوٹ، ٹیکس ہالیڈے اور ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات کو مفادات کے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تنظیم کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات نے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔
الزام ہے کہ یونس نے اپنی ملکیت والی کمپنیوں کے نام پر افرادی قوت برآمد کرنے اور یونیورسٹیوں سمیت 20 تجارتی لائسنس حاصل کیے، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
ناقدین کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے 18 ماہ کے دور میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، تھانوں کو جلانا، اسلحہ لوٹنا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد جیسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے۔ اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔
صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں اور اساتذہ کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کے مطابق صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یونس نے کئی معاملات میں من مانی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کی حکمرانی، اقتصادی اخلاقیات، سیاسی برداشت اور ریاستی تسلسل جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاست سے باہر کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش طویل سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
(مصنف: نعیم نظام، سابق مدیر بنگلہ دیش پرتیدن ۔ یہ ذاتی آراء ہیں۔)
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
