تجزیہ
بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داریاں، یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
خصوصی مضمون: ڈاکٹراسرار احمد
نئی دہلی، تعلیم انسان کو شعور وآگہی، کامیابی اور ترقی کی راہ دکھاتی ہے، تعلیم انسان کو مثبت سوچ، واضح سمت و مقصد اور اخلاق و کردار عطاکرتی ہے، یہ فیصلہ سازی کی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی تربیت اور روشن مستقبل کی ضامن ہے، غرض تعلیم انسان کو وہ سب کچھ سکھاتی ہے، جو وہ سیکھنا اور بننا چاہتا ہے، یوں تو تعلیم گھر پر رہتے ہوئے والدین، یا کسی بھی پڑھے لکھے شخص سے دینی اور روایتی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے لیکن موجودہ زمانے میں حصول علم کے لیے مدارس اور اسکول کے نام سے ادارے قائم ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ابتدائی اور دینی تعلیم کا ذریعہ ٖصرف مدارس ہی ہوا کرتے تھے، لیکن آج دیگر ذرائع تعلیم موجود ہیں، جس کے سبب والدین کی اکثریت انگلش میڈیم اسکول کو ہی ترجیح دے رہے ہیں اور اسے کامیابی کی ضمانت بھی تصور کیا جارہا ہے۔ چونکہ یہ موجودہ زمانے کا چلن ہے اور انگلش میڈیم اسکول میں بچوں کا پڑھانا باعث فخر بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ محض انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ کرادینے سے بچہ کامیاب نہیں ہوجاتا، بچے کی تعلیم و تربیت میں گھر، معاشرہ اور اسکول سب کا اہم کردار ہوتا ہے۔
اسکول بڑا ہو یا چھوٹا، مدرسہ یو یا سرکاری، مہنگا ہو یا سستا، بہتر اور معیاری تعلیم کہیں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
مکمل طور پر صرف اسکولوں پر ہی کامیابی منحصر نہیں بلکہ گھریلو ماحول بھی تعلیم و تربیت کے لیے سازگار ہونا چاہیے۔
موجودہ دور میں بچوں کی کامیابی کے لیے مہنگے اور انگلش میڈیم اسکول کو ترجیح دینا عام رجحان بن گیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ نظم وضبط اوروالدین کی شفقت بھری رہنمائی بچوں کی کامیابی میں کلیدی رول اداکرتی ہے۔ بہتر رہنمائی اور گھرکا ماحول تعلیم و تربیت کے لیے سازگار ہو تو مکتب و مدارس کے بچے بھی کامیابی کی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔ مدرسے کے بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان مدارس کا تعلیمی میدان میں ایسا اہم رول رہا ہے کہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں ایسے افراد کو زیور علم سے آراستہ کیا ہے جن کے والدین و سرپرست نہ تو انہیں اسکول و کالج میں بھیجنے کی استطاعت رکھتے تھے اور نہ یہ کچھ بننے کی فکر کرسکتے تھے۔
مدارس کے جو احسانات امت مسلمہ پر ہیں، ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دینی مدارس جہاں دینی ضرورتوں کی تکمیل میں کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں، وہیں اپنے فرزندان کو عصری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تیار بھی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مدارس کے فارغین نے ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کا رخ کیا اوراپنی جہد مسلسل سے امتیازی مقام حاصل کیا۔ آج وہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ایک چیز اور دیکھی گئی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے داخلے کے لیے اسی اسکول کا انتخاب کرتے ہیں، جس کی فیس وہ مشکل سے ادا کرپاتے ہیں اور پھر پورے سال مہنگی فیس کا ہی رونا روتے رہتے ہیں اور ان کی پوری توجہ بچے کی تعلیم و تربیت کے بجائے فیس کا انتظام کرنے میں ہی رہتی ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ بچے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے اور اگر اتفاق سے بچے کا رزلٹ خراب آیا تو اس کا ذمہ دار اسکول کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے مہنگے اسکول کا انتخاب کرنے کی بجائے ایسے اسکول یا مدارس کا انتخاب کیا جائے، جو آپ کے قریب ہوں، جس سے آپ اور بچے کو آسانی ہوگی۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ٹرانسپورٹ کا اضافی خرچ اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔ کیونکہ تعلیم کوئی سامان نہیں، جو آپ مہنگے داموں خریدنا چاہتے ہیں۔ ایک اور چیز، جو بہت عام ہے، وہ یہ کہ انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ دلانے کے بعد والدین کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اور وہ پہلی کلاس سے ہی اسے ٹاپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ کم نمبر یا دوسرے یا تیسرے نمبر کو اپنے لیے باعث عار سمجھنے لگتے ہیں اور بچوں پر بے جا سختیاں بھی شروع کردیتے ہیں۔ اسے دوسروں کی مثال دے کر لعنت ملامت اور بے جا ڈانٹ ڈپٹ سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جب کہ انہیں اپنے بچے کی ذہنی صلاحیت سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ ابتدائی ناکامی مستقل ناکامی نہیں ہوتی، ناکامی کی صورت میں والدین کو نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ انہیں مستقل طور پر احساس کمتری میں مبتلا کرسکتی ہے۔
بعض والدین بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں جنونی ہو جاتے ہیں اور بالخصوص ماں کا رویہ بچوں کے ساتھ تکلیف دہ ہو جاتا ہے، ان کی شدت پسندی کے پیچھے مختلف عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کی صورت میں گھر میں رہنے والی دیگر خواتین کے بچوں کے ساتھ اپنے بچے کی پڑھائی میں مقابلہ یا پڑوس کے بچوں کے ساتھ پوزیشنز میں مقابلے کی فضا قائم ہو جاتی ہے اور اگر بچے ایک ہی کلاس میں ہوں اور قریب رہنے کی وجہ سے ایک ہی اسکول میں جاتے ہوں تو مقابلے کی فضا مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ مقابلہ جب تک مثبت عوامل پر مشتمل رہے، اچھے طریقے سے چلتا ہے۔ لیکن جب حد سے تجاوز کر جائے تو بچے کی شخصیت پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ کیوں کہ کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا بچے سے زیادہ ماں کے لیے باعث فخر ہوتا ہے۔ جب بچے کے امتحانات شروع ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ماں کے بھی امتحانات شروع ہو چکے ہیں اس دوران ماں بچے کا جینا دوبھر کر دیتی ہے اور اسے مختلف دھمکیاں دیتی ہے کہ تمہیں کلاس میں اول (پہلی پوزیشن کے نیچے وہ سوچتی ہی نہیں) آنا ہے یا اگر کلاس میں پہلی پوزیشن نہ لی تو تمہیں فلاں چیز نہیں ملے گی، کھیلنے کودنے پر پابندی عائد کردی جائے گی یا تمہاری پٹائی بھی ہوسکتی ہے۔ ماں بچے پر ہر طرح سے دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ سے بچہ پڑھائی سے گھبرا جاتا ہے۔ وہ سنجیدہ اور خوفزدہ نظر آنے لگتا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ بچوں کی ذہنی استعداد، قابلیت اور میلانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ چناں چہ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ معاملہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی فطری صلاحیتوں کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اساتذہ سے مل کر کوشش کرنی چاہئے۔ ان کا موازنہ ہرگز کسی دوسرے بچے سے نہ کریں۔
تعلیم کا سب سے اہم مرحلہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم ہوتا ہے۔ بچوں کی شخصیت سازی اور اس کی ذہنی نشو و نما میں ابتدائی تعلیم کی بڑی اہمیت ہے۔ اس مرحلہ میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے کیوں کہ بچہ سب سے پہلے اپنے گھر ہی سے سیکھتا ہے۔ تعلیم ہر انسان کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن بچوں کی تعلیم سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہوتی ہے کیوں کہ یہی دور ان کی شخصیت سازی کا زمانہ ہوتا ہے۔ بچہ معصوم ذہن کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور جو کچھ سیکھتا ہے وہ زیادہ تر اپنے گھر اور والدین سے سیکھتا ہے۔ اسی لیے والدین کی ذمہ داریاں نہایت اہم اور حساس ہوجاتی ہیں۔
سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ والدین بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ اگر گھر میں تعلیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تو بچہ بھی اسے سنجیدگی سے لے گا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اسکول بھیجنے کے ساتھ ساتھ گھر میں بھی ان کی پڑھائی پر نظر رکھیں اور ان کی رہنمائی کریں۔ دوسری اہم ذمہ داری مثبت اور پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی ذہنی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر گھر میں لڑائی جھگڑا، سختی یا بے توجہی ہو تو بچہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے اس کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ایمانداری، سچائی، نظم و ضبط اور بڑوں کا احترام جیسی خوبیاں گھر سے ہی سکھائی جاسکتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بد اخلاق فرد معاشرے کے لیے اچھی علامت تصور نہیں کیا جاتا، اس لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت بھی ضروری ہے۔
علاوہ ازیں، والدین کو اساتذہ سے رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ بچے کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کا بروقت اندازہ ہو سکے۔ اگر بچہ کسی مضمون میں کمزور ہو تو اس پر بروقت توجہ دی جائے اور اس کی سرزنش کی بجائے اسے سمجھایا جائے۔ حوصلہ افزائی اور رہنمائی بچے کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر والدین اپنی ذمہ داری دیانت داری اور محبت کے ساتھ ادا کریں تو بچے نہ صرف تعلیم میں کامیاب ہوں گے بلکہ ایک اچھے اور باکردار انسان بن کر ملک و ملت کا نام روشن کریں گے ۔
یواین آئی۔الف الف
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
