جموں و کشمیر
جے کے ایس اے کی میواڑ یونیورسٹی معاملے میں وزیر داخلہ سے مداخلت کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک مکتوب ارسال کرکے راجستھان کے ضلع چتور گڑھ میں واقع میواڑ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کو در پیش مسائل کے پیش نظر ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کے خاتمے، معطلی کے احکامات کی منسوخی اور تعلیمی غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لئے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ایسو سی ایشن نے اپنے خط میں بتایا کہ اس وقت میواڑ یونیورسٹی میں بی ایس سی نرسنگ پروگرام کے پانچویں سمسٹر میں زیر تعلیم 50 سے زیادہ کشمیری طلبا شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مکتوب کے مطابق طلبا کو حال ہی میں معلوم ہوا کہ جس پروگرام میں انہیں داخلہ دیا گیا تھا اس کے پاس مبینہ طور پر انڈین نرسنگ کونسل (آئی این سی) اور راجستھان نرسنگ کونسل (آر این سی) کی لازمی منظوری موجود نہیں ہے جو بھارت میں نرسنگ تعلیم کے نگران ادارے ہیں۔
ایسو سی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھیوہامی نے کہا: ‘چونکہ اس ڈگری پروگرام کی تکیمل میں صرف چاہ ماہ باقی رہ گئے ہیں اس لئے طلبا اپنی ڈگری کی قانونی حیثیت، پیشہ ورانہ رجسٹریشن کی اہلیت اور مستقبل میں ملازمت کے امکانات کے حوالے سے شدید ذہنی دبائو اور بے چینی کا شکار ہیں، اگر واقعی اس پروگرام کو مطلوبہ منظوری نہیں ہے تو طلبا کی ڈگری پیشہ ورانہ پریکٹس کے لئے تسلیم نہیں کی جائے گی جس سے ان کے کئی سال کی محنت اور مالی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ان طلبا کو جموں وکشمیر اسکالر شپ اسکیم کے تحت داخلہ ملا تھا جس کی مالی اعانت بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔ طلبا پہلے ہی کئی سمسٹر مکمل کر چکے ہیں اور انہوں نے اس پروگرام میں خاصا وقت، محنت اور مالی وسائل صرف کئے ہیں لیکن حالیہ انکشافات کے بعد ان کی ڈگری کی قانونی حیثیت اور تعلیمی اسناد کی منظوری کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے’۔
ایسوسی ایشن کے مطابق طلبا نے یونیوسٹی انتظامیہ سے رابطہ کرکے پروگرام کی منظوری کی وضاحت اور سرکاری دستاویزات طلب کیں مگر الزام ہے کہ یونیورسٹی حکام ان کے سوالات کا واضح جواب دینے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں طلبا نے کورس کی منظوری کی حیثیت کے بارے میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کیمپس میں پر امن احتجاج کیا تاہم ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ طلبا کے خدشات دور کرنے کے بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج میں شامل 17 کشمیری طلبا کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی جنہیں بعد میں حراست میں لیا گیا۔
ایسو سی ایشن نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے خدشات اٹھانے پر 33 کشمیری طلبا کو معطل کیا جا چکا ہے۔
خط میں کہا گیا: ‘کیمپس کی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے اور طلبا اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ بعض طلبا کو چند اساتذہ کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا’۔
ایسوسی ایشن نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا کی سلامتی کو یقینی بنائیں، ان کے خلاف درج ایف آر آئیز کا جائزہ لیں اور ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے حکام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ یا تو اس کورس کے لئے ضروری منظوری حاصل کی جائے یا متاثرہ طلبا کو کسی منظور شدہ ادارے میں منتقل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔
یو این آئی ایم افضل۔ایف اے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
