ہندوستان
حکومت کی یقین دہانی کے باوجود ملک میں ایل پی جی سلنڈرکے تعلق سے افراتفری کا ماحول
نئی دہلی ، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ سے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے نہ صرف اس خطے بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی توانائی کا بحران پیداہوگیاہے ۔
پٹرول ،ڈیزل سے لیکر رسوئی گیس تک لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہاہے اور سیاسی سطح پر بھی اسکی بازگشت سنائی دے رہی ہے ہندوستان میں توانائی کے بحران پر بحث کے لیے آج اپوزیشن کے اصرار پر ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ۔ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایل پی جی کے بحران پر بحث کے لیے نوٹس دیا تھا، جو بہت اہم مسئلہ ہے، اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔
اسپیکر نے کہا کہ انہیں قائد حزب اختلاف کا نوٹس موصول ہوا ہے اور متعلقہ وزیر کو معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔ جب متعلقہ وزیر موجود ہوں گے تو اس پر بات ہوگی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اسپیکر نے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے، اس لیے حکومت اس کا جواب دینا چاہے گی۔
کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سفارتی ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک رسوئی گیس کی قلت سے دوچار ہے، لیکن مسٹر مودی اپنی حکومت کی ناکامی پر توجہ دینے کے بجائے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “ایسے وقت میں جب ملک بڑے بحران سے دوچار ہے، وزیر اعظم مودی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایل پی جی کی شدید قلت ہے، لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ بی جے پی کی ناکامی کا خمیازہ متعدد چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس جھوٹے دعوؤں کے سوا کوئی جواب نہیں ہے۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور تیل کی کمی کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں حکومت کو توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “ملک میں ایل پی جی اور تیل کی جو صورتحال ہے وہ ابھی آغاز ہے۔ اس بارے میں میں ایوان میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن کوئی نئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس میں پہلے وزیر فیصلہ کریں گے پھر میں بولوں گا اور پھر وزیر اس کا جواب دیں گے۔ ابھی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کو فوراً اس مسئلے سے نکلنے کے لیے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اگر تیاری نہیں کی گئی تو کروڑوں لوگوں کو نقصان ہوگا۔”
ادھرملک کی ریاستوں میں بھی رسوئی گیس کی قلت کی خبریں آرہی ہیں ،جبکہ حکومت نے پہلے ہی واضح کردیاہے کہ رسوئی گیس کی کوئی قلت نہیں ہے اور ملک میں اسکے وافر ذخائرہیں ۔ اتر پردیش کے کئی شہروں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ممکنہ کمی سے متعلق افواہوں کی وجہ سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک ساتھ گیس سلنڈروں کی بکنگ کر دی، جس سے کمپنیوں کے سرور سست پڑ گئے اور کئی جگہوں پر گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔
۔ کچھ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ تجارتی سلنڈروں کی فراہمی سست ہونے کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ پریاگ راج ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ہر جندر سنگھ نے کہا کہ اس بحران نے ابھی تک کاروبار پر بہت برا اثر نہیں ڈالا ہے، لیکن جلد ہی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمرشل سپلائی روک دی گئی ہے۔ پیر کے روز خبر پھیلنے کے بعد کچھ لوگوں نے 2500 سے 2600 روپے میں سلنڈر بیچنا شروع کر دیا۔ کچھ کاروباریوں نے ذخیرہ کر لیا ہے، لیکن یہ صرف دو یا تین دن ہی چل سکے گا۔
مہاراشٹر میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے لگی ہے جس سے ریاست بھر میں عام زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گیس کی قلت کے باعث ریسٹورنٹس اپنے مینو محدود کرنے پر مجبور ہیں، کیٹرنگ کاروبار کو تقریبات کے انتظام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ گھریلو صارفین کو سلنڈر ریفل کے لیے پہلے کے مقابلے زیادہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ممبئی کے مصروف علاقے بھنڈی بازار سے لے کر ریاست کے مختلف شہروں تک ایل پی جی کی کم ہوتی دستیابی نے صارفین اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے سپلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ملک میں مکمل بحران کی صورتحال نہیں ہے، تاہم ہوٹل صنعت کے نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سپلائی میں رکاوٹ جاری رہی تو کئی ہوٹلوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
ممبئی میں کئی ریسٹورنٹس اور کیٹررز پہلے ہی اپنی سرگرمیوں میں تبدیلیاں کرنے لگے ہیں کیونکہ کمرشل ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی ہوٹلوں نے روزانہ تیار ہونے والے کھانوں کی تعداد کم کر دی ہے جبکہ بعض متبادل ایندھن استعمال کرنے لگے ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آئندہ ہفتے کولکاتا میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہرحیدرآبادمیں ایل پی جی گیس سلنڈرس کی قلت کے سبب اب خواتین دوبارہ لکڑی کا استعمال کر رہی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سلنڈر بھروانے کی قیمت ان کی ماہانہ آمدنی سے باہر ہو چکی ہے۔
مانگ میں اچانک اضافہ کی وجہ سے لکڑی کے ٹالوں پر اسٹاک ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سپلائرس اب دور دراز کے جنگلاتی علاقوں سے لکڑی منگوا رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم کی ہدایت پر گھریلو ایل پی جی گیس کی باقاعدہ سپلائی اور تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ضلع سطح پر ہیلپ لائن نمبر 0612-2219810 جاری کیا گیا ہے۔ جس پر صارفین صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک اطلاع، شکایت یا معلومات دے سکتے ہیں۔ جس پر ضلع انتظامیہ فوری کارروائی کرے گی۔
اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن نے بتایا کہ بلاک سطح پر شکایات کے ازالے اور گیس کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے 28 چھاپے ماری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ گیس ایجنسیوں پر نگرانی کے لیے فورس اور مجسٹریٹ کی بھی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایل پی جی ایجنسی علاقوں کو سیکٹر، زونل اور سپر زونل میں تقسیم کرکے متعلقہ مجسٹریٹوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔
اتراکھنڈ حکومت نے عالمی منظرنامے میں پیدا شدہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک اور رسد کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کے لیے افسران کی خصوصی تعیناتی کے احکامات دیے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر اتراکھنڈ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر دہرادون میں مختلف افسران اور ماہرین کی تعیناتی فوری طور پر آئندہ احکامات تک کی گئی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کسی بھی حالت میں اناج، ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہیں ہونی چاہیے اور صورتحال پر مسلسل نگرانی رکھی جائے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
