تجزیہ
موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کی قیادت: سبز سیاست میں ابھرتی ہوئی آوازیں
خصوصی مضمون:ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقت بن چکی ہے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات اب عالمی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے جہاں سائنسدان اور ماہرین کام کر رہے ہیں، وہیں سیاسی قیادت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر خواتین سیاستدانوں کی ایک نئی نسل اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین نہ صرف اس مسئلے کو سمجھتی ہیں بلکہ اس کے حل کے لیے عملی سیاست میں بھی قدم رکھ رہی ہیں۔ کئی ایسی خواتین سیاستدانوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف اور مساوات کے لیے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین اکثر غربت، سماجی پابندیوں اور معاشی کمزوری کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین عموماً پانی لانے، خوراک اگانے اور گھریلو وسائل کے انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی یا سیلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ بوجھ انہی خواتین پر پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر جب پانی کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں تو خواتین کو کئی میل دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر فصلیں خراب ہو جائیں تو گھریلو خوراک کی کمی کا سامنا بھی خواتین کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل میں خواتین کو مرکزی کردار دینا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماحولیاتی پالیسی سازی میں خواتین کی شرکت کو بڑھایا جائے۔ کیونکہ جب خواتین فیصلوں میں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیوں میں سماجی انصاف، انسانی حقوق اور ماحول کے تحفظ کے پہلو زیادہ واضح طور پر شامل ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں سبز یا گرین سیاست کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ سبز سیاست دراصل ایسی سیاسی سوچ ہے جس کا بنیادی مقصد ماحول کا تحفظ، پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ یورپ میں گرین پارٹیوں نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی ممالک میں وہ پارلیمان کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
گرین سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیاست روایتی طاقت کے ڈھانچوں کے بجائے شفافیت، مساوات اور جمہوری اقدار پر زور دیتی ہے۔
برطانیہ میں بھی گرین پارٹی نے حالیہ برسوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اسے زیادہ تر متوسط طبقے اور شہری علاقوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ طبقاتی اور جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر وسیع تر عوام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان ہی تبدیلیوں کی ایک نمایاں مثال ہننا اسپینسر ہیں۔ وہ حال ہی میں انگلینڈ کے شمالی علاقے سے منتخب ہونے والی پہلی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بنیں۔ ان کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔
ہننا اسپینسر نے 16 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور وہ ایک پلمبر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی وہ پلاسٹرنگ کی تربیت مکمل کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست صرف امیر اور اشرافیہ طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام محنت کش طبقے کے لوگ بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ اب عوام ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گی۔ ان کے مطابق مہنگائی کو کم کرنا، کرایوں کو کنٹرول کرنا اور شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں محنت کش طبقے کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2019 میں برطانوی پارلیمنٹ کے صرف سات فیصد اراکین ایسے تھے جن کا تعلق محنت کش طبقے سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگ ایسے پس منظر سے آتے ہیں جو عام عوام سے مختلف ہوتا ہے۔
ہننا اسپینسر کی کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ اس خلا کو کم کرنے کی علامت بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کو سیاست میں ایک نوجوان اور محنت کش طبقے کی عورت کا خیال پسند نہیں آتا۔ان کے مطابق کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ ویسٹ منسٹر ایک ایسے کلب کی طرح رہے جہاں صرف امیر اور مراعات یافتہ لوگ ہی داخل ہو سکیں۔
خواتین کے لیے سیاست میں قدم رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ انہیں نہ صرف سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صنفی امتیاز، ذاتی حملوں اور سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔آسٹریا کی نوجوان گرین سیاستدان لینا شلنگ اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ صرف 25 سال کی عمر میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ اس سے پہلے وہ موسمیاتی تحریک ‘فرائیڈیز فار فیوچر’ سے وابستہ تھیں۔شلنگ کے مطابق خواتین سیاستدانوں کو اکثر جنسی بدسلوکی، ذاتی حملوں اور رازداری کے نقصان جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں سیاست چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا سیاست کا اہم میدان بن چکا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔بہت سی خواتین سیاستدانوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں، توہین آمیز تبصروں اور جعلی افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چونکہ انٹرنیٹ پر اکثر لوگ گمنامی کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، اس لیے وہ بغیر کسی خوف کے نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔
جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سیاسی طور پر سرگرم خواتین میں سے تقریباً دو تہائی کو کسی نہ کسی شکل میں جنس پرستانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو خاص طور پر زیادہ تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انکار، خواتین کے خلاف تعصب اور ماحولیاتی پالیسی کی مخالفت کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق بعض لوگ موجودہ معاشی اور سماجی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے موسمیاتی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ چونکہ خواتین اکثر سماجی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، اس لیے انہیں زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آن لائن ہراسانی اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین سیاست چھوڑنے پر بھی غور کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہونے والی 22 فیصد خواتین نے کسی نہ کسی وقت سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا سوچا۔یہ صورتحال نہ صرف خواتین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو سیاست سے دور رکھا جائے تو معاشرے کے نصف حصے کی آواز دب جاتی ہے۔
تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا بھر میں نوجوان خواتین کی ایک نئی نسل سیاست میں قدم رکھ رہی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑ رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف، صنفی مساوات اور معاشی اصلاحات کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔یہ نسل روایتی سیاست سے مختلف انداز اختیار کر رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتی ہیں، عوامی تحریکوں سے جڑی ہوتی ہیں اور شفافیت پر زور دیتی ہیں۔ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بننے والی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف سائنسی تحقیق سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی قیادت بھی ضروری ہے۔خواتین سیاستدان اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ وہ اکثر ماحول، صحت اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو ایک ساتھ دیکھتی ہیں۔اگر سیاسی نظام خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی بنایا جائے تو مستقبل میں ہمیں مزید باصلاحیت خواتین رہنما دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پوری انسانیت کو ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مشترکہ عزم سے ممکن ہے۔خواتین اس جدوجہد میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چاہے وہ مقامی سطح پر ماحولیاتی سرگرم کارکن ہوں یا قومی اور بین الاقوامی سطح کی سیاستدان، ان کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہی ہے۔ہننا اسپینسر اور لینا شلنگ جیسی خواتین اس نئی سیاست کی علامت ہیں جو نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی بھی خواہاں ہیں۔اگر دنیا واقعی موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے خواتین کی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کرنا ہوگا۔یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ماحول کو بچا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
