تجزیہ
ہندوستان میں اے سی: گرمی سے تحفظ یا زمین کے لیے خطرہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید گرمی سے انسانی جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت ہے اور دوسری طرف انہی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے ایئر کنڈیشنر (اے سی) اب صرف آسائش کی علامت نہیں رہا بلکہ ہندوستان جیسے گرم ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بنتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا تلخ تضاد جڑا ہوا ہے جو آج کے ہندوستان کے ماحولیاتی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ جو مشینیں لوگوں کو گرمی سے راحت دیتی ہیں، وہی کرہ ارض کو مزید گرم بھی کر رہی ہیں۔
2026 کی گرمی ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کے کئی حصے بھٹی کی مانند تپنے لگے۔ اپریل کے وسط تک مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مشرقی، وسطی اور شمال مغربی ہندوستان شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہیں گے۔ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی ایک سنگین علامت ہے۔
ہندوستان ہمیشہ سے گرم آب و ہوا والا ملک رہا ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 1901 سے 2024 تک ہندوستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر موسمیاتی سائنس میں ایک ڈگری کا فرق پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2024 کو عالمی اور ہندوستانی سطح پر ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس سال تقریباً ہر مہینہ معمول سے زیادہ گرم رہا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی کی فراہمی اور صحت پر پڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں گرمی کی شدت اب اس حد تک پہنچ رہی ہے کہ غریب مزدور، رکشہ چلانے والے، تعمیراتی کارکن، کسان اور فیکٹری مزدور دوپہر کے اوقات میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
شہروں میں صورتِ حال مزید خراب ہے۔ کنکریٹ اور سیمنٹ سے بھرے بڑے شہر”اربن ہیٹ آئی لینڈ”بن چکے ہیں جہاں درجہ حرارت دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ درختوں کی کمی، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اس بحران کو اور سنگین بنا رہی ہیں۔
کبھی ہندوستان میں اے سی صرف امیر طبقے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ شدید گرمی نے متوسط طبقے کو بھی اے سی خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے سی کی فروخت ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اندازہ ہے کہ اگلے دو دہائیوں میں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کولنگ مارکیٹ بن سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، زندہ رہنا۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد، بچے اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں اے سی ایک سہولت نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر، میٹرو اسٹیشنوں اور گھروں میں ٹھنڈک کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہی بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔
ایئر کنڈیشنر بنیادی طور پر دو طریقوں سے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(اول) بجلی کی بے پناہ کھپت: اے سی چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی بڑی مقدار اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ جب لاکھوں اے سی ایک ساتھ چلتے ہیں تو بجلی گھروں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور زیادہ کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
(دوم) ریفریجرینٹ گیسوں کا اخراج: اے سی میں استعمال ہونے والی بعض گیسیں ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر یہ گیسیں فضا میں خارج ہوں تو ان کی گرین ہاؤس اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پرانی نقصان دہ گیسوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے، لیکن اب بھی کئی اقسام کے ریفریجرینٹس ماحول کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستان میں کولنگ کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ امیر لوگ اے سی والے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں رہ کر گرمی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ غریب طبقہ شدید گرمی کا براہِ راست سامنا کرتا ہے۔
کچی بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے پاس نہ مناسب مکان ہیں، نہ بجلی کی مستقل فراہمی، اور نہ ہی ٹھنڈک کے ذرائع۔ ٹین کی چھتوں والے گھروں میں درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان رات بھر سو نہیں پاتے۔ شدید گرمی بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
ہندوستانی شہروں کی بے ہنگم ترقی نے گرمی کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ شہروں میں سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے، جھیلیں اور تالاب ختم ہو رہے ہیں، جبکہ بلند عمارتیں اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔
درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن شہری توسیع کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جائے تو گرمی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گرمی کا بحران صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور گرمی کی لہریں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مزدور طبقہ کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہے جہاں درجہ حرارت جان لیوا ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اس لیے اے سی یا کولر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی گرمی کے خطرات کے سامنے زیادہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔
شدید گرمی اب ہندوستان میں ایک خاموش قاتل بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی اموات سرکاری ریکارڈ میں شامل بھی نہیں ہوتیں۔
ہندوستان تیزی سے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اے سی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو صاف توانائی سے پورا کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی خاص طور پر امید افزا ہے کیونکہ گرمی کے دنوں میں سورج کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جب اے سی کی ضرورت بڑھتی ہے تب ہی سولر پاور بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر گھروں اور عمارتوں پر سولر پینل لگائے جائیں تو بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی اصلاحات درکار ہیں۔
روایتی ہندوستانی طرزِ تعمیر سے سببق لیتے ہوئے جدید کنکریٹ عمارتوں کے برعکس پرانے ہندوستانی گھروں میں قدرتی ٹھنڈک کے کئی طریقے موجود تھے۔ موٹی دیواریں، اونچی چھتیں، صحن، جالی دار کھڑکیاں اور ہوا کی نکاسی کے راستے گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھتے تھے۔
راجستھان کی حویلیاں، جنوبی ہندوستان کے روایتی گھر اور مغلیہ طرزِ تعمیر اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح مقامی آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان اصولوں کو دوبارہ اپنانا ضروری ہے۔
ہندوستان آنے والے برسوں میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہوگا۔ اس ترقی کے ساتھ کولنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ بحران ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اگر پائیدار کولنگ، صاف توانائی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرے تو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص شدید گرمی سے محفوظ ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں ٹھنڈک بھی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جائے۔
ہندوستان میں اے سی دراصل جدید دنیا کے بڑے سوالات میں سے ایک کی علامت ہے۔ ہم ترقی، آرام اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کریں؟ شدید گرمی نے کولنگ کو ناگزیر بنا دیا ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار خود بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، بہتر پالیسیوں، سماجی انصاف اور ماحول دوست طرزِ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ہندوستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب انسانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایسی ٹھنڈک چاہتے ہیں جو وقتی سکون دے مگر زمین کو جلا دے، یا ایسا مستقبل جہاں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہ سکیں۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
