ہندوستان
سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ‘آن اسکرین مارکنگ’ (او ایس ایم) نظام میں سائبر سکیورٹی میں نقب زنی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے وزارت تعلیم سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (انچارج مواصلات) جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے شروع میں اپنے ڈیجیٹل ایویلیوشین پلیٹ فارم میں خامیوں سے انکار کیا تھا، لیکن آخر کار اس نے تسلیم کر لیا کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس کمپنی کی خراب کارکردگی کے خدشات کے باوجود اسے بچا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر پوسٹ میں کہا، “ہفتوں تک اپنے ‘آن اسکرین مارکنگ’ نظام میں سائبر سکیورٹی کی خامیوں سے انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی ہے۔”
کانگریس رہنما نے سوال کیا کہ کیا اس سسٹم کو چلانے کے لیے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “لیکن وہ اپنے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔” جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدہ سے پہلے ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وینڈر کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق، اگست 2025 میں جاری سی بی ایس ای کے ‘ریکویسٹ فار پروپوزل’ (آر ایف پی) میں ان دفعات کو برقرار رکھا گیا تھا، جو مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کو اختیار دیتے تھے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اگلے ہی مہینے جاری ایک ترمیمی خط کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کا اختیار ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں بیٹھے ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے مددگاروں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ٹھیکیدار کمپنی اس کام کے لائق نہیں ہوگی۔” انہوں نے اس تبدیلی کو ‘سی او ای ایم پی ٹی کو بچانے کی کوشش اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمی’ بتایا، جو کمپنی کو باقاعدہ طور پر کانٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔
یہ تنازع پرچوں کے ڈیجیٹل ایویلیوشن کے لیے سی بی ایس ای کے زیر استعمال او ایس ایم نظام سے جڑا ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی عمل کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ سائبر سکیورٹی کی خامیوں اور جانچ کے عمل کی شفافیت کے تعلق سے پیدا ہوئے خدشات نے سیاسی تنقید کو ہوا دی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس سسٹم کے انتظام اور اس سے متعلق کانٹریکٹ دیے جانے کے معاملے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر حملے کو اور تیز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے وزارت تعلیم پر ان بے ضابطگیوں کو شہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ملک کو کب تک ایسے ‘وزیر پردھان’ کو برداشت کرنا پڑے گا، جن کی وزارت نے اپنے ٹینڈروں میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو ہونے دیا اور اوربڑھاوا دیا، جس سے لاکھوں طلبہ کا ذہنی سکون چھن گیا؟” کانگریس رہنما نے عوامی عہدے پر جوابدہی کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا، “وزیر پردھان کو اپنے ‘راج دھرم’ پر عمل کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ان الزامات پر وزارت تعلیم، سی بی ایس ای یا سی او ای ایم پی ٹی کی طرف سے فی الحال کوئی فوری ردعمل نہیں آیا ہے۔
بورڈ نے پہلے یہ رخ اپنایا تھا کہ وہ اپنے امتحان اورایویلیوشن نظام کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان تازہ بیانات نے سی بی ایس ای کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کام کاج کو لے کر چل رہے سیاسی تنازع کو اور بڑھا دیا ہے، جس میں اپوزیشن سائبر سکیورٹی کے اقدامات، خریداری کے طریقہ کار اور تعلیمی نظام کے اندر جوابدہی پر جواب مانگ رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
