ہندوستان
گزشتہ چار دنوں میں پی او کے مظاہروں اور پولیس تشدد میں کم از کم 41 افراد ہلاک
نئی دہلی، پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں حکام نے منگل کی سہ پہر کو کرفیو نافذ کر دیا کیونکہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے، جب کہ پولیس تشدد میں گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 19 بچے اور سات حاملہ خواتین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، ڈڈیال، پالندری اور سدھانوتی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، حکومت اور فوج مخالف نعرے لگائے اور آزادی کا مطالبہ کیا۔ مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور ڈڈیال میں انتظامی بندش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، پولیس کی کارروائی میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
راولکوٹ میں صبح 11 بجے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس سے پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز کو گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی کارروائی میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کوٹلی اور ڈڈیال میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نعرے لگاتے ہوئے راولکوٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پالندری میں آنسو گیس کے استعمال کے باوجود ہزاروں افراد پاکستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، سودھانوتی میں مظاہرین نے لکڑی کی لاٹھیوں سے مظاہرے کیے اور پاکستانی حکومت اور فوج کو وارننگ جاری کی۔ مظفرآباد میں نیلم پل پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فائرنگ کی ویڈیوز نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی او کے میں مظاہرین 38 مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر سستی بجلی اور آٹے، چاول اور دالوں کی کم قیمتیں شامل ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پاکستان نے پی او کے میں منگلا ڈیم جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لیے مقامی رہائشیوں کو کم نرخوں پر بجلی ملنی چاہیے۔ مظاہرین کا ایک بڑا سیاسی مطالبہ پی او کے اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نشستیں ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جنہیں پناہ گزین سمجھا جاتا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر آئے ہیں لیکن اب وہ پی او کے کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ پی او کے میں نہیں رہتے وہ ان 12 سیٹوں کو ووٹ اور نمائندگی کیسے دے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں موجودگی کے باوجود صرف حزب المجاہدین کے ارکان اور ان کے رشتہ دار ہی ان مخصوص نشستوں پر منتخب ہوں۔ نتیجے کے طور پر، پی او کے اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے زیر اثر رہیں۔ اس سے وہ قانون سازوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو اپنی پسند کا وزیر اعظم مقرر کر سکتے ہیں۔
ایک مثال عبداللہ سعید شاہ کی ہے، جنہیں پیر مظہر سعید شاہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جیش محمد کا سندھ کا صوبائی سربراہ بتایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم میں ان کے مبینہ کردار کے باوجود، وہ پی او کے اسمبلی کے رکن ہیں اور حال ہی میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح کی مظاہروں کی لہر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پھوٹ پڑی تھی جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کو مذاکرات کے لیے پی او کے بھیجا۔ حکام نے مظاہرین کے 38 میں سے 21 مطالبات تسلیم کر لیے۔ تاہم آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکام نے موجودہ بدامنی کے دوران اور اس سے پہلے دونوں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بریگیڈیئر فائق ایوب کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پی او کے میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مظاہرین اور ماہرین کا الزام ہے کہ ان کی کمان میں فوج کے جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی او کے میں اپنی پوسٹنگ سے قبل، بریگیڈیئر فائق ایوب پنجاب میں سیکٹر کمانڈر تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں پرتشدد کریک ڈاؤن کا ذمہ دار تھا، جس کی وجہ سے انہیں “لاہور کا قصائی” کا لقب ملا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں پی او کے منتقل کر دیا، جہاں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
