تجزیہ
ہیٹ ویوز اور اوزون: ہندوستان میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بڑھتی ہوئی اموات کا سنگین بحران
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
موسمیاتی تبدیلی اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے, دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے, ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے, حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد، شدت اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، خصوصاً سطحی اوزون ایک خاموش مگر مہلک خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔
12 جون کو نیچر پورٹ فولیو کے جریدے ’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق نے ایک نہایت اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران سطحی اوزون کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے مطابق 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے دنوں میں تقریباً 830 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن کا تعلق گرمی اور اوزون کے مشترکہ اثرات سے تھا۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں جو انسانی صحت کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
عام طور پر جب اوزون کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون کی حفاظتی پرت آتی ہے، جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ تاہم سطحی اوزون اس سے بالکل مختلف ہے۔
سطحی اوزون ایک ثانوی فضائی آلودگی ہے جو براہ راست خارج نہیں ہوتی بلکہ مختلف آلودہ گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ گاڑیوں، صنعتی کارخانوں، بجلی گھروں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کی موجودگی میں اوزون پیدا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے گرم اور دھوپ والے دنوں میں اوزون کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جب گرمی کی لہریں آتی ہیں تو درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اوزون کی تشکیل کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران اوزون کی سطح 85 سے 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران اوزون کی مقدار محفوظ سطح سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی کی لہر ختم ہونے کے تقریباً تین سے چار دن بعد اوزون کی سطح دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدید گرمی اوزون کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان کے شمالی علاقوں خصوصاً دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اوزون کی سطح بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اوزون کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ حد سے نیچے رہی ہو۔
سطحی اوزون کو دنیا کے خطرناک ترین فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب انسان آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے تو اوزون براہ راست پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے فوری اثرات میں شامل ہیں: سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور گلے میں جلن، سینے میں درد، دمہ کی شدت میں اضافہ اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی
تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلسل اوزون کی نمائش دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ اوزون صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ قلبی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اسکیمک دل کی بیماری (Ischemic Heart Disease) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔
مطالعے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کے دوران اوزون کے بڑھنے سے تقریباً 26,500 اموات اسکیمک دل کی بیماری اور سی او پی ڈی سے منسلک پائی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 490 اضافی اموات صرف دل کی بیماریوں کے سبب واقع ہوئیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے مریضوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، ہائی بلڈ پریشر کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا لوگ اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (Chronic Obstructive Pulmonary Disease (COPD) ایک سنگین بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور سی او پی ڈی کے مریضوں کی حالت مزید خراب کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گرمی کی لہروں کے دوران سی او پی ڈی سے متعلق تقریباً 342 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران ہے۔
گرمی کی لہروں میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرمی کی لہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات اوزون کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے اور دوسری طرف یہی درجہ حرارت فضائی آلودگی کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔ اس طرح دونوں عوامل مل کر انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں صورتحال نسبتاً زیادہ تشویشناک ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتی سرگرمیاں اور شہری پھیلاؤ فضائی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔شہری علاقوں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر بھی پایا جاتا ہے، جس کے تحت کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون کی تشکیل میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی لیے شہری آبادیوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: شدید گرمی اور بلند اوزون۔
ہیٹ ویوز اور اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح صرف صحت ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے وسیع معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا ہے، صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
غریب خاندان اکثر ایئر کنڈیشننگ، صاف رہائش اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان خطرات کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے:گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جائے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز علاقوں کا اضافہ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہیٹ ایکشن پلانز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران حساس آبادیوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ گرمی کی لہریں صرف براہِ راست گرمی سے متعلق بیماریوں کا باعث نہیں بنتیں بلکہ اوزون کی سطح میں اضافے کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے اموات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
2024 کے دوران تقریباً 830 اضافی اموات کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیٹ ویوز اور اوزون کا امتزاج ایک خاموش مگر سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ مزید برآں، اوزون سے منسلک تقریباً 26,500 اموات اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید جانیں لے سکتی ہیں۔ لہٰذا حکومت، سائنسی اداروں، صحت ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کریں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے معاشرے کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائیں۔ یہی راستہ انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
