تجزیہ
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: اسباب، تباہ کاریاں اور مستقبل کا لائحہ عمل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اکیسویں صدی میں کرہ ارض کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین ترین چیلنج ‘موسمیاتی تبدیلی’ (کلائمیٹ چینج) اور ‘عالمی حدت’ (گلوبل وارمنگ) ہے حالیہ برسوں میں اس کے اثرات محض سائنسی رپورٹس اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ انسانی زندگیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظاموں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال یورپ میں آنے والی حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو توڑ دیے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک اور سلوواکیہ جیسے ممالک، جو تاریخی طور پر معتدل یا سرد موسم کے لیے جانے جاتے تھے، اس وقت تپتے ہوئے صحراؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانا اور رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
مغربی یورپ سے شروع ہونے والا یہ شدید موسمی نظام اب مشرق کی طرف پھیل چکا ہے اور اس کی شدت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں اس ہیٹ ویو نے جو تباہی مچائی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: جرمنی، جو اپنی صنعتی ترقی اور بہترین انفراسٹرکچر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اس وقت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
جرمن قومی موسمیاتی سروس (ڈی ڈبلیو ڈی) کے مطابق ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر اس کے 42ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کے قوی امکانات ہیں۔
فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت 41.3 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جرمنی کی تاریخ کے گرم ترین درجہ حرارت کے بالکل قریب ہے۔ جرمن حکام نے تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے۔ شہروں میں پانی کی کھپت میں بے پناہ اضافے کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی بچائیں تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج نہ ہو۔
اٹلی بھی اس ہیٹ ویو کی زد میں بری طرح آچکا ہے۔ روم، میلان اور فلورنس جیسے تاریخی شہروں میں درجہ حرارت مسلسل 40ڈگری سینٹی گریڈسے اوپر برقرار ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔
اس ہیٹ ویو کی سب سے حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) کو بھی نہیں بخشا۔ ڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق اوڈینس (Odense) کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ 1874ء میں جب سے ڈنمارک میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، گزشتہ 150 سے زائد سالوں میں یہ وہاں کا گرم ترین دن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گرمی کی لہریں اب قطب شمالی کے قریبی علاقوں تک کا رخ کر رہی ہیں۔
فرانس اس ہیٹ ویو کا ابتدائی ہدف بنا جہاں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرنے کے باعث درجنوں افراد، بالخصوص نوجوان اور بوڑھے، لقمہ اجل بن گئے۔ فرانسیسی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے تحت اسکولوں کو معطل کرنا پڑا، بیرونی تقریبات ملتوی کرنی پڑیں اور پبلک مقامات پر الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرنی پڑی کیونکہ الکحل جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کو تیز کرتی ہے۔
موسمیاتی نظام جیسے ہی مشرق کی طرف منتقل ہوا، اس نے نئے ریکارڈ بنانا شروع کر دیے۔ سلوواکیہ میں جمعہ کی رات تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 26.3سے نیچے نہیں گرا۔ رات کے وقت اس قدر زیادہ درجہ حرارت انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کرنے کا موقع نہیں دیتا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ لہر پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔
سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ حالیہ گرمی کی لہر کوئی قدرتی واقعہ نہیں ہے۔ عالمی ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔’
صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانوں نے فوسل فیول (کوئلہ، تیل، اور گیس) کے بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ زمین نے سورج کی گرمی کو اپنے اندر قید کرنا شروع کر دیا ہے۔
سائنسی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس ہفتے رات کے وقت کے درجہ حرارت کو دو دہائیوں (20 سال) پہلے کے مقابلے میں 100گنا زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب راتیں بھی ٹھنڈی نہیں رہیں، جو کہ گلوبل وارمنگ کا ایک بھیانک رخ ہے۔
شدید گرمی کی یہ لہر محض تھرمامیٹر کے پارہ بڑھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی اور ملکی نظام کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کرنے کے لیے بنا ہے۔ جب درجہ حرارت مسلسل چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے تو انسانی جسم کا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام فیل ہو جاتا ہے۔
فرانس سمیت دیگر ممالک میں درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نیند کی کمی اور مسلسل شدید گرمی کے ماحول میں رہنے سے انسانی رویوں میں چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
یورپی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تاریخی طور پر سرد موسم کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گھروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ (اے سی)کا نظام اس سطح پر موجود نہیں ہے جیسا کہ ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے لوہے کی پٹریوں کے پھیلنے اور مڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے یا سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس اور جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہونے کی وجہ سے ان پاور پلانٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
کئی ممالک میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔ اس سے روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاحت، جو کہ اٹلی اور فرانس کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، اس ہیٹ ویو کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔
ڈونر ویٹر کے ماہرِ موسمیات کارسٹن برانڈٹ سمیت دیگر عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔
اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا توجو ہیٹ ویو پہلے صدی میں ایک بار آتی تھی، وہ اب ہر دو سے تین سال بعد آیا کرے گی۔یورپ کا موسم بتدریج نیم صحرائی (Semi-arid) شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں گرمیاں طویل اور خشک، جبکہ سردیاں انتہائی مختصر ہوں گی اورزراعت کا نظام تباہ ہو جائے گا، کیونکہ فصلوں کو اگنے کے لیے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عالمی تباہی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ہنگامی بنیادوں پر دوہرا لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔فوسل فیول کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کی طرف منتقلی۔ جنگلات کا تحفظ اور شجرکاری مہم۔ یورپی شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو گرم موسم کے مطابق ڈھالنا۔ عمارتوں کو ‘گرین روفس’ (Green Roofs) اور انسولیشن کے ذریعے ٹھنڈا رکھنا۔
جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک میں ریکارڈ توڑنے والی یہ ہیٹ ویو قدرت کی طرف سے ایک انتباہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال میں موجود ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب بھی دنیا کے امیر اور صنعتی ممالک نے پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) پر عمل کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو محدود کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اب وقت تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اور انقلابی اقدامات کا ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
