دنیا
دوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران کی تردید
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے منگل کے روز قطر میں ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے۔
یہ بات چیت مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے سے متعلق ہے۔ جنگ کو روکنے اور انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدہ جھڑپوں کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار رہا ہے اور دونوں فریقین کے متضاد بیانات نے بھی اسے الجھا دیا ہے۔
پیر کے روز ٹرمپ کی جانب سے ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایران کے ساتھ دوحہ ملاقات کے دعوے کے فوراً بعد، ان کے ترجمان نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی مندوب اسٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے مشیر و داماد جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے دوحہ جا رہے ہیں۔
سی این این نے منگل کی صبح رپورٹ کیا کہ وِٹکوف قطر کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ تاہم، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک کے ماہرین کا ایک وفد اس ہفتے دوحہ کا دورہ کرے گا، لیکن انہوں نے امریکیوں کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئے ہیں” اور واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات پر کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔
انتہائی اسٹریٹجک آبنائے پر ایران کے کنٹرول نے بارہا کشیدگی کو جنم دیا ہے، جس کی تازہ ترین مثال اتوار کی صبح سامنے آئی جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے “تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل ایرانی جارحیت” کے جواب میں ایران کے 10 فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔ تہران نے کہا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کے ذریعے اس کا جواب دیا۔ آبنائے کی ناکہ بندی مذاکرات میں ایک بڑا رکاوٹی نقطہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اور عمان اس آبنائے کی سرحدوں پر واقع ہیں، جہاں سے تنازع سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا پانچواں حصہ گزرتا تھا، اور تہران نے پیر کے روز بتایا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی بات چیت کی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر لکھا، “مسقط کے دورے کے دوران، مشترکہ ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔” یہ آبنائے عمانی اور ایرانی علاقائی پانیوں پر مشتمل ہے، لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت یہ دونوں عام طور پر بحری جہازوں کا راستہ نہیں روک سکتے اور نہ ہی ٹول ٹیکس وصول کر سکتے ہیں۔
ایران نے اتوار کے روز خبردار کیا تھا کہ بحری جہازوں کی جانب سے ہرمز کے ذریعے اس کے پسندیدہ راستے کو بائی پاس (نظرانداز) کرنے کی کوئی بھی کوشش مشرق وسطیٰ میں “تناؤ میں اضافہ” کرے گی۔
ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ آبنائے سے گزرنے والے جہاز اس کے اپنے ساحلوں کے قریب واقع ایک راہداری سے گزریں۔ اس مفاہمت نامے پر کیسے عملدرآمد کیا جائے گا یہ اب بھی غیر واضح ہے، اور تہران خاص طور پر سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کے معاملے پر انتہائی حساس ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے درمیان ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں پیرس اور مسقط نے کہا کہ وہ بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے مشترکہ آپریشن کریں گے۔ جواب میں، غریب آبادی نے اصرار کردیا کہ معاہدے کے تحت بارودی سرنگیں ہٹانے کی کوششیں صرف ایران کو کرنی ہیں۔
غریب آبادی نے لکھا، “صورتحال حساس اور پیچیدہ ہے۔ ہم فرانس کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے اسے مزید پیچیدہ نہ بنائے۔” میری ٹائم ٹریکنگ فرم ‘کے پلو’ کے ڈیٹا کے مطابق، ہفتے کے آخر میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ایک جہاز پر حملے کے بعد ٹریفک سست ہو گئی، جہاں ہفتے کے روز 29 تجارتی جہاز اور اتوار کو صرف 12 جہاز گزرے۔ کے پلو کے ڈیٹا کے مطابق، کسی بھی جہاز نے عمانی پانیوں سے گزرنے والے جنوبی راہداری کا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایک اور ٹریکر ‘اے ایکس ایس میرین’ نے پایا کہ 44 جہازوں نے عوامی طور پر اپنی پوزیشن ظاہر کرنا بند کر دی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس مہینے کے شروع میں ہونے والے مفاہمت نامے کے شائع شدہ متن کے مطابق، ایران عمان اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے آبنائے کے مستقبل کے انتظام کا تعین کرے گا، لیکن یہ بین الاقوامی قانون کے “مطابق” ہونا چاہیے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور ان اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران کے رہبر اعلی کے مشیر محمد مخبر نے ایکس پر لکھا کہ جب تک ایران آبنائے کا انتظام سنبھال رہا ہے، واشنگٹن کے “خطے میں بالادستی کے خواب پورے نہیں ہوں گے”۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
دنیا
ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار
تہران، ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی ’’یک طرفہ اقتصادی پابندیاں‘‘ استعمال کر رہا ہے جو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے حالیہ امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں عراقچی نے واشنگٹن کی پابندیوں کی مہم کو ’’ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر تہران کے خلاف غیر قانونی، یک طرفہ اور جبری اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔
عراقچی نے کہا، ’’پابندیاں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس سے زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل، انسانی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔
عراقچی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ممالک کو ایران کے ساتھ قانونی اقتصادی اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور کمپنیوں پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا بند کرے اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
