ہندوستان
ہند-آسٹریلیا نے دفاعی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو نئی جہت عطاکی : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندستان اور آسٹریلیا کی شراکت داری مشترکہ مستقبل کو نئی شکل دینے والی ہے اور اس سمت میں آگے بڑھتے ہوئے دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، سائبر، جوہری توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے ہیں آسٹریلیا کے دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو میلبورن میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البنیز کے ساتھ تیسرے سربراہ اجلاس میں حصہ لینے کے بعد مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
دونوں ممالک دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر بھی تیزی سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطہ دونوں ممالک کی مشترکہ خواہشات کا بھی عکاس ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے ہندستان اور آسٹریلیا کو دو متحرک جمہوری اور اہم سمندری طاقتیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جامع اسٹریٹجک شراکت داری نے گزشتہ چند سالوں میں بے مثال ترقی کی ہے اور آج کی بات چیت کے ذریعے ہمارے تعاون میں کئی نئے جہات شامل ہوئی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے پر جلد کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے متوازن، پرجوش اور باہمی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ ہم دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر بھی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک قابل تجدید توانائی کی شراکت داری، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتوں کے درمیان تعاون پر خصوصی زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”وزیر اعظم سوریہ گھر یوجنا کو تعاون فراہم کرنے کے لیے ہم نے مل کر گجرات میں روف ٹاپ سولر ٹریننگ اکیڈمی قائم کی ہے۔ یہ اکیڈمی بہت سی خواتین اور نوجوانوں کی مہارت کے فروغ میں اہم تعاون دے گی۔“ مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ اس سے آسٹریلیا سے ہندستان کو یورینیم کی فراہمی کا راستہ ہموار ہو گا اور صاف توانائی سے جڑے ہمارے مقاصد کو نئی طاقت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون ہماری اسٹریٹجک سکیورٹی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ”اسی سوچ کے ساتھ آج ہم نے سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز پر ہندستان-آسٹریلیا شراکت داری (اے آئی-پیکٹس) کا آغاز کیا ہے۔ ہم مل کر اہم معدنی راہداری کی تعمیر پر بھی کام کریں گے۔“ ہند-بحرالکاہل خطے کو ہندستان اور آسٹریلیا جیسے ہم خیال جمہوری ممالک کی مشترکہ خواہشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہمارا سمندری سکیورٹی تعاون گائیڈ لائن ہند-بحرالکاہل خطے میں ہماری مشترکہ کوششوں کو نئی طاقت فراہم کرے گا۔ ہم جہاز سازی، جہازوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کے شعبے میں بھی مل کر آگے بڑھیں گے۔“
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے آج ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ ہندستان-آسٹریلیا دفاعی اختراعی راہداری کے ذریعے ہم دفاعی شعبے کے اختراعی کاروباری اداروں اور صنعتوں کو جوڑنے کا کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان اور آسٹریلیا کا ماننا ہے کہ دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی مشترکہ ہے، ہمارا عزم اٹوٹ ہے اور ہمارا تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
دنیا بھر میں کئی مقامات پر جاری تنازعات کے بارے میں مسٹر مودی نے کہا، ”ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تناؤ اور جنگوں کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہم پورے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام، جہاز رانی کی آزادی اور اصولوں پر مبنی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔“
انہوں نے کہا کہ آنے والے سال میں دونوں ممالک میں اولمپک اور دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد ہو گا۔ اس سے نہ صرف ہمارے کھیلوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے کئی نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
مسٹر مودی نے آسٹریلیا کے ساتھ شراکت داری کو مستقبل کو نئی شکل دینے والی قرار دیتے ہوئے کہا، ”آج کی ہماری گفتگو کا خلاصہ واضح ہے۔ ہندستان اور آسٹریلیا کی شراکت داری صرف حال تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کو بھی نئی شکل دینے والی شراکت داری ہے۔ ہم اپنے مشترکہ وژن اور یکساں مقاصد کے ساتھ مل کر مسلسل آگے بڑھتے رہیں گے۔“
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
