ہندوستان
‘کم از کم اچھی حکمرانی، زیادہ سے زیادہ لیپا پوتی’ ہے مودی حکومت کی پالیسی : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بدعنوانی کے معاملات کو دبانے اور جوابدہی سے بچنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی اصل پالیسی ‘کم از کم حکمرانی، زیادہ سے زیادہ لیپا پوتی’ کی رہی ہے کانگریس شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک بیان میں کہا کہ مئی 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر مودی نے ‘نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا’ کا نعرہ دیا تھا لیکن یہ دعویٰ پوری طرح سے کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 8نومبر 2016 کی مسٹر مودی کی نوٹ بندی کے اعلان کو ‘منظم لوٹ اور قانونی لوٹ’ بتانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد گجرات اسٹیٹ پٹرولیم کارپوریشن (جی ایس پی سی) کو او این جی سی میں ملا کر 20 ہزار کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کو چھپانے، انتخابی بانڈ اسکیم کے ذریعے مبینہ ‘چندہ دو، دھندا لو’ نظام، رافیل سودے پر اٹھے سوالات، بغیر شفافیت اور جوابدہی والے پی ایم کیئرز فنڈ اور آیوشمان بھارت اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا جیسی بڑی سرکاری اسکیموں میں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹوں میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کئی اور واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ‘نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا’ کے دعوے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کا معاملہ ملک کے عقیدے کے ساتھ دھوکہ ہے اور کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے حکم کے باوجود اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ پر اپنے اہل خانہ کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے سنگین الزامات لگے ہیں اور وہ بھی عہدے پر برقرار ہیں۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتوں کو مختلف قسم کے معاشی ترغیبات دے کر توڑا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت میں ایک ریاستی وزیر اپنی ہی وزارت کی اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے الزامات کے باوجود عہدے پر برقرار ہیں۔ اسی طرز پر وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی میں مرکزی وزیر کے چار قریبی ساتھیوں کو اچانک ہٹائے جانے، وزارت سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی ای-20 پالیسی سے مرکزی وزیر کے خاندان کو مبینہ فائدہ پہنچانے اور دہلی کی وزیر اعلیٰ کے خاندان کی انتظامی کاموں میں مبینہ مداخلت جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی ایسے وزیر تعلیم کو بھی عہدے پر برقرار رکھے ہوئے ہیں جن کے دور کار میں امتحانی نظام کرپٹ اور سمجھوتہ زدہ ہو گیا ہے اور اس سے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی امیدوں اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے۔
مودی حکومت کی پہچان اب ‘کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لپا پوتی’ بن گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا حقیقی منتر ‘نا کھاؤں گا، نا کھانے دوں گا’ نہیں بلکہ ‘کھاؤں گا، کھانے دوں گا اور کھلاؤں گا’ بن گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ گڈ گورننس کی بات کرنے والی حکومت کا کام ‘کم از کم گڈ گورننس، زیادہ سے زیادہ لپا پوتی’ کی پالیسی پر مبنی ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ م الف
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
