ہندوستان
اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں روز بھی سوالیہ وقفہ نہ ہو سکا
نئی دہلی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث جمعہ کو راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں روز بھی سوالیہ وقفہ نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی اس سے قبل بھی اسی معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث وقفۂ صفر (زیرو آور) کی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔ پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کا آج پانچواں دن ہے، لیکن اب تک ایوان میں کوئی باقاعدہ کارروائی انجام نہیں دی جا سکی ہے۔
ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔ قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے اظہارِ خیال کی اجازت طلب کی، جس پر چیئرمین نے کہاکہ “آپ کی اپنی جماعت کے ارکان ہی اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھ رہے، ایسے میں میں کیا کر سکتا ہوں”
اس کے بعد جیسے ہی مسٹر کھڑگے نے بولنا شروع کیا، حکمراں جماعت کے ارکان نے بھی شور شرابہ شروع کر دیا۔ چیئرمین نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دی۔
دونوں جانب سے شدید ہنگامے کے دوران مسٹر کھڑگے نے کہاکہ “میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آ کر بیان دینا چاہیے، اس کے بعد ہم بحث کریں گے۔” ان کے یہ کہتے ہی چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل صبح 11 بجے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی پرچہ لیک کے معاملے پر بحث کرانے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے ہنگامہ کیا، جس کے باعث وقفہ صفر نہیں ہو سکا۔
چیئرمین نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے سامنے رکھنے کے بعد جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع کرنی چاہی، اپوزیشن ارکان نے نیٹ پرچہ لیک کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی۔
چیئرمین نے مسٹر کھڑگے کو اظہارِ خیال کی اجازت دی۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ پیر کے روز نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر جس طرح لاٹھی چارج کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ تاہم وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر سکے تھے کہ چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل چیئرمین نے ہر سال 26 جولائی کو منائے جانے والے کارگل وجے دیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کارگل کی چوٹیوں سے پاکستان کی حمایت یافتہ دراندازوں کو نکال باہر کرنے میں بھارتی افواج کی بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر فوجیوں کی جرأت اور قربانی کو سلام پیش کیا جائے۔ ایوان نے کارگل کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
