ہندوستان
مظاہرین کےخلاف پولیس کی کارروائی نہ رکی تو دوبارہ مظاہرہ کریں گے: سی جے پی
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آسام، بہار، مغربی بنگال اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں مظاہرین اور طلبہ کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی اپنی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا تو پارٹی دوبارہ تحریک چلانے پر مجبور ہوگی پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے پیر کو ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی نہ کرنے سے متعلق معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
مسٹر رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہار اور مغربی بنگال میں سینکڑوں طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں سینکڑوں طالب علموں کی نگرانی کی جا رہی ہے نیز انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دہلی میں مظاہرین کو لاجسٹک مدد پہنچانے والے لوگوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔”
مسٹر رانکا نے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں، گرفتار طالب علموں کو رہا کیا جائے نیز مستقبل میں دہلی پولیس، مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی پولیس کسی بھی مظاہرین کے خلاف نیا معاملہ درج نہ کرے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانونی معاملات سے متعلق تحریری معاہدہ حکومت کی طے شدہ وقت کے مطابق منگل تک فراہم کرایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کے تحت اگر اس سمت میں کارروائی نہیں ہوئی تو سی جے پی پھر سے دھرنا مظاہرہ شروع کرے گی۔
اس سے پہلے پارٹی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بھی بیان جاری کر کے کہا تھا کہ حکومتِ ہند کی یقین دہانی کے بعد ہی سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ واپس لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف تادیبی کارروائی جاری رہتی ہے تو یہ حکومت کے وعدے اور لاکھوں نوجوانوں کے اعتماد کے ساتھ اعتماد شکنی ہوگی۔
مسٹر داس نے کہا کہ سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومتِ ہند کی اس یقین دہانی کے بعد واپس لیا ہے کہ کسی بھی بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت والی ریاست میں مظاہرہ کرنےعالے کسی بھی کارکن کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ آسام، مغربی بنگال اور بہار سے مظاہرین کو حراست میں لینے، گرفتار کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی خبریں شدید تشویش کا باعث ہیں۔
بیان میں کہا گیا، “ہم ہر مظاہرین کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم ان تمام ریاستوں میں وکلاء کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ حراست میں لیے گئے لوگوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہر ممکن قانونی امداد دی جا سکے۔ یہ ہم پہلے دن سے کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا، “ہم حکومتِ ہند سے، خصوصاً جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کا احترام کریں اور حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت دیں کہ ملک میں کسی بھی مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔ مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز کو بھی واپس لیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے حکومتِ ہند کو یاد دلایا کہ اس سلسلے میں انہیں تحریری ضمانت منگل (28 جولائی) تک فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ پارٹی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومت پر بھروسے کی بنیاد پر ہی ختم کیا تھا کہ وہ اپنے وعدے پر کھری اترے گی۔ اس وعدے کو توڑ کر نہ صرف حکومت سی جے پی سے اعتماد شکنی کرے گی، بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کے بھروسے کو بھی توڑے گی جنہوں نے مظاہرے کے بجائے بات چیت کا راستہ چنا۔
بیان میں کہا گیا، “اس طرح کی اعتماد شکنی نوجوانوں کو قطعی ناقابل قبول ہے۔ حکومتِ ہند کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اس کی ساکھ صرف وعدہ کرنے سے نہیں، بلکہ اس وعدے کو پورا کرنے سے ہے۔”
بیان میں نوجوان مظاہرین کو یقین دلایا گیا کہ وہ ڈٹے رہیں اور سی جے پی ان کے ساتھ ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ مسلسل صورتحال پر نظر بنائے ہوئے ہے اور حکومت نیز بی جے پی-این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں حکومت سے انتہائی مستعدی، ذمہ داری اور نیک نیتی سے کام کرنے کی امید رکھتی ہے۔
بیان میں کہا گیا، “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام حراست میں لیے گئے یا گرفتار لوگوں کو فوراً، اور ہر حال میں کل تک رہا کیا جائے اور تمام ایف آئی آرز فوراً واپس لی جائیں۔ ایسا نہ ہونے پر ہم آگے ضروری قدم اٹھائیں گے۔”
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
