ہندوستان
حکومت اور سماجی تنظیمیں 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیےپرعزم: مرکزی وزیر ساوتری ٹھاکر
نئی دہلی، مرکزی وزیر مملکت برائے خواتین و بہبود اطفال ساوتری ٹھاکر نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے والی 250 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کے نیٹ ورک ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے ملک بھر سے آئے ہوئے معاونین کے چار روزہ قومی مشاورتی اجلاس “انشورنگ اے چائلڈز رائٹس، پوٹینشل اینڈ پراسپیریٹی” کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سب کے تعاون اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مدد سے 2030ء تک ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کے ہدف کو حاصل کر لے گی۔
اس قومی مشاورتی اجلاس میں ملک کے تمام 782 اضلاع کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ساوتری ٹھاکر نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنا بے حد چیلنجنگ ہوتا ہے، لیکن حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آپ سب ان تمام چیلنجوں پر قابو پا رہے ہیں۔ کسی بھی بچے کی زندگی بچانا سب سے نیکی کا کام ہوتا ہے۔ کم عمر بچیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر کبھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹ پاتیں۔ ایسی بچیوں کو کسی فرشتہ صفت انسان کا انتظار ہوتا ہے اور انہیں جنسی استحصال کی دلدل سے آزاد کرانے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے رضاکار کسی فرشتے سے کم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2030ء تک بچپن کی شادی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کو کامیاب بنانے کے لیے کئی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس مہم کو کامیاب بنانے کی سمت میں ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس خواب کو پورا کرنے میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش رہے گا۔
اس موقع پر ‘ایم پیز فار چلڈرن’ کے کنوینر اور لوک سبھا میں تلگو دیشم پارٹی کے پارلیمانی لیڈر لاوو کرشنا دیورایلو نے کہا کہ بچوں کی شادی کے خلاف شروع کی گئی ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی یہ تحریک اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کوشش ہے اور بھارت نے دکھا دیا ہے کہ بچوں کی شادی کا خاتمہ ممکن ہے۔ واضح رہے کہ لاوو نے سوشل میڈیا کے خطرات سے بچوں کو بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک پرائیویٹ ممبر بل بھی پیش کیا ہے۔
‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے بانی اور بچوں کے حقوق کے معروف کارکن بھون ریبھو نے کہا، “27 نومبر 2024ء کو ‘بال ویواہ مکت بھارت’ مہم سے نکلنے والی چنگاری جلد ہی ایک ملک گیر تحریک میں بدل گئی۔ تب سے یہ تحریک انصاف، ٹیکنالوجی، قیادت اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہر بچے کی بااختیاری کے ایک وسیع نقطہ نظر میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بھارت یہ دکھا رہا ہے کہ جب حکومتیں، سول سوسائٹی، تعلیمی شعبہ، برادری اور نوجوان کسی مشترکہ ہدف کے لیے متحد ہو جائیں تو تبدیلی یقینی ہے۔ اب یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر کوئی ملک سب سے اہم سرمایہ کاری کر سکتا ہے تو وہ بچوں پر سرمایہ کاری ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم کسی گاؤں میں بچوں کی شادی روکتے ہیں تو ہم صرف ایک بچے کا تحفظ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ پوری برادری کو ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ ایک جدید معاشرے میں بچپن کی شادی کی کوئی جگہ نہیں ۔
حکومت کے ساتھ مل کر گزشتہ تین برس میں ہم نے ساڑھے پانچ لاکھ سے بھی زائد بچوں کی شادیاں روکی ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
وزیراعظم مودی کا وڈودرا میں اپوزیشن پر’ناراض پھوپھا‘ کا دوبارہ طنز، کہا ‘جھوٹ کی گونج’ کو سچائی سے شکست ملے گی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز گجرات کے وڈودرا میں 35,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، وقف اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کہا کہ ہندوستان لوگوں اور سامان کی نقل وحمل میں تیزی لانے، نئے معاشی مواقع پیدا کرنے اور ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے مضبوط کر رہا ہے۔
مہاراجہ سیا جی راؤ یونیورسٹی (ایم ایس یو) پیویلین گراؤنڈ میں “نمو فار وکست بھارت” کے عنوان سے منعقدہ ایک عظیم الشان عوامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ حکومت کا بنیادی ڈھانچے پر زور ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھنے کے مقصد سے ہے۔ اس پروگرام میں نوجوانوں کے ساتھ بات چیت اور اہم انفراسٹرکچر پروجیکٹوں کے آغاز کو ایک ہی جگہ پر لایا گیا، جس میں طلباء، نوجوانوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر رہے ہیں تاکہ لوگوں اور سامان کو تیزی سے منتقل کیا جا سکے، نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور معاشی ترقی کو طاقت دی جا سکے۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ، تجارت اور سرمایہ کاری کی حمایت میں جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور (ڈبلیو ڈی ایف سی) کے تین اہم حصوں کا افتتاح اور قوم کے نام وقف کرنا تھا۔ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈورز کو ہندوستان کی معاشی توسع کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ہندوستان کی لائف لائن ہے۔
ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کو اہم صنعتی اور تجارتی مراکز کے درمیان مال برداری کی تیز تر اور زیادہ موثر نقل و حمل فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے روایتی ریلوے روٹس پر دباؤ کو کم کرنے اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کوریڈور سے بندرگاہوں تک کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے اور مغربی و شمالی ہندوستان میں صنعتی سامان کی نقل و حمل کی حمایت کی بھی توقع ہے۔
ملک کی مینوفیکچرنگ خواہشات کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو جوڑتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان صنعتی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چپس سے لے کر جہازوں تک، ہندوستان اب ایک نیا مینوفیکچرنگ مستقبل بنا رہا ہے، جس میں گھریلو پیداوار، سپلائی چینز اور اسٹریٹجک مینوفیکچرنگ صلاحیتوں پر حکومت کے زور کو اجاگر کیا گیا۔
فریٹ کوریڈور پروجیکٹوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے کئی ریلوے، ہائی وے اور قبائلی کنیکٹیویٹی پروجیکٹوں کا آغاز، وقف اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان پہل قدمیوں کا مقصد علاقائی کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانا، لاجسٹکس نیٹ ورکس کو مضبوط بنانا اور معاشی سرگرمیوں و روزگار کے لیے نئے مواقع کھولنا ہے۔
وڈودرا کی یہ تقریب مودی کے لیے اپوزیشن پر شدید سیاسی حملہ کرنے کا ایک پلیٹ فارم بھی بن گئی۔ ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کی پیشرفت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں، وزیراعظم نے اپنے “ناراض پھوپھا” والے طنز کو دہرایا، اور تجویز دی کہ کچھ لوگ ملک کی کامیابیوں کے باوجود ناخوش رہتے ہیں۔
مودی نے کہا کہ کچھ سیاسی مخالفین ہندوستان کی ترقی سے خوش ہونے کی صلاحیت سے محروم معلوم ہوتے ہیں اور تقریباً ہر چیز کے بارے میں رونا روتے رہتے ہیں۔ خاندانی تقریب میں کسی ناخوش رشتہ دار کی تصویر کشی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایک “ناراض پھوپھا” کی طرح برتاؤ کر رہی ہے جو دوسروں کے ترقی کا جشن منانے پر بھی ناراض رہتا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی حملہ کیا جسے انہوں نے ہندوستان کی کامیابیوں کے گرد “جھوٹ کی گونج” پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا سچ “جھوٹ کی گونج” کو شکست دے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ نوجوان ہندوستانی بالآخر حقائق اور غلط معلومات کے درمیان فرق کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ “جھوٹ کی گونج” نوجوانوں کو گمراہ نہیں کر سکتی، اور مزید کہا کہ “سچائی کی فتح ہوگی”۔
مودی کے تبصرے خاص طور پر ان کوششوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے جن کا مقصد ہندوستان کی ترقیاتی کامیابیوں اور حقائق کو خارج یا کم تر کر کے پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ان بار بار کیے جانے والے دعووں سے گمراہ نہیں ہوگی کہ ملک کی ترقی من گھڑت ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ایف اے
ہندوستان
دہلی میں منی پور کے موسیقار کی موت کے بعد راہل گاندھی نے شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا
نئی دہلی، کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کے روز قومی دارالحکومت میں مقیم شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت پر سوال اٹھاتے ہوئے دہلی میں منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کی موت پر تشویش کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل نے کہا کہ سنگھ کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے گھر کے باہر لوگوں کے ایک گروپ سے شور کم کرنے کی درخواست کرنے گئے تھے۔
راہل نے کہا کہ منی پور کے ایک معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ جی اپنے گھر کے باہر کچھ لوگوں سے شور کم کرنے کا کہنے کے لیے نیچے گئے۔ انہیں اس کی وجہ سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔
اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ ایک باپ کے اپنے ہی گھر کے باہر قتل نے دہلی میں شمال مشرق کے خاندانوں کو یہ پوچھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا وہ دارالحکومت میں محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک باپ کو اس کے اپنے ہی گھر کے باہر، اس کے اپنے ملک کے دارالحکومت میں قتل کر دیا گیا۔ ایسے کئی واقعات کے بعد آج دہلی میں شمال مشرق کا ہر خاندان یہی سوال پوچھ رہا ہے – کیا ہم یہاں محفوظ ہیں؟
راہل نے مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی پولیس سے بڑھتی ہوئی قانون شکنی بالخصوص شمال مشرق کے لوگوں سے جڑے واقعات پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے پوچھا کہ شاہ کی ایم ایچ اے اور دہلی پولیس اس بڑھتی ہوئی لا قانونیت بالخصوص شمال مشرق کے لوگوں کے خلاف روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
کانگریس لیڈر نے اس قتل کی فوری تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکرنے کا مطالبہ کیا۔
راہل نے کہا کہ اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ وکرم جی کے خاندان کے ساتھ میری تعزیت ہے۔
اس قتل نے دہلی میں شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت سے متعلق خدشات اور تشدد و امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت کی طرف ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔ راہل کے تبصرے نے قومی دارالحکومت میں رہنے والے ملک بھر کے باشندوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
وزیراعظم مودی نے بھوپین ہزاریکا کے صد سالہ یوم پیدائش پر انہیں یاد کیا، آسام اور شمال مشرق کی آواز کی ستائش کی
نئی دہلی، 8 وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز معروف موسیقار، شاعر اور فلم ساز بھارت رتن ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا کے 100ویں یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہندوستانی موسیقی میں ان کی غیر معمولی خدمات اور آسام و شمال مشرق کی ثقافتی شناخت کو قومی اسٹیج پر لانے میں ان کے دائمی کردار کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہزاریکا کو ایک “عظیم ثقافتی شخصیت” قرار دیا جن کی آواز آسام سے بہت آگے تک گونجتی رہی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی آواز میں آسام کی روح اور پورے ملک کے لیے شمال مشرق کا جذبہ شامل تھا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہزاریکا کی موسیقی نے بے شمار لوگوں کے افکار، جذبات اور امنگوں کو زبان دی جبکہ لوگوں کو قریب لانے والے ایک پل کے طور پر بھی کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی موسیقی کے ذریعے انہوں نے بے شمار لوگوں کے افکار اور روح کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کے گانوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔
وزیراعظم مودی نے گزشتہ سال گوہاٹی میں ہزاریکا کے صد سالہ یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ تقاریب کے افتتاح میں شرکت کو بھی یاد کیا۔ اس موقع کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یادگاری تقاریب کے آغاز کا حصہ بننا دل سے یاد ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھے گزشتہ سال گوہاٹی میں ان کی 100ویں سالگرہ کی تقاریب کے آغاز میں شرکت کرنا دل سے یاد ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہزاریکا کی حیات وخدمات آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گی۔
آسام کی سب سے نامور ثقافتی ممتاز شخصیات میں سے ایک ہزاریکا نے موسیقی، شاعری اور سنیما کے ذریعے ایک دیرپا اثر چھوڑا۔ ان کے کام میں اکثر عام لوگوں کی زندگیوں، جدوجہد اور امنگوں کی عکاسی ہوتی تھی اور انسانیت، سماجی ہم آہنگی اور اتحاد جیسے موضوعات کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ ان کے منفرد فنکارانہ انداز نے ہندوستان کے وسیع تر ثقافتی منظر نامے کے ایک لازم و ملزوم حصے کے طور پر شمال مشرق کی ثقافتی وسعت کو قائم کرنے میں مدد کی۔
عظیم فنکار کو 2019 میں بعد از مرگ ہندوستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا تھا۔ ان کا 100واں یوم پیدائش خراج عقیدت اور مختلف پروگراموں کے ذریعے منایا جا رہا ہے جس میں ان کے شاندار فنکارانہ سفر اور ہندوستانی ثقافتی اثر و رسوخ کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر4 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا7 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر4 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
