ہندوستان
گیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ووٹ چوری کے لیے ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پارٹی 30 اکتوبر کو عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انڈیا اتحاد سہ پہر ساڑھے تین بجے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی سرکاری رہائش گاہ، 10 راجہ جی مارگ پر یہ پروگرام منعقد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر مقامات پر اس پروگرام کے انعقاد کی اجازت نہ ملنے کے سبب اس مقام کا انتخاب کیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ مسٹر کمار نے آئین کی دفعات اور اس کی روح کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور ملک کے انتخابی جمہوریت کی بنیاد کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر کمار وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور آئندہ ان دونوں کی باری بھی آئے گی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
نئی دہلی، جامعہ، ستائیس اکتوبر کی پوری رات میں وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ، یونیورسٹی املاک کی تباہی اور سیکورٹی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہرے صدمے، مایوسی اور گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔جاری ریلیز کے مطابق یونیورسٹی کی دیواروں پر حملوں کی اطلاع ملنے پر صور ت حال کا جائزہ لینے کے لیے جب پراکٹوریئل ٹیم اور جامعہ کے اساتذہ کیمپس پہنچے تو پتہ چلا کہ احتجاجی طلبہ کے گروپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے گیٹ اور دیواروں میں توڑ پھوڑ کی، گیٹ نمبر چار سی کو نیچے لائے، پتھراؤ کیا، سی سی ٹی وی کنٹرول روم، کیمروں کو نقصان پہنچایا اور ان کا رابطہ منقطع کر دیا۔ مبینہ طور پر نقاب پوش مظاہرین کا ایک گروپ یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹل تک بھی پہنچ گیا تاکہ اضافی مدد حاصل کی جا سکے۔
یونیورسٹی کی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے ویڈیو، جو خود احتجاج کرنے والے طلبہ کی طرف سے پوسٹ کی گئے ہیں، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے ہیں، اس سے یونیورسٹی کمیونٹی کے افراد شدید غم و غصے میں ہیں۔
انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو احتجاج کرنے والے طلبہ کمیٹی کے اراکین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے (کل شام ہونے والی بات چیت کی کوشش، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی ساتویں کوشش تھی) اور دوسری طرف اس کے فوراً بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح یہ امر بھی انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جب خواتین فیکلٹی ممبران، وارڈنز اور پرووسٹس نے احتجاج کرنے والی طالبات کو سمجھانے کی کوشش کی، تو انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ ایسا رویہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ یہ مذاکرات اور پرامن احتجاج کی اصل روح کے منافی بھی ہے اور اسے کمزور کرتا ہے۔
گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات، ایک ایسے ہفتے کے بعد رونما ہوئے ہیں جس میں یونیورسٹی کے دروازے اور چار دیواری پر چڑھنے، انھیں نقصان پہنچانے اور توڑنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے تھے۔ تاہم ستائیس اکتوبر کی رات ہونے والی تباہی کی وسعت، رفتار اور شدت نے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے بھاری لوہے کی سلاخوں، ہتھوڑوں اور دیگر آلات کا استعمال کیا گیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب یونیورسٹی چوبیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو جاری اعلامیے کے مطابق، پہلے ہی آن لائن تدریسی نظام کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔
تباہی کے مناظر دیکھ کر، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے ارکان نے رات بھر پیش آنے والے واقعات پر شدید صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ توڑ پھوڑ کے ان واقعات نے طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کا بنیادی ڈھانچہ، کلاس رومز، لیبارٹریاں اور لائبریریاں، نیز ان کا حفاظتی نظام اور آمد و رفت کے راستے، کیمپس میں ایک محفوظ ماحول برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان سہولیات کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان نہ صرف بڑے پیمانے پر مادی اور مالی نقصان کا باعث بنتا ہے، بلکہ اس سے پوری یونیورسٹی کمیونٹی کی حفاظت اور بہبود بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
سمندری طوفان ‘ارنَب’ آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور، شدید بارش اور ژالہ باری کی وارننگ
نئی دہلی، سمندری طوفان ‘ارنَب’ بدھ کی صبح آندھرا پردیش اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے یانم کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران طوفان کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، جو بڑھ کر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد صبح 8 بج کر 30 منٹ پر یہ ‘انتہائی شدید سمندری طوفان’ سے کمزور ہو کر ‘شدید سمندری طوفان’ میں تبدیل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ یہ طوفان آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شمال سے شمال مغرب کی سمت بڑھے گا اور بتدریج مزید کمزور ہوتا جائے گا۔ اگلے چھ گھنٹوں میں اس کے معمول کے ‘سمندری طوفان’ اور اس کے بعد مزید چھ گھنٹوں میں ‘گہرے دباؤ’ میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
انتہائی شدید سمندری طوفان ‘ارنَب’ کے کمزور پڑنے کے بعد محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مشرقی اور وسطی ہندوستان کے کئی علاقوں میں انتہائی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ تین دنوں کے دوران پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ اور دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ژالہ باری اور تیز آندھی و طوفان کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ گرج چمک اور آندھی آنے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وشاکھاپٹنم میں 22 سینٹی میٹر، کلنگاپٹنم میں 15 سینٹی میٹر، جبکہ کاکیناڈا اور تونی میں 12-12 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ وہیں اڈیشہ کے گوپال پور میں 9 سینٹی میٹر اور پوری میں 7 سینٹی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ کے مطابق 29 اکتوبر کو بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش اور مشرقی اتر پردیش میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ 30 اکتوبر کو بھی بہار اور مشرقی اتر پردیش میں بارش کا یہ خطرہ برقرار رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے کئی اضلاع میں اچانک درمیانے سے شدید درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کے باعث پانی جمع ہونے، سیلاب آنے اور سڑکوں و ریلوے خدمات میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔
پنجاب میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان کہیں کہیں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 سے 31 اکتوبر کے دوران بجلی چمکنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
ہماچل پردیش میں 29 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو آندھی، طوفان اور بجلی چمکنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ کے بعض علاقوں میں 29 اور 30 اکتوبر کو بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اکتوبر کو بعض مقامات پر بجلی چمکنے، جبکہ 30 اکتوبر کو 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ آندھی و طوفان آنے کا امکان ہے۔
اتراکھنڈ میں 28 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بجلی چمکنے اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔
مشرقی اتر پردیش میں بارش کا خطرہ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اور 30 اکتوبر کو ریاست کے اس حصے میں کئی مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش بھی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ گرج چمک کے ساتھ 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے لوگوں کو موسم کی تازہ صورت حال پر نظر رکھنے اور بجلی چمکنے، تیز ہواؤں اور خراب موسم سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ٹاٹا گروپ کو برباد کیے جانے پر خاموش کیوں ہیں کاروباری: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ٹاٹا گروپ کو مجرمانہ طریقے سے برباد کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ملک کے کاروباریوں سے سوال کیا ہے کہ وہ کب تک خاموش رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندستانی کاروبار وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں اور اس طرح کے کاموں کے لیے انصاف یقینی بنایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹاٹا گروپ کو برباد کیا جا رہا ہے اور کوئی بھی کاروباری لیڈر اس پر بولنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں سے پوچھا کہ کیا وہ تب تک خاموش رہیں گے جب تک حکومت ان کے کاروبار پر قبضہ نہیں کر لیتی۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ ٹاٹا گروپ کو مجرمانہ طریقے سے برباد کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ شاہ کے ڈر سے ملک کے کاروباری اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن وہ انصاف یقینی بنائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز میں ان دنوں قیادت اور شیئر بازار میں لسٹنگ کے حوالے سے تنازعہ چل رہا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
