تازہ ترین
عمر عبداللہ اقتدار سے باہر بہترین علیحدگی پسند اور اقتدار میں آکر ظالم وآدم خور:سجاد غنی لون
دھوکہ دہی اور فریب پر مبنی سیاست کیلئے نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین اور سابق ریاستی وزیرسجاد غنی لون نے کہا ہے کہ این سی نائب صدر عمر عبداللہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو وہ بہترین علیحدگی پسند لگتے ہیں اور جونہی اقتدار میں آجاتے ہیں توظالم اور استبداری مین سٹریمر بن جاتے ہیں۔
پٹن میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے عمر عبداللہ پر کم یاداشت رکھنے اور گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری عوام پر نیشنل کانفرنس کے مظالم کو جان بوجھ کر فراموش کرنے کا الزام عائد کردیا۔جلسہ سے جنرل سیکریٹری مولوی عمران رضا انصاری ،صوبائی صدر عباس وانی اور پارلیمانی امیدوار راجا اعجاز علی نے بھی خطا ب کیا ۔
عمر عبداللہ کے ظالمانہ دور حکومت کو یاد کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا”’دودھ کے دھلے‘عمر عبداللہ 2010میں کمسن نوجوانوںکا قتل عام بھول چکے ہیں جنہیں قبرستان میں بھیج کر انہوں نے ان پر منشیات کے عادی اور مجرم ہونے کا لیبل لگایا تھا۔وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور ریاستی وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے افضل گورو کو کشمیری جیل منتقل کرنے کی درخواست کی مخالفت کی ۔عمر عبداللہ شاید یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وہ کشمیر کا پہلاایسا شخص تھاجو1999میں مرکز میں بی جے پی حکومت کا حصہ بنے اور وزیر مملکت برائے خارجہ کی حیثیت سے پوری دنیا گھوم کر ایک ایسے وقت دلّی کے موقف کی آبیاری کی جب کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر تھیں“۔عمر عبداللہ کواُس کے گناہوں کی مزید یاد دلاتے ہوئے سجاد لون نے کہ جب کشمیری مارے جارہے تھے تو عمر عبداللہ پوری دنیا میں ان ہلاکتوں کا دفاع کرتے پھر رہے تھے۔عمر عبداللہ سے سوال کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئر مین نے کہا”کیا عمر عبداللہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں بھاجپا حکومت کے خلاف ووٹ ڈالنے پر سیف الدین سوز کو پارٹی سے نکال دیا؟۔کیا آپ بھول چکے ہیں کہ آپ نے پیلٹ بندوقوں کی خریداری کا آڈر دیا؟۔کیا آپ ہمیں یہ بتاسکتے ہیں کہ خریداری کا وہ آڈر دینے کے پیچھے کیاا رادہ تھا؟۔کیایہ دلّی میں بیٹھے آپ کے عیش پرست دوستوںکے ساتھ ہولی کھیلنے یا دیوالی منانے کیلئے تھا؟“۔لون نے مزید کہاکہ کیا عمر عبداللہ کشمیری عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ کس طرح بی جے پی نے ان کے والد کو نائب صدر ہند کے عہدہ کیلئے بی جے پی/آر ایس ایس/این ڈی اے امیدوار کے طور نامزد کرنے کا وعدہ کیاتھا؟۔
نیشنل کانفرنس قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین کا کہناتھا”بی جے پی اپنے وعدے سے مکر گئی اور فاروق عبداللہ کی بجائے بھیروں سنگھ شخاوت کو اس عہدہ کیلئے نامزد کیا۔کیا طرفہ تماشا ہے کہ آپ مسٹر شخاوت کے ساتھ مقابلے میں تھے،جو سنگھ نظریہ کے سینئر ترین پرچارک تھے اور آپ نائب صدر کے عہدہ تک پہنچتے پہنچتے رہ گئے۔ یہ سنگھ کے انڈیکس میں آپ کے اعلیٰ سکور کا بہترین مظہر ہے“۔
پی سی چیئر مین نے مزید کہا کہ 1999میں عمر عبداللہ نے بی جے پی کو ایک فرمانبردار اولاد کی طرح اپنی خدمات میسر رکھیں اور2010میں وہ پی چدمبرم کی سرکاری فرمانبردار اولاد تھے۔لون کا کہناتھا”2010میں اُس وقت کے وزیر داخلہ کا تابعدار رہ کر عمر عبداللہ نے جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ کی کرسی کا وقار پامال کردیا۔گراوٹ کی یہ انتہا تھی کہ پہلی دفعہ 2010میں سرینگر میں کرفیو میں ڈھیل کا اعلان بھی دہلی سے داخلہ سیکریٹری کیا کرتے تھے ۔کیا عمر عبداللہ انکار کرسکتے ہیں کہ کانفرنس ریاستی اٹانومی کی بیخ کنی کی ذمہ دار ہے اور یہ سب اُسی جماعت کا کیا دھرا ہے ؟۔کانگریس کشمیر کیلئے جب فرشتہ صفت جماعت بن گئی کہ عمر عبداللہ ان کے مستقل دوست بن گئے ؟۔کیا انہوں نے کانگریس کے ساتھ اقتدار میں ایک دفعہ بھی خصوصی پوزیشن کی بیخ کنی اور اس کی بحالی پر ایک آدھا بیان دیا؟“۔
لون نے کہاکہ” یہ لازمی ہے کہ لوگوںکو پتہ چلے کہ 1996میں کس طرح اور کن حالات میں نیشنل کانفرنس کو حکومت تحفے میں دی گئی۔وہ حکومت اُس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راﺅ ،جوسنجیدگی کے ساتھ کشمیریوں کو اندرونی خودمختاری کا سب سے لبرل نظام پیش کرنے کی سوچ رہے تھے ،کی جانب سے کشمیر کے تعلق سے ”آسمان حد ہے“کی پیشکش کے پس منظر میںبنی تھی۔اُس وقت کوئی بھی کشمیری جماعت چناﺅ لڑنے کیلئے تیار نہ تھی تاہم فاروق عبداللہ میدان میں کود پڑے اور اس سمجھوتہ کے شرمناک شرائط بھی 1975کے ایکارڈ جیسی تھیں۔مجھے اقتدار دیجئے ،الیکشن نہیں سلیکشن کریں اور آپ کو بدلے میں کشمیری عوام کو کچھ نہیںدینا پڑے گا“۔
نیشنل کانفرنس قیادت کے قاتلانہ رول کی یاد دہانی کراتے ہوئے سجاد غنی لون نے عمر عبداللہ پر جان بوجھ کر بے گناہ کشمیریوں پر1996سے2002کے درمیان اخوان دور مسلط کرنا بھول جاتے ہیں۔ان کا کہناتھا”کیا ہم عمر عبداللہ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس دور میں کتنے کشمیری مارے گئے اور کتنوں پر اس دور میںپبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیاگیا ؟۔کس طرح فاروق عبداللہ نے پوٹا کا کھلے بانہوں سے استقبال کیا اور اس کو کشمیر تک نہ صرف قانونی رسائی دی جبکہ وہ خوشی خوشی کشمیریوںکو پوٹا کے تحت جیل کے اندر بھیج رہے تھے“۔
عمر عبداللہ پر تیکھے حملے جاری رکھتے ہوئے سجاد لون نے اُن سے پوچھا”کیاا ٓپ کے پاس شرم نہیں بچی ہے ؟ کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ کس طرح آپ کے والد کی حکومت نے ملی ٹنٹوں اور مرکزی وزارت داخلہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کیا؟ یہ2001میں آپ کے والد کی سربراہی میں بدنام زمانہ وزیر اعلیٰ دفتر تھا جس نے میڈیا نمائندوںکو بلا کر انہیں مذاکرات کے مقام سے متعلق جانکاری دی اور یوں نہ صرف مذاکرات ختم ہوئے بلکہ ان ملی ٹنٹوںمیں بیشتر مارے گئے۔کیا آپ کو آپ کے ضمیر پر لاشوں کے بوجھ کا کوئی اندازہ نہیں ہے یا کیا آپ کو بوجھ کا احساس ہونے کیلئے ایک ضمیر کی ضرورت ہے ؟ آپ کیلئے اچھا ہے کہ آپ بے ضمیر ہی رہیں اورنتیجہ کے طور پر بوجھ کے بغیر بھی“۔
نیشنل کانفرنس کودغابازوں کی جماعت ،جس نے ہمیشہ کشمیریوںکو دھوکہ دیا ،قرار دیتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین نے کہاکہ وہ اقتدار کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ان کا کہناتھا”1975میں ریاست کے سابق وزیراعظم شیخ صاحب نے اقتدار کے عوض وزیراعظم کاعہدہ سرینڈ ر کیااورر وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا۔1977میں سابق وزیراعظم اوراُس وقت کے وزیراعلیٰ شیخ صاحب نے وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کی مخالفت کے باوجود بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لایااور1987میں فاروق عبداللہ نے الیکشن میں دھاندلی کی جس کے نتیجہ میں نوجوانوںنے بندوق اٹھائے اور شورش آج تک جاری ہے جس کے نتیجہ میں ایک لاکھ کشمیر ی مارے جاچکے ہیں۔1996میں مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کو اندرونی خودمختاری دینے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے الیکشن عمل میں کود پڑے اور1996سے2002تک لاشوں کے انبار لگ گئے ۔پھر2010میں عمر عبداللہ نے کمسن بچوںکا قتل عام کیا ۔اب لاشوں کے پہاڑ پر کھڑے ہوکر دلّی کا چہیتا عمر عبداللہ کشمیری عوام کو وعظ و نصیحتیں کررہا ہے جو کسی کو قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں“۔
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
