تازہ ترین
بھدرواہ میں دوسرے دن بھی سخت ترین کرفیورہا
خبراردو: جموں وکشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے بھدرواہ قصبہ میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ کشیدگی کے پیش نظر قصبہ میں جمعہ کو لگاتار دوسرے دن بھی سخت ترین کرفیو نافذ رہا۔ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ فی الوقت کرفیو میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ قصبہ میں مجموعی صورتحال پُرامن ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پورے ضلع ڈوڈہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کو دوسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خدمات کسی بھی طرح کی شرانگیز افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے بند رکھی گئی ہیں۔ دریں اثنا سناتن دھرم سبھا بھدرواہ نے پریہار برادران اور آر ایس ایس لیڈر چندر کانت شرما اور ان کے محافظ کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو ڈوڈہ، کشتواڑ اور بھدرواہ میں ہڑتال کی کال دی تھی۔
سناتن دھرم سبھا کا بھدرواہ واقعہ کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے ایک مخصوص طبقے کے املاک کو نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی۔ دوسری جانب ‘اک جٹ جموں’ نامی تنظیم کے صدر انکر شرما نے سناتن دھرم سبھا کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے لئے حساس بھدرواہ قصبہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کے درمیان پچاس سالہ نعیم احمد شاہ ساکنہ قلعہ محلہ کو گولیوں کا نشانہ بناکر ابدی نیند سلادیا جس کے بعد قصبہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ انتظامیہ نے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے قصبہ میں کرفیو نافذ کرکے ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ فوج بھی تعینات کی۔ نزدیکی اضلاع بشمول جموں سے بھی فورسز کی نفری طلب کرکے قصبے میں تعینات کی گئی۔
شہری کی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف قصبہ بھدرواہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جمعرات کی صبح شدید احتجاجی مظاہرے کئے۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس تھانہ بھدرواہ پر پتھرائو کیا جبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ مشتعل مظاہرین نے دو سہ پہیہ اور ایک دو پہیہ گاڑی کو آگ لگادی۔ اس کے علاوہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ ڈاکٹر ڈائفوڈ ساگر نے کہا کہ بھدرواہ قصبے میں شہری کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات اور ملوثین کے خلاف کارروائی میں کوئی لاپرواہی نہیں برتی جائے گی۔
ڈاکٹر ڈائفوڈ جو جمعرات کی علی الصبح سے بھدرواہ میں خیمہ زن ہیں، نے بتایا ‘میں لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ قتل کے اس واقعہ میں کوئی بھی فرقہ وارانہ پہلو شامل نہیں ہے۔ مجرم مجرم ہوتا ہے۔ تحقیقات میں کوئی لاپرواہی نہیں برتی جائے گی۔ ملوثین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی’۔ ایس ایس پی ڈوڈہ شبیر ملک نے یو این آئی کو بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ایک اور سیکورٹی عہدیدار نے بتایا کہ شہری کی ہلاکت کے سلسلے میں اب تک آٹھ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ‘میں نے ضلع مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کی جائے’۔ آزاد نے اس لرزہ خیز قتل میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق فوری اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے امن وامان اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘بھدرواہ میں بدقسمت واقعہ پیش آنے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اشتعال دلانے کے بجائے صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ ہم ضلع و ریاستی انتظامیہ بشمول اعلیٰ پولیس افسروں کے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک سے بھی فون پر بات کی’۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور قتل کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس واقعہ میں ملوث شرپسندوں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے۔
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
