تازہ ترین
کون، کب کتنی مدت تک بھارتی وزیراعظم رہا
خبراردو: بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک ہونے والے انتخابات کی پولنگ کے آخری دن ہی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اس بار بھی نریندر مودی اتحادیوں کی حمایت کے ساتھ ایک بار پھر بھارت کے وزیر اعظم بن جائیں گے اور یہ چہ مگوئیوں سچ ثابت ہوئیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنہا 300 سے زائد نشستیں حاصل کیں جب کہ مجموعی طور پر بی جے پی کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد نے 350 نشستیں حاصل کیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی کو اتنی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور ساتھ ہی 1952 کے بعد کانگریس کے علاوہ کوئی دوسری جماعت پہلی بار ریکارڈ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اگر بی جے پی چاہے تو وہ تنہا بھی حکومت بنا سکتی ہے اور نریندر مودی کسی اتحادی سیاسی جماعت کے ووٹ کی حمایت کے بغیر ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بن جائیں گے، کیوں کہ انہیں وزیر اعظم بننے کے لیے 272 ووٹ درکار ہوں گے اور ان کی پارٹی کے ووٹ ہی 300 سے زائد ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے اتحادیوں سمیت 336 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار یہ پارٹی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
بی جے پی کی واضح برتری کے بعد نریندر مودی ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنائے گئے، کیوں کہ بی جے پی نے کسی اور امیدوار کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان ہی نہیں کیا تھا۔
نریندر مودی مجموعی طور پر بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم ہیں اور انہیں اب تک نہرو و گاندھی خاندان کے بعد سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے والے وزیر اعظم کا درجہ حاصل ہے۔
انگریزوں سے آزادی کے بعد بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں جہاں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات 17 بار منعقد ہوچکے ہیں، وہیں اب تک بھارت پر 15 وزیر اعظم حکمرانی کر چکے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس ہے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم بھی تھے۔
بھارت کے اب تک ہونے والے 15 وزرائے اعظم میں سے پنڈت جواہر لال نہرو وہ واحد شخص تھے جو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ایک بار وہ انگریزوں کی جانب انتقال اقتدار کے تحت وزیر اعظم بنائے گئے اور یوں وہ سب سے زیادہ عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
اگرچہ ان کی طرح اٹل بہاری واجپائی بھی تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، تاہم ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت 2 بار منتخب ہونے والے وزریر اعظم من موہن سنگھ سے بھی کم ہے۔
ان دونوں کے علاوہ بھارت کے 15 میں سے 5 وزیراعظم دو دو بار عہدے پر براجمان ہوئے۔
دو بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے والے دیگر وزرائے اعظم میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی، ان کے بیٹے راجیو گاندھی، گلزاری لال نندا، من موہن سنگھ اور نریندر مودی شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود اقتدار میں سب سے کم عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کا اعزاز گلزاری لال نندا کے پاس ہے۔
گلزاری لال نندا مجموعی طور پر دونوں مدتوں کے دوران محض 26 دن کے لیے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ وہ پہلی اور دوسری مدت کے دوران محض 13، 13 دن کے لیے وزیر اعظم بنے۔
بھارت کے وزرائے اعظم کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے اور کچھ افراد اتفاقی طور پر وزیر اعظم بھی بنے۔
ایسے وزرائے اعظم میں اٹل بہاری واجپائی بھی ہیں جو پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم بنے تو محض 16دن ہی عہدے پر براجمان رہ سکے اور وہ سیاسی اتحاد ہی بکھر گیا جس کے تحت وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ علاوہ ازیں من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں کانگریس نے مجبوری کے تحت وزیر اعظم بنایا۔
ان دونوں وزرائے اعظم کے علاوہ ایچ بی دیوے گوڑا کو بھی بھارت کا اتفاقی اور معجزاتی وزیر اعظم مانا جاتا ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو (16 سال 286 دن)

پنڈت جواہر لال نہرو نہ صرف آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے بلکہ وہ اس سے پہلے بھی ہندوستان کے مقبول سیاسی رہنما تھے اور انہیں موہن داس گاندھی کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
وزیر اعظم بننے سے قبل ہی وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے اور پھر انگریزوں سے آزادی کے بعد وہ برٹش حکومت کی جانب سے انتقال اقتدار کے سیٹ اپ کے تحت 1947 میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔
نہرو پہلی مرتبہ کسی انتخابات کے بغیر ہی اقتدار کی منتقلی کے لیے انگریز سرکار کی جانب سے بنائے گئے سیٹ اپ کے تحت وزیر اعظم بنے تھے۔
بعد ازاں 1952 میں بھارت میں پہلے عام لوک سبھا انتخابات کرائے گئے جن میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور پہلی بار منتخب وزیر اعظم بنے۔
پنڈت جواہر لال نہرو جہاں بھارت کے پہلے اور دوسرے وزیر اعظم بھی بنے، وہیں وہ بیک وقت وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ بھی تھے۔
پہلی منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھارت میں 1957 میں دوسرے انتخابات کرائے گئے اور ایک بار پھر کانگریس نے میدان مارلیا اور تیسری بار بھی جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے۔
لوک سبھا کے تیسرے انتخابات 5 سال بعد مئی اور اپریل 1962 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کو فتح حاصل ہوئی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے، مجموعی طور پر انہوں نے تقریبا 17 سال تک بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دیں۔
بھارت کے نئے آزاد ملک بننے اور اسے کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے میں جواہر لال نہرو کو محنت کرنا پڑی اور ساتھ ہی ساتھ انہیں چین، پاکستان، امریکا اور روس جیسے ممالک سے معاملات کو بھی انتہائی ہوشیاری سے دیکھنا پڑا جس وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی گئی اور بالآخر وہ 27 مئی 1964 کو چل بسے۔
وہ مجموعی طور پر 16 سال 286 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
گلزاری لال نندا (26 دن)

بھارت کے پہلے اور طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے جوہر لال نہرو کے اچانک انتقال کے بعد اس وقت وفاقی وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے گلزاری لال نندا کو 27 مئی کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔
گلزاری لال نندا کو محض 13 دن کے لیے 27 مئی سے 9 جون تک وزیر اعظم بنایا گیا بعد ازاں کانگریس نے اپنی پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم منتخب کیا۔
تاہم بعد ازاں 1966 میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد ایک بار پھر گلزاری لال نندا کو 11 جنوری 1966 سے 24 جنوری 1966 تک دوسری بار نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔
گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر نگراں وزیر اعظم بنے اور وہ مجموعی طور پر 26 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
وہ بھارت کے پہلے نگراں وزیر اعظم بھی بنے۔
لال بہادر شاستری (ایک سال 216 دن)

لال بہادر شاستری کو بعض سیاسی ماہرین بھارت کا دوسرا وزیر اعظم تسلیم کرتے ہیں، کیوں کہ گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر ہی وزیر اعظم بنے تھے۔
لال بہادر شاستری 9 جون 1964 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور ان ہی کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ 1965 میں شروع ہوئی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو بند کرنے کے لیے ازبکستان کے شہر تاشقند میں دونوں ممالک نے جنگی بندی کا معاہدہ کیا اور لال بہادری شاستری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔
تاہم تاشقند معاہدے کے اگلے ہی دن یعنی 10 جنوری 1966 کو وہ تاشقند میں ہی مبینہ دل کا دور پڑنے سے چل بسے، ان کے اہل خانہ نے ان کی موت پر کئی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ لال بہادری شاستری کو کبھی کسی طرح کا دل کا عارضہ نہیں رہا۔
لال بہادر شاستری بھارت کے واحد وزیر اعظم ہیں جن کی موت بیرون ملک ہوئی اور ساتھ ہی وہ دنیا کے ان چند وزرائے اعظم میں بھی شمار ہوتے ہیں جن کی موت بیرون ممالک میں اعلیٰ حکومتی و ریاستی اجلاس کے دنوں کے دوران ہوئی۔
وہ مجموعی طور پر ایک سال 216 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
اندرا گاندھی (11 سال 59 دن)
بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی واحد بیٹی اندرا گاندھی ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، پہلی بار وہ 1966 میں لال بہادر شاستری کی وفات کے بعد وزیر اعظم بنیں اور لوک سبھا کے 1967 میں ہونے والے انتخابات میں بھی ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور وہ ہی وزیر اعظم برقرار رہیں۔
اندرا گاندھی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان کو دو لخت کرنے کی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور واضح طور پر انہوں نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور وہ دنیا کی پہلی حکمران تھیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔
اندرا گاندھی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے بعد ان کی پارٹی میں ہی اختلافات سامنے آئے اور کئی رہنما ان سے روٹھ گئے، کیوں کہ وہ کانگریس کی پالیسی سے ہٹ کر کام کر رہی تھیں، سینیئر سیاستدانوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نئی کانگریس پارٹی کا اعلان کیا اور کہا کہ ماضی کی کانگریس ضم ہوچکی۔
اندرا گاندھی کو والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ مجموعی طور پر 2 مدتوں میں 11 سال سے زائد عرصے تک اپنے قتل تک وزیر اعظم رہیں۔
اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے 1980 میں وزیر اعظم بنیں اور دوسری بار وہ ایسے حالات میں وزیر اعظم بنیں جب ان کے خلاف بھارت بھر میں نفرت پھیلی ہوئی تھی، کیوں کہ انہوں نے پہلی بار وزارت عظمیٰ کے دوران 1975 میں ایمرجنسی نافذ کرکے کئی سیاسی مخالفوں کو سبق سکھانے سمیت عام سیاسی کارکنان اور جماعتوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا تھا۔
اندرا گاندھی کو 31 اکتوبر 1984 میں اپنے محافظوں نے ہی گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔
وہ والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں، وہ مجموعی طور پر 11 سال 59 دن تک بھارت کی وزیر اعظم رہیں۔
مرار جی ڈیسائی (2 سال 116 دن)
اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد 1977 میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں کانگریس سے خفا ہوکر الگ ہونے والے رہنماؤں کی پارٹی جنتا دل نے اکثریت حاصل کی اور کانگریس کے خفا رہنما مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
انہیں بھارت کے عمر رسیدہ ترین وزیر اعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے جو 84 سال کی عمر کے بعد وزیر اعظم بنے اور انہیں یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔
وہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں نائب وزیر اعظم بھی تھے، لیکن اصولی سیاست کی وجہ سے ان کے اندرا گاندھی سے اختلافات بھی ہوئے اور بعد ازاں انہیں اندرا گاندھی کے حکم پر جیل میں بھی ڈالا گیا۔
مرار جی ڈیسائی نے پرانی پارٹی کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے جنتا دل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی کی ٹکٹ پر انتخابات جیتے اور وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو کانگریس کے علاوہ کسی دوسری جماعت سے اس عہدے پر پہنچے تھے۔
وہ مجموعی طور پر ڈیڑھ برس سے بھی کم یعنی ایک سال 116 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
چرن سنگھ (170 دن)
مرار جی ڈیسائی کی جانب سے عمر رسیدہ ہونے کے باعث وزارت عظمیٰ سمیت تمام سیاسی و حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد جنتا پارٹی کے ہی چرن سگھ وزیر اعظم بنے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کانگریس اور اندرا گاندھی کی مدد سے وزیر اعظم بنے۔
جنتا پارٹی کے کئی رہنما پہلے کانگریس کا حصہ تھے، مگر پھر وہ اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ رہنماؤں کے چھوڑ جانے کے بعد اندرا گاندھی کو بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے سیاسی چال چلتے ہوئے چرن سنگھ کو وزیر اعظم منتخب کرانے میں کردار ادا کیا۔
لیکن آگے چل کر چرن سنگھ نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ انہیں کانگریس اور اندرا گاندھی بلیک میل کرنا چاہتی تھیں اس لیے وہ مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہتے وہ مجموعی طور پر 170 دن تک وزیر اعظم رہے۔
چرن سنگھ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1980 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر کانگریس کامیاب ہوئی اور اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں اور 4 سال بعد 1984 میں انہیں قتل کردیا گیا۔
وہ ایک سال سے بھی کم عرصے تک عہدے پر رہے، وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر 170 تک رہے۔
راجیو گاندھی (5 سال 35 دن)
اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس نے ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کیا وہ بھارت کے 7 ویں وزیر اعظم بنے اور اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
راجیو گاندھی کو بھارت کے نوجوان ترین وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ 40 برس کی عمر میں وزیر اعظم بنے، انہیں بھی اپنی والدہ کی طرح کئی طرح کے سیاسی، حکومتی و سیکیورٹی مسائل سے نمٹنا پڑا اور ان ہی مسائل کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی۔
راجیو گاندھی کی دور حکومت میں بھارت سری لنکا اور مالدیپ میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور نسلی تصادم میں ملوث ہوا اور ایسے کام کرنے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی پڑی۔
سیاسی بدعنوانیوں، غلط فیصلوں، دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندی میں مداخلت کرنے کی وجہ سے راجیو گاندھی کی شہرت میں نمایاں کمی ہوئی اور 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
راجیو گاندھی کو 1991 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، وہ مجموعی طور پر 5 سال 32 تک وزیر اعظم رہے۔
وشوناتھ پرتاب سنگھ (343 دن)
وشوناتھ پرتاب سنگھ نے بھی سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تھا لیکن اندرا گاندھی کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد وہ بھی پارٹی کو چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے بھی نئی بننے والی پارٹی جنتا دل میں شمولیت اختیار کی تھی۔
جنتا دل کچھ ہی سال میں کمزور پڑ چکی تھی، جس وجہ سے 1989 کے لوک سبھا انتخابات نے اس نے نیشنل فرنٹ نامی بننے والے سیاسی اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑے اور اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی جس کے بعد وشوناتھ پرتاب سنگھ کو وزیر اعظم بنایا گیا۔
سیاسی اتحاد کے ذریعے بننے والے وشوناتھ پرتاب سنگھ بھارت کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کے بعد 343 دن بعد عہدہ چھوڑنا پڑا اور حکومت وقت سے پہلے ختم ہوگئی اور بھارت میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
لوک سبھا کے 1991 میں ہونے والے انتخابات کے دوران ہی راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا۔
چندر شیکھر (223 دن)
راجیو گاندھی کے قتل کے باوجود لوک سبھا کے انتخابات کا عمل پورا کیا گیا اور اس بار جنتا دل پارٹی یا کانگریس کے بجائے ایک نئی پارٹی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئے۔
لوک سبھا کے دسویں انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اکثریت حاصل کی لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس کے بعد کانگریس نے سماج وادی پارٹی کا ساتھ دیا اور چندر شیکھر بھارت کے نویں وزیر اعظم بنے لیکن ایک سال بعد کانگریس نے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑ دیا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
وہ مجموعی طور پر 223 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
پی وی نرسمہاراؤ (4 سال 330 دن)
کانگریس کی جانب سے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑے جانے کے بعد کانگریس کے پی وی نرسمہا راؤ کو جون 1991 میں وزیر اعظم بنایا گیا اور وہ گاندھی خاندان کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور وہ 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے، ان کی دور حکومت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا سانحہ بھی پیش آیا۔
وہ پہلے غیر ہندی زبان بولنے والے بھارتی وزیر اعظم تھے، ان کا تعلق جنوبی بھارت سے تھا اور ان کی مقامی زبان تیلگو تھی وہ وزیر خارجہ و سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے تھے۔
انہوں نے مجموعی طور پر 4 سال 330 تک وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
اٹل بہاری واجپائی (6 سال 80 دن)
لوک سبھا کے 11 ویں انتخابات 1996 میں ہوئے جن میں اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی نے اکثریت حاصل کی، مگر وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لیے بی جے پی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی اور اٹل بہاری واجپائی بھارت کے 11 ویں وزیر اعظم بنے۔
مگر محض 13 دن بعد ہی اتحادیوں نے اختلافات کی وجہ سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اٹل بہاری واجپائی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اٹل بہاری واجپائی کے بعد ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے والی جماعت جنتا دل پارٹی کے ایچ بھی دیوے گوڑا وزیر اعظم بنے اور وہ اپریل 1997 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔
1998 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر بھارتی جنتا پارٹی کو اکثریت ملی اور اٹل بہاری واجپائی ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 13 ماہ بعد 1999 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی پارٹی کو کامیابی ملی اور اٹل بہاری واجپائی تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2004 تک اپنی مدت پوری کی۔
اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کچھ بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا وہ امرتسر کے راستے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔
اٹل بہاری واجپائی کو رومانوی وزیر اعظم بھی مانا جاتاہے، کیوں کہ وہ شاعر بھی تھے اور ان کے چند گانے بولی وڈ فلموں کا حصہ بھی ہیں اور ان کے کئی اداکاروں خصوصی طور پر اس وقت کی مشہور اداکاراؤں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ انہیں اکثر ملاقاتوں کے لیے مدعو کرتے رہتے تھے۔
وہ مجموعی طور پر تین ادوار میں 6 سال 80 تک عہدے پر براجمان رہے۔
ایچ بی دیوے گوڑا (324 دن)
اٹل بہاری واجپائی کو جون 1996 میں محض 13 دن کے بعد ہٹائے جانے کے بعد ایچ بھی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنایا گیا، ان کا تعلق جنتا دل پارٹی سے تھا، ان کے وزیر اعظم بننے کو بھارتی سیاست میں معجزہ قرار دیا جاتاہے اور انہیں اتفاقی وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ دور دور تک ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات نہیں تھے۔
انہوں نے لوک سبھا کے انتخابات بھی نہیں لڑے تھے وہ اس وقت بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن تھے اور اپنی پارٹی جنتا دل پارٹی کے سربراہ ہونے کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بنے۔
وہ راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے دوسرے شخص تھے، ان سے قبل اندرا گاندھی راجیہ سبھا کی رکن ہوتے ہوئے ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔
ایچ بی دیوے گوڑا جون 1996 سے اپریل 1997 تک وزیر اعظم رہے، وہ مجموعی طور پر 324 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
اندر کمار گجرال (آئی کے گجرال) (332 دن)
ایچ بی دیوے گوڑا کو ہٹائے جانے کے بعد جنتا دل پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن اندر کمار گجرال کو وزیر اعظم بنایا گیا، وہ بھی ایچ بی دیوے گوڑا کی طرح سیاسی اتحاد کے طور پر وزیر اعظم بنے۔
آئی کے گجرال راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے تیسرے شخص تھے۔
ان کے دور حکومت میں اگرچہ بھارت میں کچھ معاشی بہتری آئی، تاہم ان کی حکومت متنازع سیاسی فیصلے کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے، وہ سیاسی اتحاد کے ذریعے ایسے وقت میں وزیر اعظم بنے تھے جب ان کے اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے وفاقی وزرا، ریاستی وزرا اور ریاستی وزرائے اعلیٰ کے خلاف کرپشن کے کیسز چل رہے تھے اور ان پر کرپٹ سیاستدانوں کو تحفظ دینے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں ان کے دور حکومت میں بھارت کے ایک سے زائد ریاستوں میں گورنر راج بھی نافذ کیا گیا، وہ مجموعی طور پر 332 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
من موہن سنگھ (10 سال 2 دن)
ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بھی لوک سبھا سے نہیں بلکہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم بنائے گئے۔
من موہن سنگھ وزیر اعظم بننے سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے جب کہ وہ اس سے قبل کانگریس کی اتحادی حکومتوں کے دوران وزیر خزانہ سمیت کئی اعلیٰ وزارتوں پر براجمان رہ چکے تھے۔
من موہن سنگھ اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی بھی لوک سبھا کے رکن نہیں رہے، تاہم وہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے اور پھر وہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے۔
2004 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں بننے والے سیاسی اتحادی نے کامیابی حاصل کی تو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔
من موہن سنگھ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم بھی بنے، ان کی دور حکومت میں بھارت نے ممبئی حملوں سمیت دیگر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کیا، علاوہ ازیں ان کی دور حکومت میں کرپشن کے کئی اسکینڈل بھی سامنے ائے۔
وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہرو کے بعد اپنی پہلی اور دوسری مدت آئینی طور پر مکمل کی، وہ مجموعی طور پر 10 سال تک وزیر اعظم رہے اور 2014 تک انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، وہ مجموعی طور پر 10 سال 2 دن تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔
نریندر مودی (5 سال 3 دن اور دوسری مدت کے لیے موجودہ وزیر اعظم)
نریندر مودی 2014 میں بھارتی جنتا پارٹی کی سرپرستی میں بننے والے سیاسی اتحاد کی جیت کے بعد وزیر اعظم بنے، وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے سے قبل ملسلس ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔
وزیر اعظم بننے سے قبل وہ 2001 سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے آ رہے تھے اور ان کے دور وزارت اعلیٰ میں ہی گجرات میں 2002 میں مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات رونما ہوئے۔
نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات کی مہم کے دوران واضح طور پر ہندو توا اور مسلمانوں سے نفرت کی مہم چلائی، کئی جارحانہ اور متنازع بیانات دیے، لیکن اس کے باوجود وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی کے بعد بی جے پی کے دوسرے وزیر اعظم ہیں جو مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
نریندر مودی کی پہلے دور حکومت میں بھارت میں انتہاپسندی، اقلیتوں کے خلاف تعصب پرستانہ رویوں اور تشدد سمیت وہاں دہشت گردی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
نریندر مودی کی دور حکومت میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی جانب سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، علاوہ ازیں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔
نریندر مودی کے پہلے دور حکومت میں جہاں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور ہندو انتہاپسندی میں اضافہ ہوا، وہیں انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے کے دعوے کے ساتھ کرنسی کے نوٹ بھی اچانک بند کردیے جس وجہ وہاں کئی معاشی مسائل بھی سامنے آئے۔
مجموعی طور پر جہاں نریندر مودی کا پہلا دور حکومت متنازع رہا، وہیں کروڑوں عوام نے نریندر مودی کی سخت پالیسیوں کی تعریف بھی کی اور اسی وجہ سے ہی انہیں اور ان کی پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں شاندار کامیابی ملی۔
نریندر مودی دوسری مدت کے لیے جون 2019 سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسری مدت بھی پوری کرلیں گے۔
نریندر مودی کو پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے بعد بھارت کا اب تک کا طاقتور ترین وزیر اعظم بھی مانا جاتا ہے، انہوں نے پہلی مدت کے دوران 5 سال تین دن تک بطور وزیر اعظم ذمہ داریاں سنبھالیں جب کہ وہ دوسری مدت کے لیے 30 مئی 2019 کو وزیر اعظم بنے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
