Connect with us

تازہ ترین

کون، کب کتنی مدت تک بھارتی وزیراعظم رہا

Published

on

خبراردو: بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک ہونے والے انتخابات کی پولنگ کے آخری دن ہی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اس بار بھی نریندر مودی اتحادیوں کی حمایت کے ساتھ ایک بار پھر بھارت کے وزیر اعظم بن جائیں گے اور یہ چہ مگوئیوں سچ ثابت ہوئیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنہا 300 سے زائد نشستیں حاصل کیں جب کہ مجموعی طور پر بی جے پی کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد نے 350 نشستیں حاصل کیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی کو اتنی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور ساتھ ہی 1952 کے بعد کانگریس کے علاوہ کوئی دوسری جماعت پہلی بار ریکارڈ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اگر بی جے پی چاہے تو وہ تنہا بھی حکومت بنا سکتی ہے اور نریندر مودی کسی اتحادی سیاسی جماعت کے ووٹ کی حمایت کے بغیر ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بن جائیں گے، کیوں کہ انہیں وزیر اعظم بننے کے لیے 272 ووٹ درکار ہوں گے اور ان کی پارٹی کے ووٹ ہی 300 سے زائد ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے اتحادیوں سمیت 336 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار یہ پارٹی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

بی جے پی کی واضح برتری کے بعد نریندر مودی ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنائے گئے، کیوں کہ بی جے پی نے کسی اور امیدوار کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان ہی نہیں کیا تھا۔

نریندر مودی مجموعی طور پر بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم ہیں اور انہیں اب تک نہرو و گاندھی خاندان کے بعد سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے والے وزیر اعظم کا درجہ حاصل ہے۔

انگریزوں سے آزادی کے بعد بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں جہاں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات 17 بار منعقد ہوچکے ہیں، وہیں اب تک بھارت پر 15 وزیر اعظم حکمرانی کر چکے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس ہے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم بھی تھے۔

بھارت کے اب تک ہونے والے 15 وزرائے اعظم میں سے پنڈت جواہر لال نہرو وہ واحد شخص تھے جو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ایک بار وہ انگریزوں کی جانب انتقال اقتدار کے تحت وزیر اعظم بنائے گئے اور یوں وہ سب سے زیادہ عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔

اگرچہ ان کی طرح اٹل بہاری واجپائی بھی تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، تاہم ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت 2 بار منتخب ہونے والے وزریر اعظم من موہن سنگھ سے بھی کم ہے۔

ان دونوں کے علاوہ بھارت کے 15 میں سے 5 وزیراعظم دو دو بار عہدے پر براجمان ہوئے۔

دو بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے والے دیگر وزرائے اعظم میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی، ان کے بیٹے راجیو گاندھی، گلزاری لال نندا، من موہن سنگھ اور نریندر مودی شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دو بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود اقتدار میں سب سے کم عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کا اعزاز گلزاری لال نندا کے پاس ہے۔

گلزاری لال نندا مجموعی طور پر دونوں مدتوں کے دوران محض 26 دن کے لیے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ وہ پہلی اور دوسری مدت کے دوران محض 13، 13 دن کے لیے وزیر اعظم بنے۔

بھارت کے وزرائے اعظم کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے اور کچھ افراد اتفاقی طور پر وزیر اعظم بھی بنے۔

ایسے وزرائے اعظم میں اٹل بہاری واجپائی بھی ہیں جو پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم بنے تو محض 16دن ہی عہدے پر براجمان رہ سکے اور وہ سیاسی اتحاد ہی بکھر گیا جس کے تحت وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ علاوہ ازیں من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں کانگریس نے مجبوری کے تحت وزیر اعظم بنایا۔

ان دونوں وزرائے اعظم کے علاوہ ایچ بی دیوے گوڑا کو بھی بھارت کا اتفاقی اور معجزاتی وزیر اعظم مانا جاتا ہے۔

پنڈت جواہر لال نہرو (16 سال 286 دن)

پنڈت جواہر لال نہرو نہ صرف آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے بلکہ وہ اس سے پہلے بھی ہندوستان کے مقبول سیاسی رہنما تھے اور انہیں موہن داس گاندھی کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

وزیر اعظم بننے سے قبل ہی وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے اور پھر انگریزوں سے آزادی کے بعد وہ برٹش حکومت کی جانب سے انتقال اقتدار کے سیٹ اپ کے تحت 1947 میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔

نہرو پہلی مرتبہ کسی انتخابات کے بغیر ہی اقتدار کی منتقلی کے لیے انگریز سرکار کی جانب سے بنائے گئے سیٹ اپ کے تحت وزیر اعظم بنے تھے۔

بعد ازاں 1952 میں بھارت میں پہلے عام لوک سبھا انتخابات کرائے گئے جن میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور پہلی بار منتخب وزیر اعظم بنے۔

پنڈت جواہر لال نہرو جہاں بھارت کے پہلے اور دوسرے وزیر اعظم بھی بنے، وہیں وہ بیک وقت وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ بھی تھے۔

پہلی منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھارت میں 1957 میں دوسرے انتخابات کرائے گئے اور ایک بار پھر کانگریس نے میدان مارلیا اور تیسری بار بھی جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے تیسرے انتخابات 5 سال بعد مئی اور اپریل 1962 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کو فتح حاصل ہوئی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے، مجموعی طور پر انہوں نے تقریبا 17 سال تک بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دیں۔

بھارت کے نئے آزاد ملک بننے اور اسے کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے میں جواہر لال نہرو کو محنت کرنا پڑی اور ساتھ ہی ساتھ انہیں چین، پاکستان، امریکا اور روس جیسے ممالک سے معاملات کو بھی انتہائی ہوشیاری سے دیکھنا پڑا جس وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی گئی اور بالآخر وہ 27 مئی 1964 کو چل بسے۔

وہ مجموعی طور پر 16 سال 286 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔

گلزاری لال نندا (26 دن)

بھارت کے پہلے اور طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے جوہر لال نہرو کے اچانک انتقال کے بعد اس وقت وفاقی وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے گلزاری لال نندا کو 27 مئی کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔

گلزاری لال نندا کو محض 13 دن کے لیے 27 مئی سے 9 جون تک وزیر اعظم بنایا گیا بعد ازاں کانگریس نے اپنی پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم منتخب کیا۔

تاہم بعد ازاں 1966 میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد ایک بار پھر گلزاری لال نندا کو 11 جنوری 1966 سے 24 جنوری 1966 تک دوسری بار نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔

گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر نگراں وزیر اعظم بنے اور وہ مجموعی طور پر 26 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
وہ بھارت کے پہلے نگراں وزیر اعظم بھی بنے۔

لال بہادر شاستری (ایک سال 216 دن)

لال بہادر شاستری کو بعض سیاسی ماہرین بھارت کا دوسرا وزیر اعظم تسلیم کرتے ہیں، کیوں کہ گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر ہی وزیر اعظم بنے تھے۔

لال بہادر شاستری 9 جون 1964 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور ان ہی کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ 1965 میں شروع ہوئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو بند کرنے کے لیے ازبکستان کے شہر تاشقند میں دونوں ممالک نے جنگی بندی کا معاہدہ کیا اور لال بہادری شاستری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

تاہم تاشقند معاہدے کے اگلے ہی دن یعنی 10 جنوری 1966 کو وہ تاشقند میں ہی مبینہ دل کا دور پڑنے سے چل بسے، ان کے اہل خانہ نے ان کی موت پر کئی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ لال بہادری شاستری کو کبھی کسی طرح کا دل کا عارضہ نہیں رہا۔

لال بہادر شاستری بھارت کے واحد وزیر اعظم ہیں جن کی موت بیرون ملک ہوئی اور ساتھ ہی وہ دنیا کے ان چند وزرائے اعظم میں بھی شمار ہوتے ہیں جن کی موت بیرون ممالک میں اعلیٰ حکومتی و ریاستی اجلاس کے دنوں کے دوران ہوئی۔
وہ مجموعی طور پر ایک سال 216 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

اندرا گاندھی (11 سال 59 دن)

بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی واحد بیٹی اندرا گاندھی ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، پہلی بار وہ 1966 میں لال بہادر شاستری کی وفات کے بعد وزیر اعظم بنیں اور لوک سبھا کے 1967 میں ہونے والے انتخابات میں بھی ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور وہ ہی وزیر اعظم برقرار رہیں۔

اندرا گاندھی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان کو دو لخت کرنے کی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور واضح طور پر انہوں نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور وہ دنیا کی پہلی حکمران تھیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔

اندرا گاندھی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے بعد ان کی پارٹی میں ہی اختلافات سامنے آئے اور کئی رہنما ان سے روٹھ گئے، کیوں کہ وہ کانگریس کی پالیسی سے ہٹ کر کام کر رہی تھیں، سینیئر سیاستدانوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نئی کانگریس پارٹی کا اعلان کیا اور کہا کہ ماضی کی کانگریس ضم ہوچکی۔

اندرا گاندھی کو والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ مجموعی طور پر 2 مدتوں میں 11 سال سے زائد عرصے تک اپنے قتل تک وزیر اعظم رہیں۔

اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے 1980 میں وزیر اعظم بنیں اور دوسری بار وہ ایسے حالات میں وزیر اعظم بنیں جب ان کے خلاف بھارت بھر میں نفرت پھیلی ہوئی تھی، کیوں کہ انہوں نے پہلی بار وزارت عظمیٰ کے دوران 1975 میں ایمرجنسی نافذ کرکے کئی سیاسی مخالفوں کو سبق سکھانے سمیت عام سیاسی کارکنان اور جماعتوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا تھا۔

اندرا گاندھی کو 31 اکتوبر 1984 میں اپنے محافظوں نے ہی گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

وہ والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں، وہ مجموعی طور پر 11 سال 59 دن تک بھارت کی وزیر اعظم رہیں۔

مرار جی ڈیسائی (2 سال 116 دن)

اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد 1977 میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں کانگریس سے خفا ہوکر الگ ہونے والے رہنماؤں کی پارٹی جنتا دل نے اکثریت حاصل کی اور کانگریس کے خفا رہنما مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

انہیں بھارت کے عمر رسیدہ ترین وزیر اعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے جو 84 سال کی عمر کے بعد وزیر اعظم بنے اور انہیں یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

وہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں نائب وزیر اعظم بھی تھے، لیکن اصولی سیاست کی وجہ سے ان کے اندرا گاندھی سے اختلافات بھی ہوئے اور بعد ازاں انہیں اندرا گاندھی کے حکم پر جیل میں بھی ڈالا گیا۔

مرار جی ڈیسائی نے پرانی پارٹی کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے جنتا دل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی کی ٹکٹ پر انتخابات جیتے اور وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو کانگریس کے علاوہ کسی دوسری جماعت سے اس عہدے پر پہنچے تھے۔

وہ مجموعی طور پر ڈیڑھ برس سے بھی کم یعنی ایک سال 116 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

چرن سنگھ (170 دن)

مرار جی ڈیسائی کی جانب سے عمر رسیدہ ہونے کے باعث وزارت عظمیٰ سمیت تمام سیاسی و حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد جنتا پارٹی کے ہی چرن سگھ وزیر اعظم بنے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کانگریس اور اندرا گاندھی کی مدد سے وزیر اعظم بنے۔

جنتا پارٹی کے کئی رہنما پہلے کانگریس کا حصہ تھے، مگر پھر وہ اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ رہنماؤں کے چھوڑ جانے کے بعد اندرا گاندھی کو بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے سیاسی چال چلتے ہوئے چرن سنگھ کو وزیر اعظم منتخب کرانے میں کردار ادا کیا۔

لیکن آگے چل کر چرن سنگھ نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ انہیں کانگریس اور اندرا گاندھی بلیک میل کرنا چاہتی تھیں اس لیے وہ مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہتے وہ مجموعی طور پر 170 دن تک وزیر اعظم رہے۔

چرن سنگھ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1980 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر کانگریس کامیاب ہوئی اور اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں اور 4 سال بعد 1984 میں انہیں قتل کردیا گیا۔

وہ ایک سال سے بھی کم عرصے تک عہدے پر رہے، وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر 170 تک رہے۔

راجیو گاندھی (5 سال 35 دن)

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس نے ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کیا وہ بھارت کے 7 ویں وزیر اعظم بنے اور اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

راجیو گاندھی کو بھارت کے نوجوان ترین وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ 40 برس کی عمر میں وزیر اعظم بنے، انہیں بھی اپنی والدہ کی طرح کئی طرح کے سیاسی، حکومتی و سیکیورٹی مسائل سے نمٹنا پڑا اور ان ہی مسائل کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی۔

راجیو گاندھی کی دور حکومت میں بھارت سری لنکا اور مالدیپ میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور نسلی تصادم میں ملوث ہوا اور ایسے کام کرنے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی پڑی۔

سیاسی بدعنوانیوں، غلط فیصلوں، دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندی میں مداخلت کرنے کی وجہ سے راجیو گاندھی کی شہرت میں نمایاں کمی ہوئی اور 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

راجیو گاندھی کو 1991 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، وہ مجموعی طور پر 5 سال 32 تک وزیر اعظم رہے۔

وشوناتھ پرتاب سنگھ (343 دن)

وشوناتھ پرتاب سنگھ نے بھی سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تھا لیکن اندرا گاندھی کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد وہ بھی پارٹی کو چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے بھی نئی بننے والی پارٹی جنتا دل میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جنتا دل کچھ ہی سال میں کمزور پڑ چکی تھی، جس وجہ سے 1989 کے لوک سبھا انتخابات نے اس نے نیشنل فرنٹ نامی بننے والے سیاسی اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑے اور اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی جس کے بعد وشوناتھ پرتاب سنگھ کو وزیر اعظم بنایا گیا۔

سیاسی اتحاد کے ذریعے بننے والے وشوناتھ پرتاب سنگھ بھارت کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کے بعد 343 دن بعد عہدہ چھوڑنا پڑا اور حکومت وقت سے پہلے ختم ہوگئی اور بھارت میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔

لوک سبھا کے 1991 میں ہونے والے انتخابات کے دوران ہی راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا۔

چندر شیکھر (223 دن)

راجیو گاندھی کے قتل کے باوجود لوک سبھا کے انتخابات کا عمل پورا کیا گیا اور اس بار جنتا دل پارٹی یا کانگریس کے بجائے ایک نئی پارٹی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئے۔

لوک سبھا کے دسویں انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اکثریت حاصل کی لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس کے بعد کانگریس نے سماج وادی پارٹی کا ساتھ دیا اور چندر شیکھر بھارت کے نویں وزیر اعظم بنے لیکن ایک سال بعد کانگریس نے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑ دیا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

وہ مجموعی طور پر 223 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

پی وی نرسمہاراؤ (4 سال 330 دن)

کانگریس کی جانب سے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑے جانے کے بعد کانگریس کے پی وی نرسمہا راؤ کو جون 1991 میں وزیر اعظم بنایا گیا اور وہ گاندھی خاندان کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور وہ 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے، ان کی دور حکومت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا سانحہ بھی پیش آیا۔

وہ پہلے غیر ہندی زبان بولنے والے بھارتی وزیر اعظم تھے، ان کا تعلق جنوبی بھارت سے تھا اور ان کی مقامی زبان تیلگو تھی وہ وزیر خارجہ و سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے تھے۔

انہوں نے مجموعی طور پر 4 سال 330 تک وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔

اٹل بہاری واجپائی (6 سال 80 دن)

لوک سبھا کے 11 ویں انتخابات 1996 میں ہوئے جن میں اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی نے اکثریت حاصل کی، مگر وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لیے بی جے پی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی اور اٹل بہاری واجپائی بھارت کے 11 ویں وزیر اعظم بنے۔

مگر محض 13 دن بعد ہی اتحادیوں نے اختلافات کی وجہ سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اٹل بہاری واجپائی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

اٹل بہاری واجپائی کے بعد ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے والی جماعت جنتا دل پارٹی کے ایچ بھی دیوے گوڑا وزیر اعظم بنے اور وہ اپریل 1997 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔

1998 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر بھارتی جنتا پارٹی کو اکثریت ملی اور اٹل بہاری واجپائی ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 13 ماہ بعد 1999 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی پارٹی کو کامیابی ملی اور اٹل بہاری واجپائی تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2004 تک اپنی مدت پوری کی۔

اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کچھ بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا وہ امرتسر کے راستے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔

اٹل بہاری واجپائی کو رومانوی وزیر اعظم بھی مانا جاتاہے، کیوں کہ وہ شاعر بھی تھے اور ان کے چند گانے بولی وڈ فلموں کا حصہ بھی ہیں اور ان کے کئی اداکاروں خصوصی طور پر اس وقت کی مشہور اداکاراؤں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ انہیں اکثر ملاقاتوں کے لیے مدعو کرتے رہتے تھے۔

وہ مجموعی طور پر تین ادوار میں 6 سال 80 تک عہدے پر براجمان رہے۔

ایچ بی دیوے گوڑا (324 دن)

اٹل بہاری واجپائی کو جون 1996 میں محض 13 دن کے بعد ہٹائے جانے کے بعد ایچ بھی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنایا گیا، ان کا تعلق جنتا دل پارٹی سے تھا، ان کے وزیر اعظم بننے کو بھارتی سیاست میں معجزہ قرار دیا جاتاہے اور انہیں اتفاقی وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ دور دور تک ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات نہیں تھے۔

انہوں نے لوک سبھا کے انتخابات بھی نہیں لڑے تھے وہ اس وقت بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن تھے اور اپنی پارٹی جنتا دل پارٹی کے سربراہ ہونے کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بنے۔

وہ راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے دوسرے شخص تھے، ان سے قبل اندرا گاندھی راجیہ سبھا کی رکن ہوتے ہوئے ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔

ایچ بی دیوے گوڑا جون 1996 سے اپریل 1997 تک وزیر اعظم رہے، وہ مجموعی طور پر 324 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

اندر کمار گجرال (آئی کے گجرال) (332 دن)

ایچ بی دیوے گوڑا کو ہٹائے جانے کے بعد جنتا دل پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن اندر کمار گجرال کو وزیر اعظم بنایا گیا، وہ بھی ایچ بی دیوے گوڑا کی طرح سیاسی اتحاد کے طور پر وزیر اعظم بنے۔

آئی کے گجرال راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے تیسرے شخص تھے۔

ان کے دور حکومت میں اگرچہ بھارت میں کچھ معاشی بہتری آئی، تاہم ان کی حکومت متنازع سیاسی فیصلے کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے، وہ سیاسی اتحاد کے ذریعے ایسے وقت میں وزیر اعظم بنے تھے جب ان کے اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے وفاقی وزرا، ریاستی وزرا اور ریاستی وزرائے اعلیٰ کے خلاف کرپشن کے کیسز چل رہے تھے اور ان پر کرپٹ سیاستدانوں کو تحفظ دینے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں ان کے دور حکومت میں بھارت کے ایک سے زائد ریاستوں میں گورنر راج بھی نافذ کیا گیا، وہ مجموعی طور پر 332 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

من موہن سنگھ (10 سال 2 دن)

ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بھی لوک سبھا سے نہیں بلکہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم بنائے گئے۔

من موہن سنگھ وزیر اعظم بننے سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے جب کہ وہ اس سے قبل کانگریس کی اتحادی حکومتوں کے دوران وزیر خزانہ سمیت کئی اعلیٰ وزارتوں پر براجمان رہ چکے تھے۔

من موہن سنگھ اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی بھی لوک سبھا کے رکن نہیں رہے، تاہم وہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے اور پھر وہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے۔

2004 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں بننے والے سیاسی اتحادی نے کامیابی حاصل کی تو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔

من موہن سنگھ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم بھی بنے، ان کی دور حکومت میں بھارت نے ممبئی حملوں سمیت دیگر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کیا، علاوہ ازیں ان کی دور حکومت میں کرپشن کے کئی اسکینڈل بھی سامنے ائے۔

وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہرو کے بعد اپنی پہلی اور دوسری مدت آئینی طور پر مکمل کی، وہ مجموعی طور پر 10 سال تک وزیر اعظم رہے اور 2014 تک انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، وہ مجموعی طور پر 10 سال 2 دن تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔

نریندر مودی (5 سال 3 دن اور دوسری مدت کے لیے موجودہ وزیر اعظم)

نریندر مودی 2014 میں بھارتی جنتا پارٹی کی سرپرستی میں بننے والے سیاسی اتحاد کی جیت کے بعد وزیر اعظم بنے، وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے سے قبل ملسلس ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

وزیر اعظم بننے سے قبل وہ 2001 سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے آ رہے تھے اور ان کے دور وزارت اعلیٰ میں ہی گجرات میں 2002 میں مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات رونما ہوئے۔

نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات کی مہم کے دوران واضح طور پر ہندو توا اور مسلمانوں سے نفرت کی مہم چلائی، کئی جارحانہ اور متنازع بیانات دیے، لیکن اس کے باوجود وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی کے بعد بی جے پی کے دوسرے وزیر اعظم ہیں جو مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

نریندر مودی کی پہلے دور حکومت میں بھارت میں انتہاپسندی، اقلیتوں کے خلاف تعصب پرستانہ رویوں اور تشدد سمیت وہاں دہشت گردی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

نریندر مودی کی دور حکومت میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی جانب سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، علاوہ ازیں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

نریندر مودی کے پہلے دور حکومت میں جہاں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور ہندو انتہاپسندی میں اضافہ ہوا، وہیں انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے کے دعوے کے ساتھ کرنسی کے نوٹ بھی اچانک بند کردیے جس وجہ وہاں کئی معاشی مسائل بھی سامنے آئے۔

مجموعی طور پر جہاں نریندر مودی کا پہلا دور حکومت متنازع رہا، وہیں کروڑوں عوام نے نریندر مودی کی سخت پالیسیوں کی تعریف بھی کی اور اسی وجہ سے ہی انہیں اور ان کی پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں شاندار کامیابی ملی۔

نریندر مودی دوسری مدت کے لیے جون 2019 سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسری مدت بھی پوری کرلیں گے۔

نریندر مودی کو پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے بعد بھارت کا اب تک کا طاقتور ترین وزیر اعظم بھی مانا جاتا ہے، انہوں نے پہلی مدت کے دوران 5 سال تین دن تک بطور وزیر اعظم ذمہ داریاں سنبھالیں جب کہ وہ دوسری مدت کے لیے 30 مئی 2019 کو وزیر اعظم بنے۔

Continue Reading

جموں و کشمیر

اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج

Published

on

سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔

پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔

شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔

شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یو این آئی، ایم جے

Continue Reading

ہندوستان

وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی

Published

on

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔

مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘

وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘

رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔

بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔

یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔

یو این آئی، ایم جے

Continue Reading

دنیا

روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا

Published

on

واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔

واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Advertisement
جموں و کشمیر30 minutes ago

اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج

ہندوستان1 hour ago

وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی

دنیا14 hours ago

روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا

ہندوستان16 hours ago

گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار

دنیا16 hours ago

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی

ہندوستان17 hours ago

ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی

جموں و کشمیر17 hours ago

جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی

جموں و کشمیر18 hours ago

حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر

دنیا18 hours ago

ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار

دنیا18 hours ago

نیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ

دنیا20 hours ago

روبیو قدرتی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی بورڈ کے لیے چار امیدوار مقرر کریں گے

ہندوستان20 hours ago

پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا

جموں و کشمیر21 hours ago

کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا

پاکستان22 hours ago

پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے

دنیا1 day ago

قطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی

دنیا1 day ago

نیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل

دنیا2 days ago

چین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ، بھاری جانی نقصان

دنیا2 days ago

سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر2 days ago

کشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم

دنیا2 days ago

ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

دنیا2 days ago

نیپال میں اچانک سیلاب کے بعد لاپتہ 384 مسافروں میں 105 ہندوستانی شہری شامل

جموں و کشمیر2 days ago

جموں میں این سی بی نے ہیروئن اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، سرحد پار روابط کا شبہ، تین گرفتار

ہندوستان2 days ago

تہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے

ہندوستان2 days ago

عید میلاد النبی پر کاشی میں جوش و خروش، سکیورٹی کے سخت انتظامات

دنیا2 days ago

امیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں

دنیا2 days ago

ہندوستان، چین کے درمیان سرحدی مذاکرات کا 25واں دور، سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان2 days ago

پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق

دنیا2 days ago

ایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے میلاد النبی پر ملک کو مبارکباد دی، زیادہ ہم آہنگی کی امید ظاہر کی

دنیا3 days ago

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی

پاکستان3 days ago

کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

دنیا3 days ago

نئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران

دنیا3 days ago

اقوام متحدہ کے سربراہ کا بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے پر زور، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لیے طریقہ کار کی تجویز

ہندوستان3 days ago

ہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے عید میلاد النبی اور آئندہ تقریبات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا

جموں و کشمیر3 days ago

رکن پارلیمنٹ روح اللہ کا فاروق عبداللہ کے استعفے کے چیلنج پر چند روز میں جواب دینے کا اشارہ

دنیا3 days ago

امریکی وزیر دفاع: “ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں”۔

دنیا3 days ago

اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا

جموں و کشمیر3 days ago

پلوامہ، شوپیان اور سوپور میں 8 مبینہ دہشت گرد ساتھی گرفتار، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: سانبہ کے وجے پور میں پل کا گرڈر گرنے سے ایک ہلاک، تین زخمی

ہندوستان3 days ago

لکھنؤ میں وکیلوں کے چیمبرز کومنہدم کرنے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج

ہندوستان3 days ago

ذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط

ہندوستان3 days ago

کانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے

جموں و کشمیر3 days ago

کینسر کی دوائی دلانے کے نام پر اسکول کے سابق ساتھی سے لاکھوں کی دھوکہ دہی، ای او ڈبلیو نے چارج شیٹ دائر کی

جموں و کشمیر3 days ago

میرواعظ نے 1989 کے جامع مسجد ’آپریشن‘ کو یاد کیا، 37 برس بعد بھی زخم تازہ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر کے سوپور میں اے کے-47 رائفل، دستی بم اور گولہ بارود برآمد

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: سکیورٹی فورسز نے دو مبینہ دہشت گرد ساتھیوں کو گرفتار کیا، اسلحہ برآمد

جموں و کشمیر4 days ago

بجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ

ہندوستان4 days ago

مودی کی نوجوان سفارتکاروں سے بیرونِ ملک ہندستان کے تعلقات کو مزید استوار کرنے کی اپیل

دنیا4 days ago

نئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان5 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین6 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

ہندوستان4 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر5 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین7 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ9 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین7 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل7 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین7 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

پاکستان4 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

دنیا6 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین7 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

ہندوستان7 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین7 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

دنیا7 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین7 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین10 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تجزیہ9 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین8 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر7 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر7 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

کھیل5 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین7 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

کھیل6 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر6 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر5 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین6 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر10 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending