تجزیہ
پنچائت چناؤ غیرسیاسی ہوں
عاصم محی الدین
سرمائی دارالحکومت میں گذشتہ مہینے ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر این این وہرا سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ انہوں نے میٹنگ میں ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تاہم پنچایتی چناؤ منعقد کرانے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔ سیکریٹریٹ واپس آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست میں 15فروری سے پنچائتی چناؤ منعقد ہونگے۔ چناؤ کی تاریخ کا اعلان کے بعد حکومت نے انتخابات منعقد کرانے کیلئے اہلکاروں اور مشینری کو متحرک کردیا جو کہ طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ریاست میں آخری پنچائتی چناؤ 2011میں منعقد ہوئے حالانکہ نامساعدحالات اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کال کے باوجود بھی لوگوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ووٹ ڈالنے والے دیہاتی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کومذاکرات کے ذریعہ ہی حل کیاجاسکتا ہے تاہم ان کا اسرار ہے کہ ووٹ ڈالنے کی وجوہات روز مرہ کے مسائل جیسے پانی،بجلی اور سڑک ہے۔ پنچائت کی مدت 2016میں ختم ہوگئی اور حکومت نئے چناؤ کرانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی لیکن وادی میں حزب کمانڈر برہانی وانی کی موت کے بعد حالات قابو سے باہر ہوگئے جس کے دوران 95افراد مارے گئے ، ہزاروں زخمی ہوئے اور سنگین حالات کے پیش نظر حکومت نے انتخابات کو ملتوی کیا۔ 2017میں سرینگر لوک سبھا سیٹ کے انتخاب کے دوران حالات پھر خراب ہوئے اور عوام پولنگ سٹیشنوں سے دور رہے جس کے باعث پنچائتی چناؤ پھر نہیں ہوسکے۔ پُرتشدد واقعات کی وجہ سے حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی وزارت داخلہ سے صلح و مشورہ کے بعد اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کیلئے چناؤ کرانا منسوخ کیا ۔ یہ سیٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خالی ہوگئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وادی میں موجودہ سنگین حالات،جس میں جنگجو مخالف کاروائیاں اور معرکہ آرائیاںآئے روز ہورہی ہیں،حکومت پنچائت چناؤ کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے حالانکہ متعدد سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں این سی،کانگریس، برسراقتدار بی جے پی، پی ڈی پی اور پی سی نے پہلے ہی کارکنوں کو چناؤ میں حصہ لینے کیلئے تیار کرنے کو کہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چناؤ کو مرحلہ وار بنیادوں پر انجام دیا جائیگا۔ چناؤ پہلے ان جگہوں میں منعقد ہونگے جہاں صورتحال پرامن ہے خاص کر جموں اور شمالی کشمیر کے علاقوں میں۔ سرکاری اہلکاروں کاکہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جنوبی کشمیر میں چناؤ ہونگے حالانکہ وہاں ابھی بھی حالات پُرتناؤ ہیں۔ علیحدگی پسندوں اورجنگجوؤں نے لوگوں کو چناؤ سے دور رہنے کیلئے خبردار کیا ہے،حزب المجاہدین نے ووٹ ڈالنے والوں کیخلاف تیزاب استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حزب المجاہدین آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے کمانڈر سمیر ٹائیگر کو ایک آڈیوبیان میں کہتا ہے کہ جو لوگ چناؤ میں حصہ لینگے، ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالاجائے۔ ریاض نائیکو کے بیان میں سنا جاسکتا ہے کہ 2016میں چھروں سے کئی نوجوانوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں کھودیں اور جو چناؤ لڑینگے ، ان کابھی ایسا ہی حال کیاجائیگا۔ صوتی کلپ میں نائیکو دوسرے کمانڈر سے کہتا ہے کہ اس بار چناؤ میں حصہ لینے والوں کونہ مارا جائیگا اور نہ ہی ان کی مارپیٹ کی جائے گی بلکہ ’ہم ان کے گھروں میں جاکر ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالینگے تاکہ وہ عمر بھرکیلئے اپنے کنبوں پر بوجھ بنے رہیں‘۔نائیکو کاکہنا ہے کہ لوگ پنچائتی چناؤ کے اثرات کے بے خبر ہیں اور انہیں سیاسی ایجنٹ اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بھی لوگوں سے پنچائتی چناؤ سے دور رہنے کو کہا ہے۔ چناؤ میں حصہ لینے والوں کی آنکھوں میں حزب کے تیزاب ڈالنے پر نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے جنگجوؤں کی نکتہ چینی کی ہے۔ ’یہ پیلٹ نہیں ایسڈ ہے، کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کو اندھا بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘۔سرکاری اہلکاروں کاکہناہے کہ ریاست میں 4500پنچائتوں کا چناؤ ہوگا اور یہ تعداد 2011میں کئے گئے چناؤ سے زیادہ ہے جو ایک سال بعد منعقد ہوئے، جس کے دوران جنوبی کشمیر میں 3نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکت ہونے کے بعد حالات خراب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچائت چناؤ کرانے کے اعلان کے بعد جموں میں ایک تقریب میں کہاکہ پنچائت چناؤ کے بعد حکومت ریاست میں میونسپل چناؤ کرانے کا سوچ رہی ہے۔ پنچائتی چناؤ منعقد کرانے کے حکومتی فیصلہ کے تناظر میں سراغرساں ایجنسیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ریاست اور خاص کر وادی میں انتخاب کرانے سے حالات خراب ہونگے ۔200سے زائد مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے چناؤ کو خطرہ ہے اور خاص کر شمالی کشمیر میں جہاں برہانی وانی کے مارے جانے کے بعد متعدد مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے تاہم حکومت چناؤ کرانے کیلئے کمربستہ دکھائی دے رہی ہے۔ چند ہفتہ قبل جموں میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں یونیفائڈ ہائی کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوج کے اعلیٰ افسران اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور ریاستی کی مجموعی صورتحال پر غوروخوض ہوا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ میٹنگ میں پنچائت انتخابات کیلئے سیکورٹی سرفہرست رہی اور چناؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کے بارے میں اعلیٰ افسران سے رپورٹ حاصل کیں۔ چناؤ منعقدکرانے سے قبل سرکار کی ذمہ داری لوگوں کی حفاظت ہے جبکہ ماضی میں منعقدہوئے انتخابات کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ۔سیاسی تجزیہ کاروں کاماننا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونگے جس طرح سرینگر پارلیمنٹ سیٹ کے ضمنی چناؤ کے دوران گذشتہ برس ہوئے اور ووٹ ڈالنے کے دن کئی شہری جان گنوابیٹھے۔ متعدد ایجنسیوں کی طرف سے فیڈبیک ملنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے چناؤ منعقد کرائے اور کئی شہری مارے گئے ۔اس بار حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے سیکورٹی حالات کا مشاہدہ کریں اور جہاں الیکشن منعقد کرانے کیلئے حالات موزوں نہیں ہیں وہاں صورتحال کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی چناؤ کو ہری جھنڈی دکھائے ۔انتخابی عمل کیلئے حکومت اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔ جنگجو قیادت کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ پنچائت چناؤ میں حصہ لینے والے لوگ عام شہری ہیں اور انہیں مارنے سے ان کا کوئی مقصد پورانہیں ہوگا اور نہ وہ حکومت پر دباؤ بناسکتے ہیں۔ لوگ پنچائتی چناؤ میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرنے اور بنیادی ضروریات کوکم کرنے کیلئے حصہ لیتے ہیں تاکہ سیاستدانوں پر انحصار کم ہو۔ اگر حکومت پنچائت چناؤ کو کامیابی اور عوامی شرکت کویقینی بناناچاہتی ہے اس کیلئے سیکورٹی اورسیاسی تجزیہ نگاروں کا ریاست اور مرکز کو مشورہ ہے کہ وہ پنچائت انتخابات کو سیاست کی نظر نہ کریں اورآخرکار عوام کو ہی اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔ چناؤ میں لوگوں کی بھاری شرکت کو بعض اوقات ریاست اور مرکزی حکومت ڈھول پیٹنے میں استعمال کرتی ہے اور علیحدگی پسندوں کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھاری عوامی شرکت کو مختلف وجوہات دیتی ہے۔ 25ہزار پنچوں اور سرپنچوں کی تنظیم جموں وکشمیر پنچائت کانفرنس نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان چناؤ کوسیاست کیلئے استعمال نہ کریں اور کہا کہ وہ مناسب سیکورٹی کی فراہمی کے بعد ہی چناؤ میں حصہ لینگے۔ پنچائت کانفرنس کے چیئرمین شفیق میر نے کہاکہ ’ہم پنچائتی چناؤ میں حصہ لینے کیلے تیار ہیں لیکن ریاستی حکومت کو پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہوگا‘۔ متعدد بار پنچائت ممبران خصوصی طور پر سرپنچوں کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے سے وہ لنگڑے بن جاتے ہیں۔ شفیق میر نے بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط حکومت پر علاقائی، مذہبی اور سیاسی جذبات کااستحصال کرکے امن کو تباہ کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’دونوں جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یو ٹرن لینے سے عوام میں جمہوری اداروں سے پوری طرح اعتماد اٹھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران 15سرپنچ اور پنچ مارے گئے اور 2 درجن پنچائت لیڈران حملوں میں زخمی ہوئے۔ شفیق میر نے کہاکہ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پرہے اور بار بار گذارشات کے باوجودبھی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ہزاروں پنچائت ممبران کو اگرچہ سیکورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو پنچائت چناو کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ چناؤ غیر سیاسی جماعتوں کی بنیادوں پر منعقدہورہے ہیں اور حکومت کویہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان چناؤ کے ذریعہ فنڈوں کی فراہمی کیلئے ایک طریقہ کار پورا کررہی ہے۔ گذشتہ پنچائتی چناؤ میں پنچوں اور سرپنچوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجودان کو اختیارات نہیں دئے گئے جس کے سبب ان کا پنچائتی نمائندہ بننابے کارہوگیا۔ اس بار پنچائتی ممبران کو بااختیار بنایاجاناچاہئے تاکہ وہ زمینی سطح پر کئے جانے والے وعدوں کو پوراکرسکیں۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ