تازہ ترین
دنیا بھر میں ’کورونا وائرس‘کا الرٹ جاری : چین میں ہلاکتوں کی تعداد132تک پہنچ گئی
پوری دنیا میں 4593 افراد متاثر،روکتھام کیلئے سفری پابندیاں مزید سخت
سرینگر :چین سے نمودار ہوئے ’کور ونا وائرس‘ نیپوری دنیا میں اضطرابی کیفیت پیدا کی ہے جبکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا ہے،کیونکہ دنیا میں اس وائرس سے4ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ چین میں کورو نا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد132تک پہنچ گئی ہے۔اس دوران روکتھام کیلئے چین میں سفری پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور چند شہروں میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے ماسک پہننا بھی لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس چین کے دوسرے شہروں کے علاوہ فضائی سفر کرنے والوں کی بدولت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹ ایڈ نوم گیبریس کی قیادت میں ڈبلیو ایچ او کی سینئر ٹیم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور انہیں کورونا وائرس کو لے کر اپنی تازہ رپورٹ سونپی۔دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس کے 4593 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 4537 معاملے چین میں سامنے آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق چین میں اس وائرس سے 4537 افراد کے مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ چین میں اس وائرس سے اب تک132 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چین میں اب تک کورونا وائرس کے4537معاملے درج ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تھائی لینڈ میں 14، سنگاپور میں 7، جاپان میں 6، امریکہ اور آسٹریلیا میں میں 5، کوریا اور ملیشیا میں 4، فرانس میں 3 ویت نام اور کینیڈا میں 2 اور نیپال، سری لنکا اور جرمنی میں 1۔1 مریض کے سامنے آنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ایڈ نوم گیبریس کی قیادت میں ڈبلیو ایچ او کی سینئر ٹیم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور انہیں کورونا وائرس کو لے کر اپنی تازہ رپورٹ سونپی۔
اس ٹیم نے اس وائرس سے لڑنے اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے پنے عزائم کا اظہار کیا۔ اس میٹنگ میں ووہان سمیت دیگر صوبے اور شہروں میں کورونا وائرس میں بہتری کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔اس درمیان میڈیا ذرائع کے مطابق چین میں کوروناوائرس سے 132 افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 5974 لوگوں میں یہ انفیکشن پایا گیا ہے۔ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے یہ اطلاع دی ہے۔ ہیلتھ کمیشن نے کہا’این ایچ سی کو28 جنوری کی رات تک 59 صوبوں سے کل 5974 مریضوں کی اطلاع ملی ہے، جن میں 1239 سنگین حالت میں ہیں۔ ابھی تک132 افراد کی موت ہو چکی ہے اور103 مریضوں کی ا سپتال سے چھٹی مل چکی ہے۔ وہیں ہانگ کانگ میں آٹھ، مکاؤ سے سات اور تائیوان سے آٹھ مریضوں کے سامنے آنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 9239 لوگوں کے اس وبا کی زد میں آنے کا شبہ ہے۔کورونا وائرس کیا ہے؟:کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔
یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔یہ نیا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔
چینی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس مچھلی منڈی میں ہونی والی سمندری جانداروں کی غیرقانونی خرید و فروخت کے دوران انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چینی حکام نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ گھر سے کام کریں۔دریں اثناء جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے جموں اور سرینگر ائرپورٹوں پر خصوصی طبی ڈیسک قائم کی ہے۔جہاں پر چین اور دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کی طبی جانچ کی جاتی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں جاتی ہیں،جو کسی بھی وقت یک حادثے کا موجب بن سکتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں بجلی سے محروم بستیوں کو روشن کرنے اور اس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے مرکزی سرکار نے کثیر رقم واگزارکر کے ”سوبھاگیہ“نامی اسکیم وجود میں لائی اور جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع جن میں پلوامہ،شوپیان اور کولگام میں دسمبر2019تک ٹارگٹ مکمل کرنے کے لئے کہا گیا، تاہم آبادی کے مطابق اس کام کو مقررہ مدت کے اندر پائیہ تکیمل تک پہنچانے میں ٹھیکہ دار ناکام ہوئے جبکہ محکمہ بھی اس حوالے سے کوئی بہتری لانے میں ناکام رہے،جس پرمقامی لوگوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں جن میں خاص کر دہی علاقوں میں بجلی کا ترسیلی نظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کا ایک بڑا مقدا ضائح ہوجاتا ہے۔(کے این ایس)
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
