تازہ ترین
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے 30 لاکھ مریض، یورپ میں پابندیاں نرم
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ایسے میں کئی یورپی ملک اور امریکہ کی متعدد ریاستیں معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔
یورپ کے بعض حصوں میں اسکول اور دکانیں کھول دی گئی ہیں تاہم برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ان کے لیے قبل از وقت ہو گا۔
بورس جانسن کرونا وائرس سے متاثر ہونے والی ہائی پروفائل شخصیت ہیں۔ اُنہیں تین روز تک انتہائی نگہداہشت یونٹ میں بھی رکھا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 55 ہزار امریکہ اور ایک لاکھ سے زائد یورپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ عالمی وبا سے دنیا بھر میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثرہ ہیں۔
وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بعض یورپی ملکوں میں ہلاکتوں کی یومیہ تعداد میں کمی آئی ہے جس کے بعد حکومتوں نے معیشت کی بحالی اور معمولاتِ زندگی چلانے کے لیے پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔
اٹلی یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے سات ہفتے قبل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب اس نے پیر سے تعمیراتی شعبے اور فیکٹری میں ملازمین کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
اٹلی میں سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے شہری چار مئی سے گھروں سے باہر نکل سکیں گے اور رشتہ داروں کے گھر بھی آنا جانا کر سکیں گے۔
چار مئی سے اٹلی میں ہول سیل مارکیٹس میں کاروبار کی اجازت ہو گی اور ریستوران سے گھروں پر کھانا لے جانے کی اجازت ہو گی۔ اسی طرح 18 مئی سے میوزیم اور لائبریریاں بھی کھول دی جائیں گی۔
اسپین نے بھی اتوار سے پابندیوں میں نرمی شروع کر دی ہے۔ شہریوں کو دو مئی سے گھروں سے باہر ورزش اور چہل قدمی کی اجازت ہو گی۔
اسپین اور فرانس کی جانب سے پابندیوں میں نرمی سے متعلق مزید تفصیلات کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔
فرانس میں 17 مارچ سے لاگو لاک ڈاؤن 11 مئی سے ختم ہونا شروع ہو گا۔ پہلے مرحلے میں اسکول کھولے جائیں گے تاہم حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ریستوران، کیفے اور سنیما بدستور بند رہیں گے۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم ایڈورڈ فلپ لاک ڈاؤن میں نرمی کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
جرمنی نے گزشتہ ہفتے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم شہری مکمل آزادی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ جرمنی میں اب بھی عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا لازم ہے۔
دوسری جانب سوئٹزر لینڈ، کروشیا اور سربیا میں پیر سے کئی چھوٹی دکانیں کھل گئی جب کہ ناروے میں پرائمری اسکولوں میں تدریس کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
سوئٹزر لینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں حجام، پھولوں کے تاجر اور دندان ساز اپنے کام پر واپس آگئے ہیں۔
امریکہ میں بھی معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے 15 مئی سے ان علاقوں میں تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کا کاروبار بحال کرنے کا اعلان کیا ہے جو کرونا وائرس سے کم متاثر ہیں۔
صحت کے ماہرین کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے جارجیا کے گورنر نے ہزاروں کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ گھروں میں قیام کے احکامات کو جمعرات کو اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
امریکی ریاست ٹینیسی کے گورنر نے پیر سے ریستوران کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اعلان کیا ہے کہ جمعے سے تمام اسٹورز، ریستوران، تھیٹر، مالز، میوزیم اور لائبریریوں کو 25 فی صد کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب الاسکا، اوکلاہوما، مینیسوٹا، مسیسیپی، کولوراڈو اور ساؤتھ کیرولائنا ریاست میں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
