تازہ ترین
وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے قہر میں مزید شدت
شہر سرینگر کے رعناواری علاقے سے تعلق رکھنے والی کووڈ۔19 کی مریضہ کی منگلوار کو اسپتال میں موت ہوگئی،اس وادی کشمیر میں کورو نا ہلاکتوں کی تعداد7جبکہ جموں وکشمیر میں مجوعی طور پر یہ ہلاکتیں 8تک پہنچ گئیں۔ادھر مثبت معاملات کا گراف بھی دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے،جموں وکشمیر میں منگلوار کو مزید 19افراد کے ٹیسٹ مثبت آگئے جسکے ساتھ یہاں یہ تعداد بڑھ کر565تک پہنچ گئی۔کشمیر نیوز سروس کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رعناواری سے تعلق رکھنے والی خاتون مریضہ امراض چھاتی اسپتال (سی ڈی اسپتال) میں زیر علاج تھیں اور سوموار کو مذکورہ مریضہ کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے بتایا کہ معمر خاتون مختلف امراض میں مبتلاء تھیں۔
ان کا کہناتھا کہ فوت ہوئی خاتون ذیابطیس،ہائپیر ٹینسیواور دیگر امراض میں مبتلاء تھیں۔مذکورہ مریضہ کی موت سے جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد8ہوگئی جبکہ وادی کشمیر میں یہ تعداد7اور جموں میں ایک ہے۔اس دوران مزید 19افراد کے کورو نا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔اس طرح یہ تعداد جموں وکشمیر میں بڑھ کر565ہوگئی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 10افراد کے ٹیسٹ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی تجربہ گاہ یا تجزیہ گاہ میں تصدیق ہوئے جبکہ پانچ بارہمولہ اور شوپیان سے4اور ایک کپوارہ سے تصدیق ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ 5مثبت ٹیسٹ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگر سے تصدیق ہوئے جن میں سے4کا تعلق اننت ناگ اور ایک کا تعلق پلوامہ سے ہے۔جموں وکشمیر میں کل ملا کر 565مثبت کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں صوبہ جموں سے محض58کیسز مثبت پائے گئے۔وادی میں میں وائرس متاثرہ مریض کی پہلی موت 25 مارچ کو درج ہوئی جب سرینگر کے مضافاتی علاقہ حیدر پورہ سے تعلق رکھنے والا تبیلغی جماعت کا54 سالہ کارکن ڈل گیٹ سرینگر میں واقع ہسپتال برائے امراض چھاتی(سی ڈی) میں انتقال ہوا تھا۔
29 مارچ کو اسی اسپتال میں ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ علاقے سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ وائرس متاثرہ مریض کی موت واقع ہوئی تھی۔7 اپریل کو ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک 54سالہ وائرس متاثرہ مریض شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال(صدر اسپتال) میں انتقال کرگیا۔8اپریل کو ضلع ادھمپورہ سے تعلق رکھنے والی61سالہ مریضہ کی گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں موت واقع ہوئی۔17اپریل کوتاریخ کو سرینگر کے مضافاتی علاقہ بمنہ میں واقع انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میڈیکل کالج واسپتال میں ہی ضلع بارہمولہ کے آرمپورہ سوپور کے لال بب صاحب علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک75 سالہ وائرس متاثرہ مریض کی موت ہوئی تھی۔
جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے468 مثبت کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے90 فیصد کیسز وادی کشمیر کے ہیں جبکہ100سے زیادہ افراد صحتیاب ہوکر اسپتالوں سے رخصت کئے جاچکے ہیں۔ٹنگمرگ کے شہری کی موت کے بعد جموں کشمیر میں کورونا ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔ان میں سے 5 شہری وادی کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک جاں بحق ہونے والے سبھی مریضوں کی عمر 50 برس سے زیادہ تھی اور وہ کورونا کے علاوہ دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔
25اپریل کو انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میڈیکل کالج و اسپتال بمنہ سرینگر میں ایک شہری، جو کورونا وائرس(عالمگیر وباکووڈ۔19) میں مبتلاء تھا، چل بساتھا،ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ علاقے سے تعلق رکھنے والے مذکورہ شہری کی ہلاکت کیساتھ ہی جموں کشمیر میں کورونا کی چھٹی ہلاکت ہے۔اس سے قبل اننت ناگ کی درد زہ میں مبتلا خاتون کی موت ہوگئی تھی جبکہ اُس کے بطن میں دو جڑواں بچے بھی موت کی آغوش میں سوگئے۔انتظامیہ کی خاتون کی موت اور اسکی نعش کو لا حقین کے سپرد کرنے کے معاملے کی تحقیقات کے احکامات صادر کئے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
