تازہ ترین
کورونا وائرس کے مثبت معاملات میں مسلسل اضافہ
وادی کشمیر میں مثبت کو رونا وائرس معاملات سامنے کیساتھ ہی ریڈ زونز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس دوران اننت ناگ کے ایک کورنٹائن مرکز سے لوگوں نے بھاگنے کی کوشش کی،جسے پولیس نے ناکام بنایا،جس دوران متعدد افراد کو چوٹیں بھی آئیں۔ادھرجنوبی کشمیر ضلع پلوامہ میں ایک نیا کورونا کیس سامنے آیا جبکہ اننت ناگ ضلعے میں 2ہیلتھ کارکنوں کے اس عالمی وبا میں مبتلاء ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا پازیٹیو کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جسکی وجہ سے ریڈ زونز کا گراف میں اوپر کی طرف جارہا ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور پلوامہ نے دوسرے مرحلے میں قدم رکھا۔حالیہ دنوں پلوامہ کو مکمل طور پر کورونا سے پاک قرار دیا گیا تھا کیونکہ ضلعے سے وابستہ3مریض صحتیاب ہوکر اسپتال سے رخصت کئے گئے تھے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منگل کی صبح تک ضلعے میں کوئی بھی کورونا مثبت کیس نہیں تھا،تاہم رہمو گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔مذکورہ مریض کو اسکول میں قائم کورنٹائن سینٹر میں رکھا گیا تھا۔ڈاکٹر میر مشتاق نے اسکی تصدیق کی ہے۔ڈاکٹر کے مطابق مذکورہ مریض پیشہ سے ڈرائیور ہے اور اسکی ٹرول ہسٹری ہے۔
ان کا کہناتھا کہ مریض علامات کے بغیرہی کورنٹائن میں تھا،تاہم بعد میں اس میں علامات پیدا ہوئیں اور بعد ازاں اس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ وادی کشمیر میں ضلع بانڈی پورہ کورونا وائرس کے مریضوں کی فہرست میں اول نمبر ہے،بالترتیب سرینگر،شوپیان،بارہمولہ،اننت ناگ،کپوارہ،گاندر بل،بڈگام،کولگام اور پلوامہ ہے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں 2ہیلتھ ورکرس کے کورو نا ٹیسٹ مثبت پائے گئے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں محکمہ صحت ملازم شانگس اننت ناگ سے متاثر مریض کے براہ راست رابطے میں تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ایک ہیلتھ ملازم پی ایچ سی نوگام اور دوسرا شانگس میں تعینات ہے،کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
دونوں ہیلتھ کارکنان کو کورنٹائن میں رکھا گیا۔دونوں کے نمونے نے دو روز قبل لئے گئے تھے۔اننت ناگ میں 4نئے کیسز کی تصدیق ہوئے ہیں اور یہاں متاثرین کی تعداد58ہوگئی۔ادھر پولیس نے اننت ناگ میں کورنٹائن سینٹر سے بھاگنے کی کوشش کو ناکام بنا یا۔پولیس کو کورنٹائن میں رکھے گئے افراد کو قابو میں کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا،جسکی وجہ سے متعدد افراد کو چوٹیں آئیں۔نمائند ے کیمطابق کھنہ بل اننت ناگ میں واقع کورنٹائن سینٹر میں 100افراد کو کورنٹائن میں رکھا گیا۔مذکورہ افراد کا الزام ہے کہ وہ کورنٹائن سینٹر میں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،جسکی وجہ سے انہیں ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔نامہ نگار کے مطابق کورنٹائن میں رکھے گئے افراد نے بھاگنے کی کوشش کی جس دوران وہ پولیس کیساتھ اُلجھ پڑے اور متعدد افراد کو چوٹیں آئیں۔نامہ نگار کے مطابق مذکورہ افراد کا ضلعے کے مختلف علاقوں سے تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کیا قصور ہے؟ہمارے ساتھ جرائم پیشہ افراد کی طرح سلوک روا کیوں رکھا جارہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ آپ کیلئے ہرطرح کی سہولیت ہے،جب ہم کہتے ہیں دکھائے تو ہمیں مارا پیٹا جاتا ہے۔حکام کا کہناہے کہ کورنٹائن میں رکھے جارہے افراد کو رہنما خطوط کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔دریں اثناء جوگی لنکر رعناواری علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا۔رعناواری کے سبھی داخلی اور خارجی راستوں کو خار دار تاروں سے مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔ادھر حکام نے علاقے نارواو بارہمولہ کے ملہ پورہ دیہات کو ریڈ زون قرار دیا ہے جبکہ اس کے آس پاس دیگر آٹھ دیہات کو بفر زون قرار دیا ہے۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
