تازہ ترین
14روزہ ملک گیر لاک ڈاون کا تیسرا مرحلہ شروع
بھارت میں سوموار یعنی(4 مئی)سے لاک ڈاون کا14 روزہ تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور تقریباً1400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس دوران مرکزی وزیر، پرکاش جاوڈیکر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں عملی طور پر آدھے ملک میں پوری طرح کام کاج شروع ہو جائے گا۔ادھراپوزیشن کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاون ختم کرنے اور ملک کی معیشت کو بحال کرنے کا کوئی واضح اورٹھوس لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کورونا کے بڑھتے انفکشن کو روکنے کے لیے اعلان کیے گئے لاک ڈاؤن۔2(دوسرا مرحلہ) کی مدت ختم ہوگئی اور سوموار سے لاک ڈاؤن۔(3 تیسرے مرحلہ) کا لاک ڈاؤن شروع ہوگیا جوکہ 17مئی تک جاری رہے گا۔حالانکہ اس لاک ڈاؤن میں حکومت کی جانب سے ریڈ، اورینج اور گرین زون بنا کر کچھ سہولتیں دی گئیں ہیں۔تاہم مجموعی طور پر پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں گی۔لاک ڈاون کے اس تیسرے مرحلے میں مرکزی حکومت نے کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کو اس وبا کی شدت کے لحاظ سے تقسیم کرکے بعض خدمات اور کاروبار میں مشروط رعایت دی ہے۔ ان میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت شامل ہے۔ تمام مذاہب کے عبادت خانے البتہ بند رہیں گے۔ کووڈ۔19کی وبا کے پھیلنے کا سلسلہ بھارت میں فی الحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
مرکزی وزارت صحت کے مطابق اتوار کو2816 نئے معاملات کی تصدیق ہوئی جس کے ساتھ ہیبھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد42546 ہوگئی ہے جبکہ1393 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس دوران11775مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں گزشتہ روز427 نئے معاملات کی تصدیق ہوئی جو ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ دہلی میں اب تک 4549 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 64 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مارچ کے بعد سے ہی بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار مسلسل تیز ہورہی ہے۔ صرف پانچ دنوں میں دس ہزار نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ پہلے دس ہزار افراد کے متاثرہونے میں 43 دن لگے تھے۔ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد تین ریاستوں مہاراشٹر، گجرات اوردہلی میں ہے۔ یہ تینوں ہی خوشحال ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔
بھارت میں مجموعی متاثرین کا 56 فیصد ان تین ریاستوں میں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ میٹرو شہراس عالمگیر وبا کو پھیلانے میں کتنا سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔بھارت میں سب سے زیادہ متاثرہ شہر ملک کا اقتصادی دارالحکومت ممبئی ہے۔ صرف ممبئی میں ہی 8800 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے او ر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممبئی میں ایشیا کی سب سے بڑی کچی بستی، ساڑھے آٹھ لاکھ کی آبادی والے، دھاراوی میں اگر اس وبا نے پاؤں پھیلا دیے تو متاثرین کی تعداد کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں متاثرین کی تعداد5428 سے تجاوز کرچکی ہے۔مودی حکومت کا دعوی ہے کہ کووڈ۔19 پر قابو پانے کے حوالے سے بھارت بالکل درست سمت میں جارہا ہے۔ وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شرح اموات 3.2 فیصد ہے جو کہ دنیا میں سب سے کم ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ میں بھارت کامیابی کے راستے پرگامزن ہے۔ گزشتہ چودہ دنوں میں مریضوں کے دو گنا ہونے کی تعداد10.5 دن سے بڑھ کر12 دن ہوگئی ہے۔کووڈ۔19پر نگاہ رکھنے والی بھارت کی اعلی سطحی ٹیم کے رکن اور دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ ’ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ نئے کیسز ریڈ یا اورینج زون سے گرین زون میں نہ پہنچنے پائیں۔ اس کے بعد ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیسز کے بڑھنے کی رفتار سست ہونے لگی ہے‘۔
حکومت نے گرین زون ایسے علاقے کو قرار دیا ہے جہاں پچھلے21 دنوں سے کورونا کا کوئی نیا معاملے سامنے نہیں آیا ہو۔ادھراطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہاہے کہلاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں 4مئی سے عملی طور پر آدھے ملک میں پوری طرح کام کاج شروعہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زبردست کامیابیملی ہے اور ملک نے کورونا وبا سے نمٹنے میں دیگر ملکوں کی بہ نسبت کافی بہتر کارکردگیکا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم بعض حلقوں نے لاک ڈاون میں توسیع کے فیصلے کی نکتہ چینی کی ہے۔
2014 میں وزیر اعظم مودی کی انتخابی حکمت عملی طے کرنے والے پولیٹیکل اسٹریٹیجسٹ پرشانت کشور نے کہا کہ صرف لاک ڈاون کے سہارے بھارت کورونا پر فتح حاصل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا’ہمیں اس سچائی کو تسلیم کرنا چاہیے کہ گزشتہ40 دنوں کے لاک ڈاون کے دوران صورت حال خراب ہوئی ہے، لیکن ہم یہ سچائی تسلیم کرنے اور اپنا لائحہ عمل بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، بدقسمتی سے 17مئی کے بعد ہی حالات اسی طرح خراب ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔‘اس دوران اپوزیشن کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاون ختم کرنے اور ملک کی معیشت کو بحال کرنے کا کوئی واضح اورٹھوس لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
