تازہ ترین
میچ فکسنگ کی کہانی، مشکوک میچز کی زبانی
نوے کی دہائی کو اگر پاکستان کرکٹ کی سب سے کامیاب دہائی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ 1992 کا ورلڈ کپ ہو یا 1996 میں کھیلا گیا تین ملکی ورلڈ سیریز ٹورنامنٹ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے۔
یہی وہ وقت تھا جب میچ فکسنگ نے پاکستان کرکٹ کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا۔ اُس زمانے میں ایک دو نہیں بلکہ کئی میچز ایسے بھی کھیلے گئے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی غیر معیاری سے بھی نیچے رہی۔
ان دنوں 1994 میں کھیلے گئے ایسے ہی ایک میچ کا ذکر ہو رہا ہے جس میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 28 رنز سے شکست دی تھی۔
میچ میں سعید انور اور باسط علی سمیت کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر لوگوں نے انگلیاں اٹھائی تھیں لیکن ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ میچ ایک شکست سے زیادہ کچھ نہ رہا تھا۔
اسی دہائی کے چند مشکوک میچز پر نظر ڈالتے ہیں جس میں میچ پاکستان کبھی جیتا کبھی ہارا۔ ان میچز کے حیران کن نتائج کی وجہ سے شائقین کرکٹ کو یہ مقابلے آج بھی یاد ہیں۔
یہ وہی میچز ہیں جو ان دنوں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں اور بعض سابق کرکٹرز ان میں سے بعض میچز کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
سنگر کپ (کولمبو، ستمبر 1994)
سنگر کپ کے دوسرے میچ میں ایک طرف اس وقت کی عالمی چیمپئن ٹیم پاکستان تھی تو دوسری جانب اسٹارز سے بھری آسٹریلوی ٹیم۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان سلیم ملک نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دی۔
وسیم اکرم اور مشتاق احمد کی تباہ کن بالنگ کے سامنے آسٹریلوی ٹیم صرف سات وکٹ کے نقصان پر 179 رنز ہی بنا سکی۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی توقعات کے برعکس رہی۔
سعید انور نے میچ میں 46 رنز تو بنائے لیکن رنر کی اجازت ہونے کے باوجود وہ ایک بار فیلڈ چھوڑ کر گئے، جس سے پاکستانی ٹیم کو شدید دھچکا لگا۔ 43 رنز کے انفرادی اسکور پر انہوں نے کریمپس کی وجہ سے باہر جانے کو ترجیح دی اور واپس آ کر اپنے اسکور میں صرف تین رنز کا اضافہ کر سکے۔
اسی طرح انضمام الحق نے 69 گیندوں پر صرف 29 رنز اور کپتان سلیم ملک نے 51 گیندوں پر صرف 22 رنز بنا کر میچ پر پاکستان کی گرفت کو مزید کمزور کیا۔ آصف مجتبیٰ انجری کی وجہ سے بیٹنگ نہ کر سکے۔
گلین میک گراتھ کی گیند پر وسیم اکرم کے بولڈ ہونے سے زیادہ باسط علی کے آؤٹ ہونے پر شائقین کو غصہ آیا۔ انہوں نے 13 گیندوں کا سامنا کیا لیکن کوئی رن نہیں بنایا اور شین وارن کے ہاتھوں انہی کی بال پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
پاکستان ٹیم 180 رنز کے تعاقب میں 9 وکٹ پر صرف 151 رنز ہی بنا سکی۔
کراچی ٹیسٹ (ستمبر-اکتوبر 1994)
سنگر کپ کے فائنل میں تو نہ پاکستان پہنچا اور نہ ہی آسٹریلیا نے جگہ بنائی۔ سیریز کے فوراً بعد آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ وہی دورہ تھا جس میں آسٹریلوی کھلاڑی شین وارن، مارک وا اور ٹم مے نے مبینہ طور پر سلیم ملک پر الزام لگایا کہ انہوں نے خراب کارکردگی دکھانے کے لیے اُنہیں مالی پیشکش کی تھی۔
لیکن پہلے میچ کے نتیجے سے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے میچ یا تو قسمت کی مہربانی سے جیتا یا این ہیلی کی نادانی سے۔ 314 رنز کے تعاقب میں میزبان ٹیم نے آخری دن کا آغاز تین وکٹ کے نقصان پر 155 رنز سے کیا۔ یکے بعد دیگرے وکٹیں گر جانے کے باعث میچ میں آسٹریلیا کی پوزیشن مضبوط ہو گئی تھی۔
جب نمبر 11 بیٹسمین مشتاق احمد نے کریز پر انضمام الحق کو جوائن کیا تب بھی پاکستان کو جیت کے لیے مزید 57 رنز درکار تھے، ایسے میں دونوں کھلاڑیوں نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے شین وارن کو مزید وکٹیں نہ لینے دیں، بلکہ پاکستان کو جیت سے ہمکنار بھی کروایا۔
انضمام الحق کے 58 ناٹ آؤٹ اور مشتاق احمد کے ناقابل شکست 20 رنز نے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ میچ کے آخری لمحات میں این ہیلی جیسے مستند وکٹ کیپر کا ایک آسان اسٹمپنگ چھوڑنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کہیں سلیم ملک کی پیشکش میں کوئی چوتھا کھلاڑی تو شامل نہیں تھا؟ اس بات کا جواب یا تو این ہیلی دے سکتے ہیں یا سلیم ملک خود۔
ہرارے ٹیسٹ (جنوری، فروری 1995)
جس زمانے میں سلیم ملک نے پاکستان ٹیم کی قیادت کی، اس دوران پاکستان ٹیم نے کئی فتوحات اپنے نام کیں۔ ان کی شکستوں کا تناسب جتنا کم تھا اتنا ہی حیران کن بھی۔
جنوری 1995 میں پاکستان ٹیم نے زمبابوے کا دورہ کیا جہاں پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سیریز کے باقی دونوں میچز جیت کر کپتان سلیم ملک نے سیریز تو اپنے نام کر لی لیکن پہلے میچ میں شکست کو شائقین کرکٹ آج تک نہیں بھلا سکے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے زمبابوے کی ٹیم نے کبھی کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا تھا اور ایک ایسی ٹیم نے پاکستان جیسی مضبوط سائیڈ کو ایک اننگز اور 64 رنز سے شکست دی۔ نہ صرف گرانٹ فلاور نے 201 ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی، بلکہ ان کے بڑے بھائی اینڈی فلاور اور گائے ویٹل نے سنچریاں بھی اسکور کیں۔
میچ میں پاکستانی بالرز صرف چار کھلاڑیوں کو ہی آؤٹ کرسکے جب کہ ایک ہی باری میں میزبان ٹیم نے 544 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا۔ پہلی اننگز میں گرین شرٹس نے 322 رنز بنائے جس کے بعد انہیں فالو آن کا سامنا کرنا پڑا، دوسری اننگز میں ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی اور پوری ٹیم 158 رنز ہی بنا سکی۔
پاکستان بمقابلہ بھارت (ورلڈ کپ 96)
ہم بھول گئے ہر بات، مگر یہ میچ نہیں بھولے
اگر ورلڈ کپ 1996 کے اس کوارٹر فائنل کے بارے میں شاعر شعر کہتا تو کچھ یوں ہی کہتا۔
کپتان وسیم اکرم کا اتنے اہم میچ سے قبل باہر بیٹھ جانا، جاوید میانداد کی جگہ ناتجربہ کار اور غصے کے تیز عامر سہیل سے کپتانی کرانا۔ آخری اوورز میں پاکستانی بالرز کی پٹائی اور انضمام الحق اور اعجاز احمد کی ناقص کارکردگی۔ یہ تمام باتیں آج 24 سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں کو یاد ہیں۔
بھارتی ٹیم نے 42ویں اوور میں 200 کا ہندسہ عبور کیا تھا۔ تب تک میچ پاکستان کی گرفت میں تھا لیکن اجے جڈیجا نے وقار یونس اور عاقب جاوید کے سامنے آخری اوورز میں ایسے بیٹنگ کی جیسے وہ گلی محلے کے بالرز ہوں۔ جواب میں پاکستان نے 288 رنز کا تعاقب بہترین انداز میں کیا۔ صرف 10 اوورز میں 84 رنز بنالیے۔
پہلے سعید انور 32 گیندوں پر 48 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور اس کے بعد جارح مزاج کپتان کی جارح مزاجی اُنہیں لے ڈوبی۔ نہ عامر سہیل باؤنڈری مارنے کے بعد وینکٹیش پرساد کو اشارہ کرتے اور نہ ہی پرساد انہیں اگلی گیند پر واپس پویلین بھیجتے۔
ایسے جارحانہ آغاز کے بعد اعجاز احمد اور انضمام الحق کا 23 اور 20 گیندوں پر 12، 12 رنز بنا کر آؤٹ ہونا بھی حیران کن تھا۔
کلکتہ کے ہیرو سلیم ملک اور اپنا آخری میچ کھیلنے والے جاوید میانداد نے 38، 38 رنز بناکر ٹیم کو سہارا دیا۔ لیکن جب ایک کپتان مبینہ انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہو اور دوسرا اپنے غصے کی وجہ سے پویلین میں، تو اس ٹیم کا کوارٹر فائنل جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔
پاکستان ٹیم 39 رنز سے شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہوئی لیکن شائقین کرکٹ آج تک اس شکست کو دل و دماغ سے نہیں نکال سکے۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (ستمبر 1996)
پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1996 میں انگلینڈ کا دورہ کیا اور ٹیسٹ سیریز میں کامیابی اپنے نام کی۔ ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی اور سیریز وائٹ واش کے لیے انہیں صرف ایک جیت درکار تھی۔
تیسرے میچ میں پاکستان نے نئے کھلاڑیوں شاہد انور اور شاہد نذیر کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔
نک نائٹ کی مسلسل دوسری سنچری کی وجہ سے انگلینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 246 رنز اسکور کیے۔ اپنا تیسرا ون ڈے کھیلنے والے نائٹ نے 125 رنز بنا کر بیٹ کیری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ کپتان وسیم اکرم تین وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں بالر رہے۔ پہلا میچ کھیلنے والے شاہد نذیر، وقار یونس اور ثقلین مشتاق نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز شاندار رہا۔ پہلی وکٹ کی شراکت میں سعید انور اور ڈیبیو کرنے والے شاہد انور نے 93 رنز جوڑے۔ سعید انور 61 اور شاہد کے 37 رنز کے بعد اعجاز احمد نے 59 رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دیا۔
اس کے بعد عامر سہیل، شاداب کبیر، آصف مجتبی اور وسیم اکرم کے جلد آؤٹ ہوجانے کی وجہ سے ٹیم مشکلات کا شکار ہوئی۔ ایسے میں وکٹ کیپر راشد لطیف نے 28 گیندوں پر 31 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر نہ صرف پاکستان کو وائٹ واش سے بچایا بلکہ ایک یادگار جیت میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
میچ کے بعد راشد لطیف کے تھمبز ڈاؤن اشارے پر کئی لوگوں نے تبصرہ کیا جس میں بعض کا خیال تھا کہ یہ اشارہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو تنبیہ تھی۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (شارجہ کپ، دسمبر 1997)
سنہ 1997 کے اواخر میں شارجہ میں ڈے نائٹ کرکٹ کا میلہ پہلی بار سجا۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان، ویسٹ انڈیز، بھارت اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔
انگلینڈ نے ایونٹ میں ایڈم ہولی اوک کی قیادت میں جو ٹیم بھیجی اس میں زیادہ تر آل راؤنڈرز شامل تھے۔ ڈگی براؤن، ڈین ہیڈلے، میتھیو فلیمنگ اور مارک ایلھم جیسے کرکٹرز پر مشتمل ٹیم کا سامنا جب پاکستان ٹیم کے پسندیدہ گراؤنڈ پر گرین شرٹس سے ہوا تو سب کو لگا کہ میچ پاکستان ہی جیتے گا۔
ایک نہایت ہی آسان میچ کو کپتان وسیم اکرم نے اس وقت مشکل بنادیا جب ٹیم جیت کے قریب تھی۔ 216 رنز کے تعاقب میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے چار وکٹ کے نقصان پر 99 رنز بنا لیے تھے۔ ایسے میں ان فارم بیٹسمین اظہر محمود کی جگہ کپتان نے پہلے ناتجربہ کار اختر سرفراز کو بھیجا۔
اس کے بعد منظور اختر بیٹنگ کے لیے آئے۔ دونوں نوجوانوں نے 20 اور 44 رنز بناکر ٹیم کو سہارا تو دیا لیکن کافی گیندیں ضائع کردیں۔ ان کی جگہ اظہر محمود کو بھیج دیا جاتا تو بہتر ہوتا کیونکہ کچھ ماہ قبل ہی انہوں نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں تین سنچریاں اسکور کی تھیں جس میں سینچری آن ڈیبیو بھی شامل تھی۔
ان دونوں نوجوان کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹ کیپر معین خان اور کپتان وسیم اکرم نے نہایت سلو بیٹنگ کی اور میچ کو پاکستان کی گرفت سے دور کر دیا۔
معین خان نے 19 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 10 جب کہ وسیم اکرم نے اتنی ہی گیندیں کھیل کر صرف چار رنز اسکور کیے۔ اظہر محمود نے آخری اوورز میں نو گیندوں پر 12 رنز بنا کر ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش تو کی، لیکن پوری ٹیم 49ویں اوور میں 207 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔
انگلینڈ نے یہ میچ باآسانی آٹھ رنز سے جیت لیا۔ 19 گیندوں پر چار رنز بنانے پر وسیم اکرم کے فینز نے اُنہیں آج تک معاف نہیں کیا۔
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا (ورلڈ کپ 1999، فائنل)
پاکستان کرکٹ ٹیم نے 90 کی دہائی کا پہلا ورلڈ کپ جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا لیکن گرین شرٹس اس صدی کا اختتام کامیابی سے نہ کر سکے۔
میگا ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ میں پے درپے اپ سیٹ شکستوں کے بعد جب سیمی فائنل میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی تو سب لوگ بھول گئے کہ یہی ٹیم بنگلہ دیش اور بھارت سے شکست کھا چکی ہے۔
فائنل میں شرمناک شکست کے بعد شائقین کرکٹ نے تینوں میچز پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں اور آج بھی 1999 کے ورلڈ کپ میں جن میچوں میں پاکستان کو شکست ہوئی ان پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔
فائنل میچ کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا جس میں کپتان کا ٹاس جیت کر اوور کاسٹ کنڈیشنز میں پہلے بیٹنگ کرنا۔ ان فارم یوسف یوحنا کو نہ کھلانا، میچ کے دوران سعید انور کا بیٹ کی گرپ بدلنا اور اس کے چند لمحوں بعد آؤٹ ہوجانا، قابل ذکر ہیں۔
اسی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں یوسف یوحنا نے صرف 16 گیندوں پر 29 رنز اسکور کیے تھے اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف 81 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی کھیل چکے تھے۔ انہیں فائنل میں نہ کھلانا زیادتی تھی خاص طور پر اس وقت جب فائنل الیون میں موجود بلے بازوں نے آہستہ بیٹنگ کی۔
اعجاز احمد نے 46 گیندوں پر 22 رنز اسکور کیے تھے۔ انضمام الحق نے 33 گیندوں پر 15 رنز بنائے جس کے بعد انہیں امپائر ڈیوڈ شیپرڈ نے غلط آؤٹ دیا۔ نوجوان آل راؤنڈر عبدالرزاق جنہیں کپتان نے نمبر تین پر بھیجا تھا 51 گیندوں پر صرف 17 رنز اسکور کر سکے۔
پوری پاکستانی ٹیم کا صرف 132 پر آؤٹ ہونا اور پھر مخالف ٹیم کا 21ویں اوور میں دو وکٹ کے نقصان ہر ٹارگٹ حاصل کرلینا، اس میچ کو نوے کی دہائی کا سب سے مشکوک میچ بناتا ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
