تازہ ترین
کشمیر میں کورونا لاک ڈاءون جاری
کورونا وائرس لاک ڈاؤن 53ویں روز اتوار کو سختی کیساتھ لاگو رہا جس دوران’مؤمنٹ پاس‘حاصل کرنے والے افراد کو ہی آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ادھر جملہ عوامی،تجارتی اور ٹرانسپورٹ سرگرمیوں کا پہیہ جا م ہے جبکہ گھروں میں مقید لوگوں کی پریشانیوں میں روز افزوں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ادھر حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں جاری موبائیل انٹر نیٹ بندش مسلسل5ویں روز بھی جاری رہی جبکہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان میں فون کالز کی سروس بھی ہنوز بند ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن اتوار کو مسلسل 53 ویں روز بھی جاری رہا جس کے باعث معمولات زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام رہا۔ جاری لاک ڈاؤن کے بیچ جہاں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کے اضافے سے لوگوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے، وہیں مزدور پیشہ لوگوں کے مشکلات میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔سرینگر میں اتوار کو بندشیں اور پابندیاں سخت رہیں۔پولیس وفورسز کی جانب سے جگہ جگہ پر قائم کئے گئے سیکیورٹی ناکے سے گزر نے والے افراد سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے جبکہ ’مؤمنٹ پاس‘ حاصل کرنے والے افراد کو ہی آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
سرینگر میں تجارتی مرکز لالچوک سمیت سبھی چھوٹے بڑے بازار مسلسل بند ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔وادی میں اس وقت مجموعی طور پر100سے زائد علاقوں کو ریڈ زونز ہیں،جسکی وجہ سے بھی پابندیاں اور بندشیں سخت کردی گئیں،تاکہ کورونا وائرس کے مزید بے قابو نہ ہو،تاہم مسلسل لاک ڈاؤن کے باوجود بھی کورونا کیسز میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔وادی میں اس وقت800سے زیادہ مثبت معا ملات ہیں۔ دوسری جانب ریڈ زونز میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
ادھروادی کے دیگر شمال وجنوب کے ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی مکمل لاک ڈاؤن جاری رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔طویل ترین لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہر ودیہات میں ہر طرح کے دکان،کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند ہیں جسکی وجہ سے کشمیر کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔طویل ترین لاک ڈاؤن سے بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے جسکی وجہ سے نفسیاتی مریضوں کی فوج تیار ہورہی ہے۔ایک اقتصادی رپورٹ کے مطابق جموں وکشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزانہ 270کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گزشتہ9ماہ سے صورتحال جوں کی توں ہے۔سیکیورٹی لاک داؤن کے بعد کورونا ڈاؤن نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کردیا جبکہ کشمیر کی اقتصادیات میں کلیدی اہمیت کے حامل شعبے جن میں سیاحت،زراعت،باغبانی،صنعت وحرفت شامل ہے،مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ ادھرعالمی وبا کورونا وائرس کے متاثرین اور مہلوکین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ وادی کشمیر میں جہاں انتظامیہ کی طرف سے نافذ لاک ڈاون ہر گذرتے دنکے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہورہا ہے وہیں لوگوں میں پھیل رہے تشویش و خوف کی لہر انہیں گھروں سے باہر قدم رکھنے نہیں دے رہی ہے۔
وادی میں اتوارکو مسلسل53 ویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن جاری رہتے ہوئے ہر سو خوف وخاموشی کا ماحول طاری رہا۔ لاک ڈاؤن کو ممکن بنانے کے لئے سڑکوں اور گلی کوچوں میں لگائی گئی پابندیاں سخت ترین کرفیو کا منظر پیش کررہی ہیں تاہم لوگ بھی وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے خود بھی گھروں تک ہی محدود ہیں اور دوسروں کو بھی گھروں میں ہی بیٹھنے کی تاکید کررہے ہیں۔وادی میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 8 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ وادی میں ہر سو خوف وخاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے، کرفیو جیسی پابندیاں برابر نافذ ہیں، سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے بٹھائے ہیں جہاں پر آنے جانے والوں خواہ ہوں یا موٹر سائیکل پر سوار ہوں یا گاڑی میں ہوں، کو روکا جارہا اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
کورونا لاک ڈاؤن بدھ سے اور زیادہ سخت ہوگیا ہے،کیونکہ اس روز بیگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر ریاض نائیکو کو ساتھی سمیت ایک جھڑپ کے دوران جاں بحق کردیا گیا تھا۔اس کے بعد پلوامہ اور بڈگام کے کئی علاقوں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئی جن میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ پولیس کے افسر سمیت کئی اہلکاروں اور درجنوں مظاہرین بھی زخمی ہوئے جسکی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کو کنٹرول میں کرنے اور امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے بندشوں اور پابندیوں میں مزید شدت لائی گئی۔ادھرجنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان کو چھوڑ کر وادی کشمیر کے دیگر9اضلاع میں موبائیل سروس 3دن تک بند رہنے کے بعد اگرچہ بحال کردی گئی ہے،تاہم موبائیل ایس ایم ایس اور انٹر نیٹ خدمات ہنوز منقطع ہیں جسکی وجہ سے جہاں کورونا لاک ڈاؤن میں آن لائن ادائیگی مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی، وہیں قرنطینہ کا وقت گزار نے والے افراد،طلبہ،صحافیوں اور دیگر افراد کو شدید ترین ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔
وادی کشمیر میں اتوار کو مسلسل5ویں روز بھی ایس ایم ایس اور موبائیل انٹر نیٹ سروس بند رہی۔ موبائل انٹرنیٹ خدمات پر گذشتہ 5 دنوں سے ایک بار پھر عائد پابندی سے جہاں قرنطینہ مرکز میں زیر نگرانی سینکڑوں افراد کا جینا مزید دو بھر ہوا ہے وہیں پیشہ ور افراد اور طلبا کے مشکلات بھی مزید بڑھ گئے ہیں۔ وادی میں پہلے موبائل انٹرنیٹ خدمات اور اس کے فوراً بعد فون خدمات بند کردی تھیں تاہم سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کی فون اور لینڈ لائن خدمات منقطع نہیں کی گئی تھیں۔
ادھرصارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فون خدمات بحال ہوئی ہیں لیکن ایس ایم ایس سہولیت کی لگاتار معطلی کی وجہ سے وہ مختلف مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایس ایم ایس سہولیت بند رہنے کی وجہ سے لوگ آن لائن ادائیگی نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ موبائل فون پر او ٹی پی نمبر نہیں آتا ہے۔قرنطینہ مراکز میں زیر نگرانی لوگوں کا کہنا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی سے کورنٹائن سینٹر ہمارے لئے قید خانے بن گئے ہیں۔2۔جی انٹرنیٹ کو بند کرنے کے بعد طلبا بھی آن لائن پڑھائی سے محروم ہوگئے ہیں۔لاک ڈاون کے دوران انتظامیہ نے تدریسی عملے کو طلبا کیلئے آن لائن کلاسز کے احکامات صادر کیے تھے تاکہ طلبا کی تعلیم زیادہ متاثر نہ ہو۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
