تازہ ترین
لاک ڈاءون کی مار جھیل رہے معذدور طبقے کا کوئی پرسان ِ حال نہیں
کشمیر میں جاری طویل ترین لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہے معذدور طبقے کا کوئی پرسان حال نہیں اور نہ ہی جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے اس طبقے کیلئے کسی مالی پیکیج کا اعلان ہوا اور نہ ہی کسی امداد کا کہیں ذکر کیا گیا۔ گذشتہ دو ماہ اور مجموعی طور پر 9مہینوں سے پریشان ِحال اس طبقے کا کوئی پر سان ِ حا ل نہیں ہے،جسکی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ومسائل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ مسلسل تالہ بندی کے سبب کام گر،در زی،بنکر،آٹو رکھشا والے اور دیگرٹرانسپورٹر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کشمیر وادی میں جاری اپنی نوعیت کے دوسرے غیر معینہ عرصے کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نئی پریشانیاں جنم لے رہی ہیں۔
جہاں لوگ خود کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں قید ہیں،وہیں بے روزگاری میں اضافہ ہونے کیساتھ ساتھ معذدور طبقہ بری طرح سے متاثر ہورہا ہے۔روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے معذدور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں،کیونکہ تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد ہے جبکہ کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے اس وقت زندگی کی رفتار مکمل منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔مختلف نجی وسرکاری تعمیراتی کاموں کے دوران ذریعہ معاش حاصل کرنے والے طبقے کا کہنا ہے کہ دو ماہ ہو نے کو ہے،لیکن ابھی جموں وکشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے اُنہیں کسی طرح کی امدادنہیں ملی۔غلام محمد نامی ایک تعمیراتی مزدور کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ 300روپے تک مزدوری کرکے کماتے تھے،لیکن دو ماہ ہونے کو ہے،ایک بھی پیسہ نہیں کمایا،ایسے میں خود کیا کھا ئیں اور اہلخانہ کو کیا دیں؟،سمجھ میں کچھ نہیں آتا،اب تو ادھاری بھی کوئی نہیں دیتا۔
حکومت نے خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے افراد کیلئے اگلے تین ماہ تک فی کس5کلو گرام مفت چاؤل دینے کا اعلان کر رکھا ہے،تاہم یہ کافی ثابت نہیں ہورہا۔ولی محمد نامی مزدور کا کہنا ’حکومت پانچ کلو چاؤل فی کس مفت دے رہی ہیں،لیکن دودھ،سبزی،دال،اس کا کیا ہوگا؟‘۔اس طرح کام گر جن میں در زی اور بنکر بھی شامل ہیں۔ اب جبکہ ماہ رمضان آخری عشرے میں داخل ہونے جارہا ہے،لیکن وادی کشمیر میں کسی طرح کی گہماگہمی یا عید رونق کہیں نظر نہیں آتی۔رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ متاثر طبقے میں اگر درزیوں کو بھی شامل کیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔ سلے سلائے کپڑوں کی مقبولیت کے باوجود رمضان سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب درزی سب سے زیادہ اہم شخص بن جاتا ہے۔درزیوں کی دکانیں 15ویں روزے کے بعد رات بھر کھلی رہتی ہیں۔ بس پھر ٹیلر ماسٹر کپڑوں کے انبار کو کاٹ کاٹ کر اپنے نائب درزیوں کو دیتے جاتے ہیں، جو مشینوں پر جھکے انہیں خوبصورت اور نت نئے ڈیزائن کے جوڑوں میں ڈھالتے جاتے۔
لیکن آج کورونا وائرس کی وبا کے باعث درزیوں کی دکانیں بھی ویران ہیں اور سارا سال عید کے سیزن کا انتظار کرنے والا یہ طبقہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔بنکر کا حال بھی ایسا ہی ہے۔اسی طرح آٹو رکھشا والے اور دیگر ٹرانسپورٹر بھی کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں اور اُنہیں بھی سخت ترین معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ دو ماہ ہوگئے،ایک بھی پیسہ نہیں کمایا،بنک سے قرضہ حاصل کیا ہے،ما نا تین ماہ تک قرضے کی قسط نہیں دینی ہے،لیکن پھر کیا۔۔۔؟۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کو علیحدہ سے لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہے معذدور طبقے کیلئے کسی پیکیج یا مالی امداد کا اعلان کر نا چاہئے،کیونکہ ہر کوئی مرکزی اسکیموں میں دائر ے میں نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ کچھ کنبے ایسے بھی جو بھوک اور افلاس سے مرے جارہے ہیں،لیکن زبان پر اف تک نہیں لاتے۔معذدور طبقے کا مطالبہ ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کو فوری طور پر کسی راحتی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی بھی لانی چاہئے،تاکہ مسائل کم ہوسکے،کیونکہ کورو نا وائرس کے خوف سے جینے کی چاہ تو ختم نہیں کی جاسکتی۔خفیہ ایجنسیوں کے مطابق مارچ کے آخر تک پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں لانچنگ پیڈوں پر230جنگجو در اندازی کیلئے تیار تھے اور یہ تعداد یہ اب تقریباً دو گنی ہوگئی ہے۔خفیہ ایجنسیوں کے مطابق 350جنگجو جن میں بیشتر جیش اور لشکر طیبہ سے وابستہ ہیں،دراندازی کیلئے تیار ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کے مطابق 20لانچنگ پیڈوں پر ان جنگجوؤں کو در اندازی کیلئے جمع کیا گیا اور مختلف گروپس میں انہیں جموں وکشمیر کے حدود میں داخل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی،اس لئے سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق لائن آف کنٹرول پر متواتر بنیادوں پر گولہ باری ہورہی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
