تازہ ترین
کشمیرمیں حریت کا دور- 1993 سے 2020 تک
حال ہی میں علحیدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے حریت کانفرنس سے اچانک استعفی دینے سے عوامی حلقوں میں ایک بحث چھڑ گئی اور بہت سارے سوالات سامنے آگئے کچھ لوگوں کے مطابق علحیدگی پسند خیمہ جو کشمیر ی عوام کے نمائندے ہونے کا دعوا پچھلے تیس سالوں سے کرتے آرہا ہے احتساب کے کٹگھرے میں کھڑانظر آتا ہے دراصل حریت کا منڈیٹ کیا تھا اس کے لئے ہمیں بہت پیچھے جانا پڑے گا جہاں سے حریت کی داستاں شروع ہو گئی تھی ۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/1893629044094771/?t=8
9 مارچ سن 1993کو آل پارٹییز حریت کانفرنس کی بنیاد ڈالی گئی ۔ ابتدا میں اس میں 26سیاسی ‘ سماجی ‘ اور مذہبی جماعتیں شامل ہوئیں اس کا ابتدائی مقصد اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر مسَلے کے حل کے لئے سیاسی جدوجہد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا اور اس مسَلے کے متعلق ساری دنیا میں بیداری پیدا کرنا ۔ حریت کا نظریہ یہ ہے کہ پورا جموں کشمیر ایک متنازعیہ علاقہ ہے اور تقسیم کے وقت کا ادھورا مسَلہ ہے اسلئے اسے یہاں کے لوگوں کے مشورے سے حل کیا جانا چاہئیے حریت اپنے آپ کو جموں کشمیر کے عوام کی واحد نمائندہ جماعت مانتی ہے ۔ او ۔ آئی ۔ سی میں اس کو مبصر کا درجہ حاصل ہے ۔ حریت کانفرنس جب معرض وجود میں آئی تو کشمیر کی تاریخ ایک نازک موڈ پر تھی مسلح تحریک اپنے عروج پر تھی سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ حریت مسلح تحریک کا سیاسی چہرہ بن گئی اس نے دو مختلف سوچوں کے دھارے کو اپنے آپ میں سمایا ایک سوچ جو رےاست کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتی تھی دوسری سوچ جموں کشمیر کو ایک علحیدہ ملک بنانا چاہتی تھی کچھ سیا سی تجزیہ کاروں کے مطابق حریت کو بنانے اور بڑھاوا دینے میں اْس وقت کی امریکی حکومت کا آشیرواد حاصل تھا اور واشنگٹن میں قائم ’تِھنک ٹینک‘ us institute of peace کے چیرمین robert oakley اسکے پس پردہ تھے حریت نے ابتدا میں الیکشن بائیکاٹ ، انسانی حقوق کی خلافورزیوں کے خلاف آواز اْٹھانے اور ہڑتال کی کال دینے تک اپنے آپ کو محدود رکھا ۔ اْس وقت کی مرکزی حکومت بےن الاقوامی سطح پر دباوَ میں تھی اسلئے حریت کو کام کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ۔
سن 2000میں امرےکی صدر بل کلنٹن کے بھارت کے دورے کے وقت حرےت کو کافی حد تک شناخت مل گئی تھی حرےت لےڈروں کو جےلوں سے رہائی ملی اور حکومت ِ ہند نے بات چےت کے لئے ’ پسِ پردہ‘ دروازے کھول دےئے ۔ حرےت نے سرےنگر کے پوش علاقے راج باغ مےں مرکزی دفتر کھولا اور ناصرف ہر ضلع مےں اکائےاں قائم کےں بلکہ نئی دلی مےں بھی اےک پولٹےکل آفس کھولا اور سےاسی سرگرمےاں شروع کےں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ حرےت مےں مالی بے ضابطگےوں ،نظم وضبط کی کمی ،قےادت کے دو دھڑوں کی رسہ کشی اندر ہی اندر پنپ رہی تھی اور تب اےک دن ےہ اْس وقت کھل کر سامنے آگئی جب ذراءع ابلاغ مےں آنے والی خبروں کے مطابق سجاد لون نے اسمبلی الےکشن مےں اپنے proxiesکھڑے کئے اور گےلانی نے انہےں حرےت سے نکالنے کا فرمان جاری کر دےا ۔ جس کا نتےجہ ےہ نکلا کہ 2003مےں حرےت کے دو حصے ہو گئے گےلانی سخت گےر دھڑے کے روحِ رواں بن گئے جبکہ مےر واعظ اعتدال پسند حرےت کے چےرمےن بن گئے گےلانی کی ہمےشہ ےہ پوزےشن رہی کہ مرکزی حکومت پہلے مسَلہ کشمےر کو تسلےم کرے پھر بات چےت ہوگی جبکہ مےر واعظ والی حرےت کانفرنس سابق پاکستانی صدر پروےز مشرف کے چار پوائےنٹ والے فارمولے کا بھی حصہ رہی اور اس گروپ نے اٹل بہاری واجپائی کے وقت حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات بھی کئے ۔ سن 2001مےں ورلڈ ٹرےڈ سنٹر پر حملے کے بعد ساری دنےا کا سوچنے کا ڈھنگ ےکسر بدل گےا دنےا مےں جہاں جہاں آزادی کی تحرےکےں چل رہی تھی اور جن مےں مذہب کے رنگ کی آمےزش تھی اْنہےں دہشت گردی کا لےبل لگ گےا ۔ اور عالمی سطح پر اِن تحرےکوں کی حماےت آہستہ آہستہ ختم ہوگئی حرےت بھی اس سے کافی حد تک متاثر ہوئی بےن الاقوامی اےوانوں مےں حرےت کے لئے سپورٹ کم ہوتا گےا تنظےمی سطح پر حرےت مےں اسکے بعدبھی انتشار چلتا رہا اور دونوں دھڑوں مےں اےک بار پھر بگاڑ پےدا ہوگےا جہاں گےلانی والے دھڑے مےں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہی وہی 2014مےں مےر واعظ کی حرےت کانفرنس اےک بار پھر بکھر گئی ۔ کچھ سےاسی مبصرےن مانتے ہےں کہ وادی مےں علحےدگی پسند سوچ رکھنے والا اےک بڑا حلقہ ہے حتی کہ دو بڑی مےن اسٹرےم پارٹےاں نےشنل کانفرنس اور پی، ڈی، پی بھی اس طبقہ ہائے فکر کے ساتھ چھےڑ چھاڑ کی متحمل نہےں ہو سکتی تھی اور وہ الےکشن پانی بجلی اور سڑک کے مدعوں پر لڑتی تھی جب بھی عوامی سطح پر کوئی اْتھل پْتھل ہوتی ہے رہنمائی کے لئے لوگوں کی امےدےں حرےت سے وابستہ ہوتےں ۔ البتہ سےاسی تجزےہ کار ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہےں کہ حرےت کانفرنس اپنے وجود سے ابتک اےک اےسی حکمت عملی ترتےب دےنے مےں ناکام رہی جو مسئلہ کشمےر کو منطقی انجام تک پہونچانے مےں مددگار ثابت ہوتی اْن کے مطابق اِن سالوں مےں حرےت نے عوام کے سامنے ہڑتالوں کے بغےر کوئی لاءحہ عمل نہےں رکھا جس سے لوگوں کو روشنی کی کرن نظر آتی آج بھی گےلانی،ےاسےن ملک،شبےر شاہ ،نعےم خان وغےرہ پارٹی کی قےادت سنبھالے ہوئے ہےں نوجواں لےڈران کہاں ہےں جن سے حرےت مےں نئی سوچ آسکتی تھی اِن سالوں مےں حرےت ےہاں پر کوئی ’تھنک ٹےنک‘ قائم نہ کر پائی نہ کوئی رےسرچ سنٹر بنا اور نہ کسی بھی چےز کی documentationکی گئی ۔ حالات نے 2008 ۔ 2010 ۔ اور 2016 مےں حرےت کے لئے مواقع فراہم کئے لےکن ان مواقعوں کو بْنانے مےں حرےت ناکام رہی ۔ حرےت سخت گےرےت اور اعتدال پسندی کے چکر مےں اےسی پھنسی کہ آج تک اس سے باہر نہ آسکی ۔
حرےت کانفرنس مےں ہر بار اتحاد کا نعرہ بلند ہوتا ہے لےکن اندر ہی اندر اتنا بگاڑ پےدا ہوگےا ہے کہ اےک دوسرے پر اعتبار نہےں رہا ۔ 2016مےں بھی حرےت صرف ہڑتالی سےاست تک ہی محدود رہی ۔ مرکز مےں بی ۔ جے ۔ پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے آہستہ آہستہ حرےت کے پر کترنے شروع ہو گئے پہلے دلیکا آفس بند کےا گےا پھر کشمےر مےں بھی مرکزی دفتر کو تالا لگاےا گےا اور آج حرےت حاشیے پر آگئی ہے بات چےت کے سارے راستے بند کردئے گئے ۔ 5اگست 2019کو جب رےاست کی خصوصی پوزےشن ختم کردی گئی تو ناصرف حرےت بلکہ mainstreamسےاست دانوں کو بھی جےلوں مےں بند کردےا گےا ۔ اےسے مےں حرےت کی سےاسی حےثےت داوَ پر ہے ۔ اب گےلانی کے استعفی اور مےر واعظ کی چپی نے حرےت کی داستاں کو سبھی کے سامنے آشکار کر دےا نئے پْر آشوب دور مےں حرےت کوئی رول ادا کر پائے گی ےا نہےں ;238;ےہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا حرےت لےڈروں کی سےاسی حکمت عملی کےا رہے گا وہ تو بعد مےں دےکھا جائے گا فی الحال اس وقت جوابدہی کا دور شروع ہوچکا ہے ۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
