تازہ ترین
غریب بنکر کس سے لڑے سرکار سے یاسرمایہ دار سے؟

مصنف:جاوید اختر بھارتی
اب تو مزدوری بھی گھٹنے لگی
خبراردو:-
آج بنکروں کی حالت اتنی خراب ہے کہ اس پہلے کبھی بھی اتنی خراب حالت نہیں ہوئی تھی بنکر مزدور فاقہ کشی کا سامنا کررہا ہے، بہت سے غریب بنکر گارا مٹی کا کام کرنے لگے جو کل تک کپڑا پہنتے تھے لوگ اس کے کپڑے کو دیکھ کر اسے خوشحالی سے تعبیر کیا کرتے تھے تو وہ بنکر یہ کہتا تھا کہ صاف کپڑے پہننا یہ ہماری تہذیب ہے لیکن وقت اور حالات نے اور بالخصوص کرونا وائرس کی مارنے
لاک ڈاؤن کے نفاذ و آن لاک کے نظام نے بنکروں کی ساری خوشیاں چھین لیں اور مزدور بنکروں کے منہ کا نوالہ تک چھین لیا
بنکروں کے سارے ارمانوں کا خون ہوگیا اس کی ساری امیدیں کافور ہوگئیں اس کے سارے حوصلے پست ہوگئے ان کے چہروں رونق اور ہونٹوں کی مسکراہٹ کا خاتمہ ہوگیا کرونا وائرس کی طرح بیکاری اور بے روزگاری کا وائرس پھیلنا شروع ہوگیا، غربت نے بھی دامن پسارنا شروع کردیا دکانداروں نے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کردیا آج بنکروں کے جسم پر پرانے اور بوسیدہ کپڑے سروں پر اینٹ اور پتھر، گرمی اور دھوپ کے تھپیڑے دیکھ کر ہر صاحبِ دل کی آنکھوں سے آنسو نکل آتا ہے اور دل سے آہ بھی نکلتی ہے لیکن ہاں بنکروں میں ہی کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں آج کے اس بحرانی دور میں بھی کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا ہے اور وہ شاہراہوں پر اپنے عیش و آرام کا تذکرہ کرتے ہوئے غریب مزدور بنکروں کا مذاق اڑانے سے باز نہیں آتے، بنکروں کا ہی ایک طبقہ ہے جو غریبوں کی مزدوری گھٹانا ہی مسلے کا حل سمجھتا ہے ایسی صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ خود بحرانی دور میں اپنی طرف سے بجائے امداد کرنے کے، خصوصی رعایت برتنے کے مزدور کی مزدوری گھٹا رہے ہو وہ بھی اس کے ساتھ ایسا سلوک جس کی وجہ سے آپ کو دولت کمانے میں کافی تعاؤن ملا ہے اس مزدور کے ساتھ ہمدردی نہیں، اس کے بچوں کے ساتھ ہمدردی نہیں، اس کے کنبے کے ساتھ ہمدردی نہیں تو پھر کس منہ سے تم حکومت سے سہولیات کا مطالبہ کرتے ہو جہاں ایک امیر خوشحال بنکر جسے گرہست کہا جاتا ہے، جسے سیٹھ جی کہا جاتا ہے جب وہ خود اپنے مزدوروں کو بحرانی دور میں کچھ راحت نہیں دے سکتے تو انہیں حکومت سے کچھ مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے-
یہیں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ آخرغریب مزدور بنکر پہلے کس سے لڑائی لڑے حکومت سے یاسرمایہ داروں سے-
حقیقت یہی ہے کہ انگریزوں کے دور حکومت میں زمینداروں کی جتنی گھٹیا سوچ تھی اس سے بھی بدتر سوچ آج کے نئی نسل کے خوشحال و گرہست بنکروں کی ہے یہ اپنے مفاد کے لئے غریب مزدور بنکروں کا استعمال کرتے ہیں اور جب خود کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو یہی مزدوروں کے ارمانوں کا خون کرتے ہیں، انکے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہیں اور امیر و غریب کے مابین کھائی پیدا کرتے ہیں، انہیں گری نگاہ سے دیکھتے ہیں آج کے وقت میں ایسے بھی سیٹھ ہیں جو حالت بیماری میں بھی مزدوروں کی مزدوری چاہتے ہوئے بھی نہیں دیتے ہیں
یہاں تک کہ مزدور کے گھر موت تک ہوجاتی ہے ساری حق تلفی اپنوں کے ساتھ گھر بنانے والے مستری کی مزدوری کوئی نہیں گھٹاتا، ڈینٹ پینٹ کرنے والوں کی مزدوری کوئی نہیں گھٹاتا، جوڑائی، تڑائی،کھدائی کرنے والوں کی مزدوری کوئی نہیں گھٹاتا بس اس کی مزدوری گھٹائی جائے گی جو تنائی بنائی سے جڑا ہوا ہے جو اپنے سماج کا ہے لیکن مزدور بیچارہ یہ سوچ کر صبر کرلیتا ہے کہ ہم غریب ہیں دکھ درد سہنا شائد ہماری قسمت ہے آج کے دور میں یہ جب کہا جاتا ہے غریبی بہت اچھی چیز ہے، بے سہاروں کو سہارا دینا بہت اچھی بات ہے تو کوئی نہ کوئی یہ کہدیتا ہے کہ مذکورہ چیزیں اور باتیں بہت اچھی ہیں لیکن بس تقریر و تحریر تک حقیقت میں اور عملی طور پر کچھ بھی نہیں یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب مزدور طبقہ سرمایہ دار بنکروں کی مخالفت اور بغاوت کے لیے کمر کس کر میدان میں اتر جائے گا پھر کوئی نہیں بچا پائے گا اس لئے کہ جس دن غریب بنکر مزدور منظم اور متحد ہوگیا تو حکومت بھی مزدوروں کا ساتھ دیگی اچھائی اسی میں ہے کہ بنکر سیٹھ صاحبان اپنی سوچ اپنا نظریہ بدلیں اور اپنی اولادوں کو صحیح طریقے سے بات کرنے کا سلیقہ سکھائیں تجارت بہت اچھی چیز ہے لیکن آج نئی نسل کے امیر بنکروں نے پشتینی پیشے تنائی بنائی کو جھوٹ کا پلندہ بناکر رکھ دیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ انہیں کبھی مرنا ہے اور نہ حساب کتاب دینا ہے-
بنکروں کے سامنے دوسری ایک بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ انکی ماہانہ بجلی بل فلیٹ ریٹ کی شکل میں پاس بک کی ذریعے جمع ہوتی تھی جس پر موجودہ اترپردیش کی حکومت نے روک لگا دیا ہے اور معاملہ واضح بھی نہیں کیا جارہا ہے کہ بجلی کی بل کس طرح جمع ہوگی جبکہ بنکروں کا مطالبہ ہے کہ 5 کلو واٹ تک کے بجلی کنکشن پر پاس بک سہولت کو بحال کیا جائے رہ گئی بات ریٹ کی تو پہلے کی بنسبت کچھ اضافہ بھلے ہی کردیا جائے لیکن ہر حال میں ماہانہ بجلی کا ریٹ فکس کیا جائے اور پاس بک کے ذریعے بجلی بل جمع کرایا جائے اسی میں بنکروں کی بھلائی ہے بصورت دیگر بنکر بجلی کا بل جمع ہی نہیں کر پائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سماج میں بھی بے عزت ہوگا اور حکومت کی نظر میں بھی قرضدار ہوگا اور یہ سلسلہ شروع بھی ہوچکا ہے آج غریب مزدور بنکروں کے حالات یہ ہیں کہ وہ اپنا پیٹ بھرے یا کنبے کی پرورش کرے یا دیگر ضروریات کو پورا کرے اسی لئے ضروری ہے کہ حکومت مارچ 2020 سے اگست 2020 تک کی بجلی بل معاف کرے ایک بات کا اور ذکر کرنا ضروری ہے کہ مارچ سے لیکر اب تک کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس بات کا اندیشہ تھا آخر وہی ہوا کچھ لوگوں نے راحت پہنچا نے کی غرض سے بطورِ امداد اشیائے خورد نوش تو ضرور تقسیم کیا لیکن اس وقت کہا گیا تھا کہ سبھی لوگ ایک جگہ جمع کرکے تقسیم کریں لیکن ایسا نہیں کیا لوگوں نے فرداً فرداً تقسیم کیا اس لئے کہ ثواب سے زیادہ نام کمانا تھا نتیجہ یہ نکلا کہ آج متوسط طبقہ بھکمری کا شکار ہورہا ہے نہ اس کی زبان کھلتی ہے اور نہ اس کا ہاتھ پھیلتا ہے غرضیکہ اس کی زندگی میں اندھیرا اور اس کا مستقبل تباہ ہوتا نظر ارہاہے بڑے بنکروں میں بھی کچھ گنے چنے لوگ ہیں جن کے اندر انسانیت ہے ان کے سینوں میں غریبوں کا درد ہے لیکن نئی نسل کے خوشحال بنکروں کا جو نظریہ ہے وہ تو پورے بنکر طبقہ کیلئے ناسور سے کم نہیں ہے –
تحریر:
(سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یوپی
برائے رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
