تازہ ترین
اگر بھاجپا کا الزام ہے کہ ہم سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کرتے،کشمیر میں بڑی ریلی کر کے دکھائیں:عمر عبداللہ
دفعہ370کی تنسیخ مرتے دم تک نا قابل قبول،کشمیر میں لڑکوں کی نہیں بندوق کی کمی
’5اگست کو یوم سوگ منایا جائیگا،انصاف کی لڑائی کیلئے کوئی حد نہیں‘
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے5اگست 2019کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر سے متعلق لئے گئے فیصلہ جات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ370،35(اے) کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کی تقسیم و تنظیم نو کو وہ (عمر عبد اللہ) مرتے دم تک قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے 5اگست کو ’یوم سوگ‘ منا نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو انصاف فراہم کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جائیں گے۔
دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کشمیر نیوز سروس کیساتھ ایک مفصل انٹر ویو کے دوران عمر عبداللہ تلخ سولات کے جوابات بے باکی سے دئے۔جب عمر عبداللہ سے پوچھا گیا کہ بعض لوگ الزام عائد کررہے ہیں کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ370کی بحالی پر خاموشی اختیار ہوئی ہے،کیا یہ سچ ہے،تو اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا ’جو لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں ہم آرٹیکل 370کی بحالی کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں،وہیں لوگ کل یہ کہہ رہے تھے ہم اٹانامی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں‘۔
ان کا کہناتھا ’اگر ہم نے لوگوں کو اٹانامی پر گمراہ کیا،کیا آپ ہمیں یہ کہنا چاہتے ہیں ہمیں دفعہ370پر بھی نعرے بلند کرنے چاہئے،یہ حماقت نہیں ہوگی، ہم نے5 اگست کے فیصلہ جات کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی ہم کریں گے،لیکن اس کو واپس حاصل کرنے کے لئے ہم سمجھداری سے لڑیں گے،نہ ہم سڑکوں پر آئیں گے اور نہ ہی ایسی صورتحال بنائیں گے جس سے انہیں کچلنے کا بہانہ ملے گا، ہمیں اس کے لئے ایک علیحدہ دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا،کیا ہم ان سے اس کی بحالی کا مطالبہ کریں گے جو ہم سے370 چھین چکے ہیں؟‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں 1996 میں ایک موقع گنوا دیا؟تو اسکے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’ہاں ہمارے پاس ایک موقع تھا، لیکن ہم اسے کھو بیٹھے۔ ایسا ہوتا ہے، جب پرویز مشرف مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اقتدار میں تھے، تو کیا نئی دہلی کے لئے کوئی موقع موجود نہیں تھا؟ اب ہم ان لمحوں پر توبہ کر رہے ہیں۔
واجپائی اور مشرف، منموہن سنگھ اور مشرف دور وہ وقت تھا جب مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا تھا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں 1996 میں ایک موقع ملا تھا،جب1996 میں ہم نے خود مختاری کی رپورٹ پیش کی، تب ہم اقتدار سے باہر ہوگئے تھے‘۔اس سوال کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی سرکار نے عسکریت پسندی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کا سخت فیصلہ لیا؟،عمر عبداللہ نے اس کے جواب میں کہا ’انہیں ایک وجہ ملی اور انہوں نے اس کا استعمال کیا۔ وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بڑھتی عسکریت پسندی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت سے ہٹانا ضروری ہے۔
انہوں نے یہی دنیا کو بیچا کہ خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے وہ بدعنوانی، بیگانگی، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے اور یہاں سرمایہ کاری لائیں گے۔ اب ان کا کون سا دعویٰ درست ثابت ہوا؟ کیا نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل نہیں ہو رہے ہیں؟ لڑکوں کی نہیں بندوق کی کمی ہے۔
حکومت نے خود ہی سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ تشدد میں اضافے کی وجہ سے یہاں 4 جی کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ370 کے خاتمے کے ساتھ ہی تشدد کا خاتمہ بھی ہوگا۔ ان کی سرمایہ کاری کا کیا ہوا؟ وہ کہہ رہے تھے کہ یہاں صنعت کاری میں 370 رکاوٹ ہے۔اس سوال کہ بی جے پی نے 5اگست کو جموں و کشمیر میں جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے؟،تو عمر عبداللہ نے کہا’ہم اپنے گھروں میں اس دن کو یوم سوگ(ماتم) کے طور پر منائیں گے، انہوں نے ہمیں کیا دیا ہے، نہ انہوں نے ہمارے جذبات کی پرواہ کی اور نہ ہی اپنے وعدوں کا،ہم سے میرا مراد جموں وکشمیر کے عوام ہیں‘۔
ایک اور سوال کہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ370 منسوخی کے بعد لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایسا کوئی لیڈر نہیں تھا جو لوگوں کو منظم کرسکے؟۔عمر عبداللہ نے کہا’میں اتفاق نہیں کرتا، بے ساختہ احتجاج کو قائد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
برہان وانی کی جھڑپ میں ہلاکت کے بعد جو ایجی ٹیشن چھڑ گئی تھی،اس کا کوئی لیڈر نہیں تھا، اسکول بند تھے، آمدورفت بند تھی اور دکانیں بند تھیں۔ تمام ٹریڈ یونین قائدین زیر حراست تھے۔ جب احتجاج ہونا ہی ہوتا ہے تو یہ بے ساختہ ہوتا ہے۔ اس بار لوگوں نے دانشمندی سے سوچا اور جذبات سے دوچار نہیں ہوئے، یہ اچھا ہے، کیونکہ وہ ہمیں ہزاروں میں قتل کرنے کے لئے تیار تھے، جب کوئی نہیں مارا گیا اُنہیں حیرت ہوئی، کیونکہ وہ ہمیں مارنے کے لئے تیار تھے‘۔اس سوال کہ کیا گپکار اعلامیہ سیاسی جماعتوں کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ ہے؟
تو سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’ہاں یہ اب بھی برقرار ہے۔ ہمیں دوبارہ بیٹھ کر بات کرنی ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گپکار اعلامیہ کی تمام دستخط کرنے والی جماعتو ں نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع نہیں کیا، مجھے یہ واضح کرنے دیں کہ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں نہ کہ میری پارٹی کے، پارٹی قیادت بیٹھ کر اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، یہ تب ہی ممکن ہے جب ہماری پارٹی کے لیڈر آزاد ہوں گے، تب نیشنل کانفرنس اپنا سیاسی راستہ طے کرے گی‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’وہ ہمیں باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں، ہم اپنی سیاسی سرگرمیاں کیسے کرسکتے ہیں؟ ٹھیک ہے، مجھے چھوڑ دو، جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ ہم تباہ ہوگئے ہیں، ہمارے پاس صرف ایک سوشل میڈیا لیڈر رہ گیا ہے، لیکن کیا بی جے پی کو سیاسی سرگرمیاں کرنے سے کوئی روک رہا ہے؟۔ انہیں کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کرنا چاہئے تھا،اب370 کو ختم کردیا گیا ہے، انہیں یہاں بڑے جلسے منعقد کرنے سے کون روک رہا ہے؟ دفعہ370کو منسوخ کرنے کی حمایت میں ایک ریلی کے لئے ایک لاکھ مقامی لوگوں کو یہاں لائیں،ہاں اس بار وہ بہار اور اڑیسہ سے بچوں کو نہ لائیں،اوکے چھوڑو بی جے پی۔ نو تشکیل شدہ پارٹی ایک بڑی ریلی کا اہتمام کرے، میرے لوگ نظربند ہیں،میری پارٹی کے ساتھی کو دہلی میں صحت کی جانچ پڑتال کی اجازت حاصل کرنے میں چار دن لگے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی نظربندی کا حکم نہیں تھا‘۔
یکم اگست2019کو وزیر اعظم کیساتھ ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’ہاں جب ہم وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد باہر آئے،تو میں نے کہا کہ ہم اس میٹنگ سے مطمئن ہیں،کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا،ہم سر جھکائے ہوئے تھے، یہ ہمارے لئے ایک سیاسی زلزلہ تھا‘۔عمر عبداللہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا’اگر لوگوں کو جھوٹی امیدیں دینا یا غیر حقیقی خواب دیکھنا لیڈربننے کے اہل ہوجاتا ہے، تو میں ایسا لیڈر نہیں بننا چاہتا ہوں، میں لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتا اور نہ ہی کھو کھلے نعرے لگا سکتا ہوں جن کی مجھے سمجھ نہیں آتی ہے، یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے‘۔
موجودہ حالات میں اگر انتخابات ہوتے ہیں،تو نیشنل کانفرنس کا کیا موقف رہے گا؟عمر عبداللہ نے اس سوال کے جواب میں کہا ’نیشنل کانفرنس کی قیادت بیٹھ کر اس کے بارے میں فیصلے کرے گی، میں جموں وکشمیر ریاست کی اسمبلی کا لیڈررہا ہوں اور میں یو ٹی اسمبلی کا ممبر بننا نہیں چاہتا ہوں، یہ میری ذاتی رائے ہے‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا ’میں بزدل نہیں ہوں، اپنی رائے کے اظہار کیلئے میں کسی اور سے مدد نہیں لوں گا،میں لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میری بات کوخود سمجھنے کی کوشش کریں، کسی اور کے ذریعہ نہیں جو اس کو غلط انداز میں پیش کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
میں اپنی رائے کو آزادانہ طور پر ظاہر کروں گا، کچھ لوگ میری باتوں کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ صرف اسٹیٹ ہوڈ کی ضرورت ہے،اور5اگست دیگر سب کچھ ختم ہوگیا ہے،میں نے اسٹیٹ ہوڈ کو کبھی بھی آرٹیکل 370کی بحالی سے بالاتر نہیں رکھا۔
میں یہ واضح ہمیشہ کیلئے کرنا چاہتا ہوں کہ میں 5اگست کو لئے گئے فیصلہ جات کو مرتے دم تک قبول نہیں کروں گا‘۔5 اگست کو جو کچھ ہم سے چھین لیا گیا ہے، ہم اسے واپس حاصل کریں گے اور دانشمندی کے ساتھ یہ جنگ لڑیں گے،ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے انصاف کے لئے لڑیں گے‘۔(حصہ اول۔۔جاری)
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
