تازہ ترین
مہلک وبا کا سیاہ سایہ،لاک ڈاؤن کی صورتحال برقرار’نرم پابندیاں اور بندشیں دوبارہ سخت‘
کئی مقامات پر اُوپر آدھی شٹروں کو بھی پولیس نے کرایا نیچے،معمولات زندگی ٹھپ
خبراردو:-
سرینگر:دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی مہلک وبا (نوول کورونا وائرس) کا سیاہ سایہ وادی کشمیر پر ہنوز برقرار ہے جبکہ دو روز بعد منعقد ہونے والی 15اگست کی تقریبات کے پیش نظر وادی بھر میں نرم پابندیاں اور بندشیں دوبارہ سخت کردی گئیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق دارالحکومت سرینگر کے مرکزی وتجارتی مرکز لالچوک کے مشہور ومعروف بازاروں کو بدھ کی علی الصبح ہی خاردار تاروں،ناکہ بندی اور رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کردیا گیا،تاکہ یہاں لوگوں کی آزاد نقل وحرکت ممکن نہ ہوسکے۔تاریخی گھنٹہ پہلے ہی کئی ہفتوں سے فورسز نرغے میں ہے جبکہ اس کے گرد ونواح بازار کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسلسل بند پڑے ہوئے،جسکی وجہ سے تاریخی لالچوک صحرائی منظر بیان کررہا ہے۔
گھنٹہ گھر اور اسکے مضافات میں واقع بازار کوکر بازار،کورٹ روڑ بازار،گر دو وارہ بازار،بڈشاہ بازار،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،مہاراجہ بازار،گونی کھن بازار سمیت سبھی بازاروں کو پولیس وفورسز نے بدھ کی صبح خاردار تاروں سے مکمل طور سیل کردیا۔امیراکدل پل پر نجی ٹریفک کی آمد ورفت کو مسدود بنانے کیلئے جہانگیر چوک سے لیکر لالچوک کے گھنٹہ گھر تک چا روں اطراف سے سیل کیا گیا تھا،جسکی وجہ سے یہاں بدھ کو لوگوں کی آزاد ونقل حرکت نہیں دیکھنے کو ملی،جو گزشتہ دنوں دیکھنے کو مل رہی تھی۔
اس دوران مگر مل باغ،نمائشی بازار اور اسکے گرد ونواح میں آدھی شٹر اوپر کرکے چند ایک دکاندار معاشی بدحالی سے لڑنے میں مصروف تھے،کہ ان بازاروں میں اُس وقت بھاگم دوڑ اور اتھل پتھل کے مناظر دیکھنے کو ملے،جب پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ان بازاروں کا اچانک دورہ کیا۔پولیس کی ٹیموں نے ان بازاروں میں آدھی شٹر اوپر کرکے چند دکاندار کاروباری سرگرمیاں انجام دے رہے تھے،تاہم اُنہیں اپنے شٹر سربمہر ہونے کے ڈر سے نیچے کرکے گھروں کی طرف دوبارہ راہ لینے پڑی۔
اس دوران شہر میں پابندیاں اور بندشیں مزید سخت کردی گئیں۔شہر خاص اور سیول لائنز کے بالائی علاقوں میں بھی دکا نیں بند رہیں۔شہر خاص میں بھی پولیس نے کووڈ۔19گائیڈ لائنز کے تحت نافذ لاک ڈاؤن کے اصولوں کو سختی کیساتھ نافذ کیا۔صبح سویرے شہر خاص میں محلہ سطح کی دن بھر کھلی رہتی تھیں،تاہم بدھ کو یہ دکانیں بھی بند کرائی گئیں۔سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔تاہم چند ایک روٹس پر ٹاٹا مسافر چھوٹی گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئیں،جنکی تعداد بہت کم تعداد تھی۔
علاوہ ازیں شہرمیں نجی گاڑیوں کیساتھ ساتھ آٹو رکھشا دن بھر سڑکوں پر دوڑتے ہوئے نظر آئے۔البتہ جملہ کاروباری وعوامی سر گرمیاں مفقود رہنے سے شہر کی سڑکیں اور بازار ویران اور سنسان نظر آرہے تھے۔ادھر بڈگام میں ضلعے میں 15اگست لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بڈگام میں کئی دیہات کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔بارہمولہ،کپوارہ میں کورونا گائیڈ لائنز کیساتھ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔بانڈی پورہ میں کورونا کیسز میں اضافے کے پیش قصبہ کئی وارڈوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔گاندر بل میں معمول کی سرگرمیاں اضطرابی کیفیت کے ساتھ جاری ہیں۔
پلوامہ،کولگام،شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں کہیں بندشیں سخت تو کہیں نرم ہیں۔تاہم مجموعی طور پر ان چاروں اضلاع میں بھی ہنوز معمولات زندگی درہم برہم ہے۔
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
