تازہ ترین
عربی زبان و ادب کا شہزادہ
الطاف جمیل ندوی
مصروف العمل ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف وادی کشمیر کے لہلہاتے سبز زاروں کے مکین ہیں جہاں عربی زبان و ادب کے بارے میں مخصوص افراد ہی واقفیت یا اس پر کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ عالمی شہرت کے حامل ہیں ( یہاں گر میں کشمیر کے عظیم عالم و فاضل کا نام نہ لوں تو یہ خلاف ادب ہوگا میری مراد ہیں علامہ انور شاہ لولابی کشمیری رحمہ اللہ جن کے علمی وقار سے متعارف پوری دنیا کا علمی حلقہ ہے ) ان کے علاوہ بھی کچھ شخصیات ہیں جو عربی زبان و ادب پر کام کررہے ہیں
پر مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں کہ اس بار میرے محترم بازی مار گئے ہیں سب سے آگئے ہیں عربی زبان و ادب کی خدمات انجام دینے میں کچھ سال سے موصوف کی شگفتہ مزاجی سے حض اٹھانے میں مصروف ہوں اور موصوف بھی اپنی شگفتہ مزاجی میں نکھار لاتے جارہے ہیں
جن کا مختصر علمی و ادبی خاکہ پیش خدمت ہے
میری مراد ہیں ڈاکٹر معراج الدین ندوی حفظہ اللہ
والد محترم : عبدالرحمن
سکونت پانتہ چوک
تعلیمی قابلیت : ڈاکٹریٹ مؤرخ ناقد اور ادیب احمد امین مصری کے تنقیدی اور ادبی و تاریخی خدمات پر
تبسہ یونیورسٹی الجزاء سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عربی زبان و ادب کی خدمات پر
زیان یونیورسٹی الجزاء کی طرف سے سینٹفک بورڈ ممبر۔
آیدن یونیورسٹی ترکی کی جانب سے مجلہ تلمیذ اور اس کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے یک سالہ مالی معاونت
عربی زبان میں ان کی کچھ تالیفات
1- ترجم عشرة اجزاء من القرآن الحكيم
2- الاستاذ أحمدأمين ناقدا وأديبا
3- رائدالاختبار لنجاح الأبرار
4- تعالوا نتعلمِ العربية
5- الفكرة اللغوية عند الاستاذ أحمد أمين
6- رئيس التحرير لمجلة التلميذ
7- قنديل أم هاشم “دراسة تحليلية” (باللغة الأردية)
8- ماه صيام بحيثيت طبيب حاذق
9- نور الأريب من قواعد الأديب
لکھنے کا شوق
۱۴ سال کی عمر میں غیر مربوط طریقے سے لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا۔۔۔پھر ۱۵ سال کی عمر میں ” لا اکراہ فی الدین ” کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا تھا جو نامساعد حالات کی وجہ سے ضائع ہوگیا
عزیز مکرم جو سب سے بہترین کام عربی زبان و ادب کے لئے انجام دے رہے ہیں وہ ہے مجلة التلمیذ
کی اشاعت اس بارے میں مشہور نقاد و مصنف ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب رقم طراز ہیں
ڈاکٹر معراج الدین ندوی خود بھی بحیثیت لیکچرر عربی زبان و ادب کی تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عربی زبان وادب کی خدمت مجلہ “التلميذ” کی مسلسل اشاعت سے سرانجام دے رہے۔ یہ رسالہ اپنے معیار کی بدولت عالمی سطح کے رسائل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آرہا ہے کیونکہ ایک تو اس کی معیاری تحریرات اور دوسرا عربی دنیامیں اس کی پزیرائی سے عیاں ہے کہ حلقہ قارئین نہ صرف اسے پسند کرتے ہیں بلکہ بطور مدیر مجلہ ڈاکٹر معراج الدین بھی رسالے کی زینت معروف ومعتبر اساتذہ کرام اور ادباء وشعراء کی تحریر اور کلام سےبڑھا رہے ہیں۔ راقم کی نظر سے چند شمارے گزرے ہیں اور پڑھ کر اطمینان ہوا کہ رسالہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔۔عربی زبان کے اسکالرز اور طلبہ کے لئے ایک مفید رسالہ ہے
مجلة التلمیذ کا سفر عزیز محترم کی زبانی
2011 میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل ہونے کے بعد اپنے مشفق استاذ محترم پروفیسر صلاح الدین عمری نے مجھے سے کہا، آپ کوئی علمی و ادبی مجلہ نکالے مجھے ایک لمحے کے لئے اپنی ذات پر ترس آیا کہ یا الله کہی میرے استاذ محترم مجھ سے ناراض ہوکر مجھے کسی مصیبت میں ڈالنا تو نہیں چاہ ریے ہیں رب کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھ کر اور اپنی ہمت کو تحریک دے کر میں نے بسم اللہ کرنے کا ارادہ باندھ لیا اور اپنے استاد محترم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور ان کی رہنمائی میں دسمبر 2011 میں اس کام کو عملی شکل دے کر پہلا شمارہ تلمیذ کا صرف 24 صفحات پر شائع ہوا
لیکن یہ کام محنت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے بغیر بالکل ممکن نہ تھا اپنے دیگر اساتذہ اور رفقاء سے مشورے لینے کے بعد اس بات کا انداز ہوا پر اسے جاری رکھنے کے لئے طے کر لیا کہ چاہئے کتنی بھی مشکلات آئیں چاہئے مجھے کسی درگاہ یا مسجد کے سامنے ہاتھ کیوں نہ پھیلانا پڑے پر کام کو جاری ہی رکھوں گا اور اس کی اشاعت کو برابر جاری رکھنے کے لئے کبھی کچھ رقم دوستوں سے اور کبھی کچھ رقم اپنے والد محترم سے لیتا رہا حالانکہ والد محترم حفظہ اللہ نے ایک بار کہا کہ آپ عربی کے بجائے اردو میں مجلہ نکالیں لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے اللہ نے آپ کو اردو میں لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے پر میں نے ادب و احترام سے ان سے کہا کہ میرے استاد کا حکم ہے میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں آپ کے حکم کے مطابق اردو میں بھی مستقبل میں شائع کرنے کی کوشش کروں گا ( یاد رہے اردو میں شاہین نامی رسالہ جاری کرنے کا ارادہ کرچکے تھے پھر نہ معلوم کیا ہوا )
خیر والد محترم نے دعائیں دے کر خاموشی اختیار کر لی اور میں پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا
یوں یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک بار پھر 2013 میں میرے حوصلوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا کہ اب اس مجلے پر درود فاتحہ پڑھ کر دفن کردیا جائے کیوں کہ ہر ماہ ایک موٹی رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا تھا ایک اہل و عیال کی ذمہ داریاں اور دوسری طرف اس مجلے پر اخراجات ۔۔۔بڑا مشکل لمحہ تھا۔۔۔جب اس صورت حال کو میری شفیق و رفیق زوجہ محترمہ ڈاکٹر نور افشاں صالحاتی نے دیکھا کہ میں پریشانی میں مجلے کو بند کرنے جا رہا ہوں تو انہوں نے اپنے زیورات لاکر میرے سامنے رکھ کر کہا کہ علم اور علمی کاموں کے لئے اگر یہ زیورات کام نہ آئیں تو ہمارا جاہل رہنا ہی بہتر تھا ان کے جذبہ ایثار اور ذوق علمی کو دیکھ کر میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب خوشی و مسرت کو محسوس کیا جس کی بنیاد پر آج تک میں کھڑا ہوں اور اس مجلے کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کشمیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہورہا ہوں یہی وجہ ہے کہ 2017 میں جناب ڈاکٹر اصغر حسن سامون پرنسپل سیکریٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس مجلے کو اپنی سرپرستی میں لیکر مالی بوجھ سے کسی حد راحت دی جس کا میں مشکور و ممنون ہوں
موصوف کے اساتذہ جن کا تذکرہ انتہائی ادب سے کرتے ہیں
میرے کچھ اساتذہ :
مولانا بہاؤالدین سلفی ۔۔۔ان سے میں۱۴ /۱۵
سال کی عمر میں حدیث کا درس لیا اور ان سے ایک سال تک استفادہ کرتا رہا
۱۵ سے ۱۶ کی عمر کے درمیان عربی زبان کے قواعد اور “منہاج العربیہ”محمد عبداللہ وانی سابقہ امیر جماعت اسلامی سے پڑھیں اور استفادہ حاصل کیا جو کہ میرے لئے تعلیمی سفر کا آغاز تھا
پھر اس کے بعد جامعة الفلاح کی ایک دور دراز شاخ “چوکنیاں ” نامی دیہات ميں واقع مصباح العلوم میں ایک سال گزارا پھر وہاں کے اساتذہ کو میرے جمعہ بیانات پر اعتراضات اور ان کے پڑھانے کے دوران میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات سے پریشان ہونا سبب اخراج ہوا اس کے بعد ندوہ العلماء کا رخ کیا جہاں گرچہ پانچ چھ ماہ تک ہوسٹل کی سہولیات سے محروم رہا پر پھر اپنے اساتذہ کی شفقت و محبت کے زیر سایہ مجھے بھی ہوسٹل کی سہولیات میسر رہیں جہاں میں نے بہت سے اساتذہ سے استفادہ کیا جن میں مولانا فیصل بھٹکلی صاحب سے خاص تعلق بھی رہا اور عربی ادب کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا بھی ان سے یوں علم کا سفر اپنی منازل طے کرتا رہا جو میری تمنا و خواہش تھی طبری علامہ زمخشری اور تفسیر ماجدی وغیرہ کے ساتھ ساتھ تفھیم القرآن کا مطالعہ کرتا رہا مولانا مودودی رحمہ اللہ نے سابقہ تفاسیر کو جس خوبی سے عام فہم بنا کر اپنی تفسیر کو تیار کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے یہ عظیم علمی کارنامہ ہے جو کہ ہر خاص و عام کے لئے قابل استفادہ ہے
محترم ایک انتہائی سادہ مزاج کے حامل شخصیت کے مالک ہیں اور علمی و ادبی خدمات کے لئے انتہائی تیزی کے ساتھ محو سفر انکی سادگی کا یہ عالم کہ ایک بار سرینگر کے ایک سادہ سے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لئے چلے آئے اور چائے پینے کے لئے آرڈر دے کر باتوں میں لگ گئے گرچہ میں ان کے علمی وقار سے متعارف ہونے کے سبب کچھ احتیاط کر رہا تھا پر موضوف مسلسل اپنے علمی سفر کی روداد سناتے رہے یہ اور بات ہے کہ ان سے باتیں کرنے کے دوران گر کوئی میری طرح کا انسان پھنس جائے تو ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی کیونکہ موصوف اچانک بات کرتے کرتے اردو کشمیری کو بول جاتے ہیں اور اپنی بات کا اختتام عربی الفاظ میں کرتے ہیں اور زبان سے ناواقف پریشان ہوجاتا ہے کہ اب کیا کروں اس بندے کا میری تو سمجھ کچھ نہیں آیا بس پھر ہاں ہوں کرنے میں ہی عافیت ہے ویسے محترم ہیں بڑے ہی سخنور اور پاکیزہ مزاج کے
دعا گو ہوں کہ رب الکریم مزید ترقی سے نوازے اور اپنی رحمتوں کا سایہ قائم و دائمی بنائے رکھے آپ پر اور یہ علمی و ادبی ستارہ چمکتا ہی رہے
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
