تازہ ترین
ہند۔پاک سرحدی کشیدگی میں شدت
نوگام سے منکوٹ تک حد متارکہ دہل اٹھی
ہند۔پاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری اور فائرنگ،3فوجی اہلکار،5دیگر زخمی
خبراردو:-
سرینگر:مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)پر جاری کشیدگی کے بیچ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) جمعرات کودہل اٹھی،جس دوران برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے تبادلے میں فوج کے3اہلکار ہلاک اور5زخمی ہوگئے۔تازہ گولہ باری کا تبادلہ سرحدی اضلاع کپوارہ اور پونچھ کے متعدد سیکٹروں میں ہوا ہے۔
سرینگر اور جموں میں مقیم دفاعی ترجمانوں کرنل راجیش کالیا اور کرنل دویندر آنند نے آر پار گولہ باری اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکت وزخمیوں کے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج مسلسل لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی بلا اشتعال خلاف ورزی کررہی ہے،جن کا مؤثر اور معقول جواب دیا جارہا ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق نوگام کپوارہ سے منکوٹ پونچھ تک لائن آف کنٹرول (حد متارکہ) پر جمعرات کو آر پار زوردار گولہ باری اور فائرنگ ہوئی جس میں فوج کے3اہلکار ہلاک جبکہ5دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔اس دوران دیگر کئی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شمالی ضلع کپوارہ میں جمعرات کوبھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین کرا س ایل او سی شیلنگ کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ4زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ کنٹرول لائن پر ضلع کے نوگام میں سیکٹر میں پیش آیا۔ادھر پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نوگام سیکٹر میں 15یونٹ سکھ لائٹ انفنٹری کے حولدار کلدیپ اور جیک رائفل یونٹ کے رائفل مین شبھم فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کی افواج نے ایکدوسرے پر آرٹلری کا استعمال کیا۔فوج نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوگام سیکٹر میں پاکستانی افواج نے کسی اشتعال کے بغیر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو مارٹر گولوں اور دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق پاکستان کی شیلنگ سے2فوجی اہلکار ہلاک اور4زخمی ہوگئے۔ دفاعی ترجمان نے مزید کہا’پاکستان کی گولی باری کا مْنہ توڑ جواب دیا جارہا ہے‘۔
یہ جمعرات کے روز اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے،اس سے قبل پونچھ میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا۔ادھر اطلاعات کے مطابق پونچھ میں بھی ہند۔پاک افواج کے درمیان آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔اطلاعات کے مطابقجموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے کرشنا گاٹھی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بدھ کی شب ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ایل او سی پر بدھ کی شب پاکستانی فوج نے بلا کسی اشتعال کے ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنا کر شدید گولہ باری شروع کی جس کے نتیجے میں دو فوجی جوان زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زخمی جوانوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر گورنمنٹ اسپتال راجوری منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے ایک جوان کی راستے میں ہی موت واقع ہوگئی۔ مہلوک فوجی جوان کی شناخت لانس نائیک کرنیل سنگھ جبکہ زخمی جوان کی شناخت رائفل مین وریندر سنگھ کے بطور ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وریندر سنگھ کی دائیں آنکھ میں گولی لگی ہے۔جموں میں تعینات دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ30 ستمبر یعنی بدھ کو پاکستانی فوج نے ضلع پونچھ میں ایل او سی کے کرشنا گاٹھی سیکٹر میں بلا اشتعال جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ’ہمارے فوجیوں نے دشمن کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا۔ فائرنگ کے واقعہ میں لانس نائیک کرنیل سنگھ شدید طور پر زخمی ہوگئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے‘۔دفاعی ترجمان نے مزید کہا کہ لانس نائیک کرنیل سنگھ ایک بہادر، انتہائی پرعزم اور ایک مخلص فوجی تھے۔ انہوں نے کہا کہ قوم مہلوک فوجی کی ہمیشہ احسان مند رہے گی۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل کی جارہی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا معقول جواب دیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستانی فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہوا تھا۔سرینگر اور جموں میں مقیم دفاعی ترجمانوں کرنل راجیش کالیا اور کرنل دویندر آنند کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پر مسلسل سن 2003جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے،جس کا معقول اور مؤثر جواب دیا جارہا ہے۔
مشرقی لداخ میں ہند۔چین سرحد پر جاری کشیدگی کے بیچ لائن آف کنٹرول پر تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لداخ میں ہند۔چین افواج بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ توپوں کے علاوہ میزائل بھی سرحد پر نصب کئے ہیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
