تازہ ترین
مسلمانون کا عروج وزوال ملکر اب مستقبل کی فکر کرتے ہیں
قاری نصیر احمد پیر
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے فی الوقت جب ہم گہراہی اور غور و فکر سے حالات و واقعات کا آئے روز مشاہدہ کرتے ہیں ریڈیو،ٹی وی، دیکھتے ہیں جرائد و رسائل پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے مجموعی طور اس وقت پوری دنیا میں غیر اقوام کے برعکس مسلمانوں کو سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی،مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ہم تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کا ماضی ہمیں درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے مسلمانوں کے دور ِ ماضی کو دیکھ کرمعلوم ہوتا ہے مسلمانوں کو خلافت راشدہ سے لیکر اپنے آخری دور اقتدار خلافت عثمانیہ تک ان مسائل کا سامنا نہیں تھا بہر کیف اس وقت امت مسلمہ جس نازک مقام پر کھڑی ہے اس میں اغیار کی سازش اپنوں کی بے وفائی شامل ہے خلافت راشدہ کا آفتاب غروب ہونے کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے لئے گوں نا گوں مسائل کھڑے ہوئے۔
آج مغربی ممالک کے کچھ دانشور صحافی خود کو افلاطون سمجھنے والے مسلمانوں کو طعنے دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس تعلیم نہیں ہے مسلمانوں کا ماضی کچھ نہیں تھا تاریخ شاہد ہے مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا امت مسلمہ نے یورپ کوجینے کا طریقہ سیکھایا مسلم قوم کے بہادروں اور جیالوں نے تاریخ رقم کی ہے ہم یہ بات دنیا کو فخر سے کہتے ہیں ہم نے دنیا کو ابن رشد سا فلاسفر، اور ابن سینا، اور ابن باجۃ، جیسا حکمائے حاذق اور ابن نفیس،جیسا گردش خون پر تحقیق کرنے والا سپیشللسٹ دیا اس بات کا اعتراف یورپ کے مشہور و معروف مورخ مثل گبن نے یہ خود تسلیم کر لیا ہے ہر علم کے موجد عرب کے مسلم علماء ہے یورپ نے ان علوم و فنون کو اس درجہ ترقی دی ہے جس کو ہم حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کیلئے یہاں ہم صرف دو مثالیں قارئین کی خدمت میں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ اسپین میں مسلم قوم کا ماضی:عہد فاروقی میں بہت زیادہ فتوحات ہوئے ماوراء النہر کا علاقہ فتح ہوا دوسری طرف آرمنیا تک پہنچے لاکھوں مرلبع میل فتح کئے عیسائی مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگر خلیفہ دوم کی حکومت مزید تھوڑی مدت تک قائم دوائم رہتی تو آج پورا یورپ اسلام کی نوری کرنوں سے آباد ہوا ہوتا اسپین کو یورپ کا دورازہ کہتے ہیں خلیفہ عبد المک بن مروان کے دور اقتدار میں تین مشہور فوجی جرنل تھے جن کو کے کارنامے اسلامی تاریخ مین سنہری حروف کے ساتھ لکھے گئے ہیں محمد بن قاسم جسکو فاتح سند ھ مورخین نے لکھا ہے۔جنرل موسی بن نضیر فاتح شمالی افریقہ اور جنرل طارق بن زیاد فاتح اسپین مسلمانوں کا اسپین پر قبضہ 712ٗء میں ہوا جو سات سو اسی تک قائم و دائم رہا عیسایوں نے پھر اسپین پر 1492ٗٗء پر قبضہ کیا اور اسپین سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرنا شروع کیا مسلمانوں کا پہلا دشمن کنک فروی نند تھا جس نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ کس طرح مسلمانوں کا صفایا کیا جائے گا یہاں یہ بات غور طلب ہے،مسلمانوں نے سات سو اسی تک حکومت کی پھر مسلم اقتدار کو زوال کیسے آیا تو اسکا جواب مورخین نے یہ لکھا ہے کہ اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ یہ کہ مسلمانوں نے آپس میں فرقے بنائے اور کچھ مسلمان اپنی صفیں چھوڑ کر عیسائیوں کی حمایت کرنے لگے جس کی وجہ سے عیسائی اسپین پر قابض ہوئے بہر کیف مسلمانوں نے اسپین پر فتح حاصل کی اب تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تقریباََپورے یورپ پر مسلمان فتح حاصل کر جاتے لیکن دور فاروقی میں یہاں فتح رک گئی اب مزید آگے جانے کا ارادہ تھا لیکن چکی کا پہیہ واپس پلٹنے لگا بہر کیف وقت گزرتا گیا یورپ نے واپس مسلم اسپین کو قبضے میں لیا اوراسپین کو دیکھ کر ششدر رہ گئے کیونکہ اسپین ایک ترقی یافتہ ملک بنا ہوا تھا جو ہر اعتبار سے اپنی مثال اپ تھا جو اس بات کو زبان ِحال سے بیان کر رہا تھا یورپ کے رہنے والو مسلمانوں کاماضی عدل،امن،ترقی، خوشحالی، شرم و حیا پر مبنی تھا یورپ نے جب اسپین میں تاریخی جگہوں کو دیکھا مکانات دیکھے ٹھیک انہوں نے مسلمانوں کے مکانات دیکھ کر اپنے مکانات تعمیر کئے 16ء تک یورپین فوج لائن میں بیٹھ کر برہنہ پیشاب کرتے تھے لیکن اسپین پر قابض ہونے کے بعد مسلمانوں کے بیت الخلاء دیکھ کر انہوں نے بھی بیت الخلاء بنانے شروع کر دئے تاریخ گواہ ہے اسپین پر قابض ہونے سے پہلے مغربی ممالک کے عقلمندوں کو پیشاب کرنے کا طریقہ تک بھی نہیں آتا تھا۔عہد فارقی کی فتوحات دیکھ کر مفکر ملت شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایا
دی آذانیں ہم نے کھبی یورپ کے کلیساوں میں کھبی افریقہ کے تپتے ہوئے سحروں میں
دشت تودشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بہر ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے
ارض ہند میں مسلم قوم کا ماضی :مسلم قوم کا دور حکومت ہندوستان میں بھی اپنی مثال آپ رہا ہے، موجودہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کیلئے ماضی کامسلم دور حکومت سبق ہے،مسلمانوں نے ہندوستان پر کل ملا کر تقریباََ ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے جن میں سر فہرست خاندان مغل،خاندان تغلق،خاندان غلامان،خاندان خلیجی،خاندان لودھی،خاندان سید،شامل ہے مغلیہ سلطنت کا دور مغل بابر شاہ سے شروع ہوااور بد قسمتی مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں جب انگریز ہندوستان تجارت کی غرض سے آئے انہوں نے اندر ہی اندر سے مغل سلطنت کے خاتمے کیلئے کام کرنا شروع کیا اور ہندوستان پر قابض ہونا چاہتے تھے ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں ہتھیار جمع کئے اور پھر منظم ہوئے اور پھر با قاعدہ مغل سلطنت کے ساتھ نبرد آزما ہوئے مغل سلطنت کے دور کا آخری بادشاہ مغل شاہ ظفر رہا شاہ ظفر کے والد مرحوم اورنگزیب عالم گیر رنگون جیل میں انتقال کر گئے تھے ان کو برطانوی ظالم قابض حکومت نے انکو جیل میں بند کیا تھا پھر اس مغل سلطنت کا ہمیشہ کیلئے ہندوستان سے انخلاء ہوا اور برطانیہ بلا آ خر دہلی کے شاہی تخت پر قابض ہوا،مذکورہ بالا تمام خاندانوں کا تذکرہ اس وقت نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ اسکا مختصر نقشہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ خاندانِ غلامان نے 1260سے 12 90 تک خاندان خلیجی نے 1290سے 1321تک خاندان تغلق نے 1321سے1412خاندان سید نے 1414سے 1451تک خاندان لودھی نے 1451سے1526تک خاندان مغل نے1526سے لیکر1857تک حکومت کی پھر یہاں پر مغل سلطنت کا خاتمہ کیا پھر مسلمان متحد ہوئے اور انگریز کے خلاف علم ِجہاد بلند لہذا ایک زور دار تحریک چلائی، گئی جو آج بھی کتب تاریخ میں، ریشمی رومال،کے نام سے جانی جاتی ہے خیر ارض ہند سے ہمیشہ کیلئے مسلمانوں نے برطانیہ کو نکال دیا مگر افسوس آج کہا جاتا ہے یہ چمن تمہارا نہیں ہمارا ہے۔ تو مسلمانوں کا ماضی بالخصوص ارض ہند کے دور اقتدار کے دوران انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔مسلمانوں کے دور اقتدار میں ہندوستان ترقی کے عروج پر تھا اور جب برطانیہ ہندوستان آ یا،تو انہوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا لقب،دیا تھا ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان کو آباد دیکھا،تو اسکی نیت بدل گئی اور اسی لئے ہندستان پر قبضہ کیا تاکہ یہ سارے وسائل مجھے ہاتھ میں آئیں گے۔جب آج آزادی ہند کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو ہمارے سامنے شیر میسور ٹیپو سلطان حاٖفظ ضامن شہید شاہ اسماعیل شہید اشفا ق اللہ خان کی تصویر ذہنوں میں آتی ہے مختصر ہندوستان کو مسلمانوں نے بنایا اور جب دشمن نے اس کو چھینا چاہا تو پھر اس کو واپس لینے کیلئے مسلمانوں نے جان دی،بہر کیف مسلمانوں کا ماضی ارض ہند میں بھی درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے۔مسلمانوں کو ان سیاسی، معاشی، تعلیمی، مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان میں مسلم حکومت کے دور اقتدار میں اقلیتوں کو بھی ان مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان کی معاشی حالت بہتر تھی جس کا اعتراف مسلم مورخ نہیں بلکہ غیر مسلم مورخ صحافی دانشور حضرات بھی کر چکے ہیں ۔مسلم قوم کا ماضی سنہری حروف سے لکھا گیا ہے جب تک ارض ہند کی باگ دوڈ زمام ِ اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا تو ہندوستان میں تمام مذاہب کے رہنے والے خوشحال تھے اس بات کا اعتراف کوئی مسلم نہیں بلکہ ایک برطانوی غیر مسلم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ مسٹر باسو لکھتا ہے رعایا کی خوشحالی اور سرمایہ داری کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا دور حکومت سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے دولت مندی اور آرام چین کا جو نقشہ شاہجاں کے وقت میں دیکھنے میں آیا تھا بلا شبہ بے مثل و بے نظیر تھا
(بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)اسی کتاب کے حوالے سے ایک اور غیر مسلم مسٹر وڈ کے ان اقتباسات کو نقل کیا گیا ہے سراج الدین دولہ کے انتقال کے بعد جن لوگوں نے بنگال سے کوچ کیا ان سے اس بات کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں اس وقت یہ سلطنت دنیا میں سب سے زیادہ آباد اور کاشت کے لحاظ سے بہترین تھی یہاں کے شرفاء اور تاجر دولت اور عیش میں لوٹ لگاتے تھے اور ادنی درجہ کے کسانوں اور کاریگروں پر خوشحالی اور آسانی کی برکتیں نازل ہوتی تھیں۔ہندوستان کی معاشی خوشحالی تو دنیا بھر میں مشہور تھی اسی لئے اس سے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا ہندوستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک وقت بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے صرف آگرہ اور دہلی کے خزانوں کی پڑتال کا حکم دیا تھا چھ ماہ تک کہیں ہزار نفوس چاندی کے سکے تولنے میں مصروف رہے اور معلوم ہوا خزانہ شاہی کا صرف ایک ہی کونہ تولہ جا سکتا ہے اشرفیوں اور جواہرات کی نوبت نہیں آئی (بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)حقیقت یہ ہے اس سے پہلے امت مسلمہ کیلئے معاش کھبی مسئلہ نہیں رہا تھا،امت مسلمہ معاشی طور پر خوش حال ہی رہی،جب کوئی بھی فرد بغیر تعصب کے امت مسلمہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے امت مسلمہ نے اپنی دور حکومت میں اقلیتوں کو تحفظ دیا اور مجموعی طور پر پورے ملک کے رہنے والے خوشحال زندہ گی بسر کررہے تھے۔
حال ہے بد حال کیوں:مجموعی طور اگر دیکھا جائے مسلم قوم مجموعی طور پر پریشان ہے مجموعی طور پر طرح طرح کے مسائل کا سامنا صرف امت مسلمہ کو کرنا پڑ رہا ہے برما میں مسلمان کٹ رہے ہیں عزتیں لٹ رہی ہے گلستان اجڑ رہے ہیں فلسطین میں مسلمانوں کو اپنے کئے کی سزا مل رہی ہیں کیونکہ انہوں کار خیر کے نام پر جرم عظیم کیا انہوں یہودیوں کو جگہ دی اور آج وہ یہودی انکو فلسطین سے نکال رہے ہیں چچنیا، برما،صومالیہ، عراق، شام، یمن،لیبیا، میں مسلمان یا اپنوں کے ہاتھوں نشانہ بن رہے ہیں یا کہیں غیر مسلموں کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں ایک طرف مسلمان پٹ رہے ہیں ووسری طرف مسلمانوں کو ہی سب سے زیادہ سیاسی سماجی تعلیمی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے گوناگوں مسائل سے امت مسلم کو نکلنے کیلئے امت مسلم کے قائدین کو اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر متحد ہونے کی ضرورت ہے اور مستقبل کیلئے ایک مکمل لائحہ عمل مرتب دینے کی ضرورت ہے
مستقبل کو بنائیں روشن.مستقبل کا سبق شاعر مشرق مفکر ملت ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے یوں فرمایا
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
امت مسلم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اپسی اختلافات ہے اختلافات کی وجہ سے ہی امت مسلم کے ہاتھ سے دور خلافت بھی ہاتھ سے گیا اور آج غیر مسلم قوم کاغلام مسلمان بن گیا ہے معمولی سی باتوں پر ایک دوسرے کو کافر سمجھنا اس سے اسلام کو فائدہ ہے اور نا ہی اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہے البتہ اسلام مخالف عناصر کو فائدہ ہو رہا ہے۔ لہذا اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد محبت و الفت پیدا کریں اپنے معاشرے اپنی سوسائٹی سے نفرت کو ختم کریں اور مستقبل کیلئے ایک مضبوظ لائحہ عمل مرتب کریں امت کے قائدین پر اس وقت ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہر فرد ہے ملت میں مقدر کا ستارہ فرداََ فرداََ امت مسلم ذمہ داری دیانت داری کا مظاہرہ کرے مصلحت کے نام پر بزدلی اختیار کھبی نہیں کرنی ہوگی اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے سب سے زیادہ قدرتی وسائل امت مسلم کے پاس ہے انکا صحیح استعمال کرکے امت مسلم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں جو بھی اس وقت ہمارے پاس موجود ہے تعلیم،اقتدر یا وسائل انکو غنیمت سمجھ کر انکی قدر کریں اور جو ہمارے پاس موجود نہیں ہے اسکو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
