تازہ ترین
مسلمانون کا عروج وزوال ملکر اب مستقبل کی فکر کرتے ہیں
قاری نصیر احمد پیر
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے فی الوقت جب ہم گہراہی اور غور و فکر سے حالات و واقعات کا آئے روز مشاہدہ کرتے ہیں ریڈیو،ٹی وی، دیکھتے ہیں جرائد و رسائل پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے مجموعی طور اس وقت پوری دنیا میں غیر اقوام کے برعکس مسلمانوں کو سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی،مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ہم تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کا ماضی ہمیں درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے مسلمانوں کے دور ِ ماضی کو دیکھ کرمعلوم ہوتا ہے مسلمانوں کو خلافت راشدہ سے لیکر اپنے آخری دور اقتدار خلافت عثمانیہ تک ان مسائل کا سامنا نہیں تھا بہر کیف اس وقت امت مسلمہ جس نازک مقام پر کھڑی ہے اس میں اغیار کی سازش اپنوں کی بے وفائی شامل ہے خلافت راشدہ کا آفتاب غروب ہونے کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے لئے گوں نا گوں مسائل کھڑے ہوئے۔
آج مغربی ممالک کے کچھ دانشور صحافی خود کو افلاطون سمجھنے والے مسلمانوں کو طعنے دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس تعلیم نہیں ہے مسلمانوں کا ماضی کچھ نہیں تھا تاریخ شاہد ہے مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا امت مسلمہ نے یورپ کوجینے کا طریقہ سیکھایا مسلم قوم کے بہادروں اور جیالوں نے تاریخ رقم کی ہے ہم یہ بات دنیا کو فخر سے کہتے ہیں ہم نے دنیا کو ابن رشد سا فلاسفر، اور ابن سینا، اور ابن باجۃ، جیسا حکمائے حاذق اور ابن نفیس،جیسا گردش خون پر تحقیق کرنے والا سپیشللسٹ دیا اس بات کا اعتراف یورپ کے مشہور و معروف مورخ مثل گبن نے یہ خود تسلیم کر لیا ہے ہر علم کے موجد عرب کے مسلم علماء ہے یورپ نے ان علوم و فنون کو اس درجہ ترقی دی ہے جس کو ہم حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کیلئے یہاں ہم صرف دو مثالیں قارئین کی خدمت میں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ اسپین میں مسلم قوم کا ماضی:عہد فاروقی میں بہت زیادہ فتوحات ہوئے ماوراء النہر کا علاقہ فتح ہوا دوسری طرف آرمنیا تک پہنچے لاکھوں مرلبع میل فتح کئے عیسائی مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگر خلیفہ دوم کی حکومت مزید تھوڑی مدت تک قائم دوائم رہتی تو آج پورا یورپ اسلام کی نوری کرنوں سے آباد ہوا ہوتا اسپین کو یورپ کا دورازہ کہتے ہیں خلیفہ عبد المک بن مروان کے دور اقتدار میں تین مشہور فوجی جرنل تھے جن کو کے کارنامے اسلامی تاریخ مین سنہری حروف کے ساتھ لکھے گئے ہیں محمد بن قاسم جسکو فاتح سند ھ مورخین نے لکھا ہے۔جنرل موسی بن نضیر فاتح شمالی افریقہ اور جنرل طارق بن زیاد فاتح اسپین مسلمانوں کا اسپین پر قبضہ 712ٗء میں ہوا جو سات سو اسی تک قائم و دائم رہا عیسایوں نے پھر اسپین پر 1492ٗٗء پر قبضہ کیا اور اسپین سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرنا شروع کیا مسلمانوں کا پہلا دشمن کنک فروی نند تھا جس نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ کس طرح مسلمانوں کا صفایا کیا جائے گا یہاں یہ بات غور طلب ہے،مسلمانوں نے سات سو اسی تک حکومت کی پھر مسلم اقتدار کو زوال کیسے آیا تو اسکا جواب مورخین نے یہ لکھا ہے کہ اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ یہ کہ مسلمانوں نے آپس میں فرقے بنائے اور کچھ مسلمان اپنی صفیں چھوڑ کر عیسائیوں کی حمایت کرنے لگے جس کی وجہ سے عیسائی اسپین پر قابض ہوئے بہر کیف مسلمانوں نے اسپین پر فتح حاصل کی اب تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تقریباََپورے یورپ پر مسلمان فتح حاصل کر جاتے لیکن دور فاروقی میں یہاں فتح رک گئی اب مزید آگے جانے کا ارادہ تھا لیکن چکی کا پہیہ واپس پلٹنے لگا بہر کیف وقت گزرتا گیا یورپ نے واپس مسلم اسپین کو قبضے میں لیا اوراسپین کو دیکھ کر ششدر رہ گئے کیونکہ اسپین ایک ترقی یافتہ ملک بنا ہوا تھا جو ہر اعتبار سے اپنی مثال اپ تھا جو اس بات کو زبان ِحال سے بیان کر رہا تھا یورپ کے رہنے والو مسلمانوں کاماضی عدل،امن،ترقی، خوشحالی، شرم و حیا پر مبنی تھا یورپ نے جب اسپین میں تاریخی جگہوں کو دیکھا مکانات دیکھے ٹھیک انہوں نے مسلمانوں کے مکانات دیکھ کر اپنے مکانات تعمیر کئے 16ء تک یورپین فوج لائن میں بیٹھ کر برہنہ پیشاب کرتے تھے لیکن اسپین پر قابض ہونے کے بعد مسلمانوں کے بیت الخلاء دیکھ کر انہوں نے بھی بیت الخلاء بنانے شروع کر دئے تاریخ گواہ ہے اسپین پر قابض ہونے سے پہلے مغربی ممالک کے عقلمندوں کو پیشاب کرنے کا طریقہ تک بھی نہیں آتا تھا۔عہد فارقی کی فتوحات دیکھ کر مفکر ملت شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایا
دی آذانیں ہم نے کھبی یورپ کے کلیساوں میں کھبی افریقہ کے تپتے ہوئے سحروں میں
دشت تودشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بہر ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے
ارض ہند میں مسلم قوم کا ماضی :مسلم قوم کا دور حکومت ہندوستان میں بھی اپنی مثال آپ رہا ہے، موجودہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کیلئے ماضی کامسلم دور حکومت سبق ہے،مسلمانوں نے ہندوستان پر کل ملا کر تقریباََ ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے جن میں سر فہرست خاندان مغل،خاندان تغلق،خاندان غلامان،خاندان خلیجی،خاندان لودھی،خاندان سید،شامل ہے مغلیہ سلطنت کا دور مغل بابر شاہ سے شروع ہوااور بد قسمتی مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں جب انگریز ہندوستان تجارت کی غرض سے آئے انہوں نے اندر ہی اندر سے مغل سلطنت کے خاتمے کیلئے کام کرنا شروع کیا اور ہندوستان پر قابض ہونا چاہتے تھے ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں ہتھیار جمع کئے اور پھر منظم ہوئے اور پھر با قاعدہ مغل سلطنت کے ساتھ نبرد آزما ہوئے مغل سلطنت کے دور کا آخری بادشاہ مغل شاہ ظفر رہا شاہ ظفر کے والد مرحوم اورنگزیب عالم گیر رنگون جیل میں انتقال کر گئے تھے ان کو برطانوی ظالم قابض حکومت نے انکو جیل میں بند کیا تھا پھر اس مغل سلطنت کا ہمیشہ کیلئے ہندوستان سے انخلاء ہوا اور برطانیہ بلا آ خر دہلی کے شاہی تخت پر قابض ہوا،مذکورہ بالا تمام خاندانوں کا تذکرہ اس وقت نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ اسکا مختصر نقشہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ خاندانِ غلامان نے 1260سے 12 90 تک خاندان خلیجی نے 1290سے 1321تک خاندان تغلق نے 1321سے1412خاندان سید نے 1414سے 1451تک خاندان لودھی نے 1451سے1526تک خاندان مغل نے1526سے لیکر1857تک حکومت کی پھر یہاں پر مغل سلطنت کا خاتمہ کیا پھر مسلمان متحد ہوئے اور انگریز کے خلاف علم ِجہاد بلند لہذا ایک زور دار تحریک چلائی، گئی جو آج بھی کتب تاریخ میں، ریشمی رومال،کے نام سے جانی جاتی ہے خیر ارض ہند سے ہمیشہ کیلئے مسلمانوں نے برطانیہ کو نکال دیا مگر افسوس آج کہا جاتا ہے یہ چمن تمہارا نہیں ہمارا ہے۔ تو مسلمانوں کا ماضی بالخصوص ارض ہند کے دور اقتدار کے دوران انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔مسلمانوں کے دور اقتدار میں ہندوستان ترقی کے عروج پر تھا اور جب برطانیہ ہندوستان آ یا،تو انہوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا لقب،دیا تھا ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان کو آباد دیکھا،تو اسکی نیت بدل گئی اور اسی لئے ہندستان پر قبضہ کیا تاکہ یہ سارے وسائل مجھے ہاتھ میں آئیں گے۔جب آج آزادی ہند کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو ہمارے سامنے شیر میسور ٹیپو سلطان حاٖفظ ضامن شہید شاہ اسماعیل شہید اشفا ق اللہ خان کی تصویر ذہنوں میں آتی ہے مختصر ہندوستان کو مسلمانوں نے بنایا اور جب دشمن نے اس کو چھینا چاہا تو پھر اس کو واپس لینے کیلئے مسلمانوں نے جان دی،بہر کیف مسلمانوں کا ماضی ارض ہند میں بھی درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے۔مسلمانوں کو ان سیاسی، معاشی، تعلیمی، مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان میں مسلم حکومت کے دور اقتدار میں اقلیتوں کو بھی ان مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان کی معاشی حالت بہتر تھی جس کا اعتراف مسلم مورخ نہیں بلکہ غیر مسلم مورخ صحافی دانشور حضرات بھی کر چکے ہیں ۔مسلم قوم کا ماضی سنہری حروف سے لکھا گیا ہے جب تک ارض ہند کی باگ دوڈ زمام ِ اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا تو ہندوستان میں تمام مذاہب کے رہنے والے خوشحال تھے اس بات کا اعتراف کوئی مسلم نہیں بلکہ ایک برطانوی غیر مسلم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ مسٹر باسو لکھتا ہے رعایا کی خوشحالی اور سرمایہ داری کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا دور حکومت سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے دولت مندی اور آرام چین کا جو نقشہ شاہجاں کے وقت میں دیکھنے میں آیا تھا بلا شبہ بے مثل و بے نظیر تھا
(بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)اسی کتاب کے حوالے سے ایک اور غیر مسلم مسٹر وڈ کے ان اقتباسات کو نقل کیا گیا ہے سراج الدین دولہ کے انتقال کے بعد جن لوگوں نے بنگال سے کوچ کیا ان سے اس بات کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں اس وقت یہ سلطنت دنیا میں سب سے زیادہ آباد اور کاشت کے لحاظ سے بہترین تھی یہاں کے شرفاء اور تاجر دولت اور عیش میں لوٹ لگاتے تھے اور ادنی درجہ کے کسانوں اور کاریگروں پر خوشحالی اور آسانی کی برکتیں نازل ہوتی تھیں۔ہندوستان کی معاشی خوشحالی تو دنیا بھر میں مشہور تھی اسی لئے اس سے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا ہندوستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک وقت بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے صرف آگرہ اور دہلی کے خزانوں کی پڑتال کا حکم دیا تھا چھ ماہ تک کہیں ہزار نفوس چاندی کے سکے تولنے میں مصروف رہے اور معلوم ہوا خزانہ شاہی کا صرف ایک ہی کونہ تولہ جا سکتا ہے اشرفیوں اور جواہرات کی نوبت نہیں آئی (بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)حقیقت یہ ہے اس سے پہلے امت مسلمہ کیلئے معاش کھبی مسئلہ نہیں رہا تھا،امت مسلمہ معاشی طور پر خوش حال ہی رہی،جب کوئی بھی فرد بغیر تعصب کے امت مسلمہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے امت مسلمہ نے اپنی دور حکومت میں اقلیتوں کو تحفظ دیا اور مجموعی طور پر پورے ملک کے رہنے والے خوشحال زندہ گی بسر کررہے تھے۔
حال ہے بد حال کیوں:مجموعی طور اگر دیکھا جائے مسلم قوم مجموعی طور پر پریشان ہے مجموعی طور پر طرح طرح کے مسائل کا سامنا صرف امت مسلمہ کو کرنا پڑ رہا ہے برما میں مسلمان کٹ رہے ہیں عزتیں لٹ رہی ہے گلستان اجڑ رہے ہیں فلسطین میں مسلمانوں کو اپنے کئے کی سزا مل رہی ہیں کیونکہ انہوں کار خیر کے نام پر جرم عظیم کیا انہوں یہودیوں کو جگہ دی اور آج وہ یہودی انکو فلسطین سے نکال رہے ہیں چچنیا، برما،صومالیہ، عراق، شام، یمن،لیبیا، میں مسلمان یا اپنوں کے ہاتھوں نشانہ بن رہے ہیں یا کہیں غیر مسلموں کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں ایک طرف مسلمان پٹ رہے ہیں ووسری طرف مسلمانوں کو ہی سب سے زیادہ سیاسی سماجی تعلیمی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے گوناگوں مسائل سے امت مسلم کو نکلنے کیلئے امت مسلم کے قائدین کو اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر متحد ہونے کی ضرورت ہے اور مستقبل کیلئے ایک مکمل لائحہ عمل مرتب دینے کی ضرورت ہے
مستقبل کو بنائیں روشن.مستقبل کا سبق شاعر مشرق مفکر ملت ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے یوں فرمایا
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
امت مسلم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اپسی اختلافات ہے اختلافات کی وجہ سے ہی امت مسلم کے ہاتھ سے دور خلافت بھی ہاتھ سے گیا اور آج غیر مسلم قوم کاغلام مسلمان بن گیا ہے معمولی سی باتوں پر ایک دوسرے کو کافر سمجھنا اس سے اسلام کو فائدہ ہے اور نا ہی اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہے البتہ اسلام مخالف عناصر کو فائدہ ہو رہا ہے۔ لہذا اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد محبت و الفت پیدا کریں اپنے معاشرے اپنی سوسائٹی سے نفرت کو ختم کریں اور مستقبل کیلئے ایک مضبوظ لائحہ عمل مرتب کریں امت کے قائدین پر اس وقت ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہر فرد ہے ملت میں مقدر کا ستارہ فرداََ فرداََ امت مسلم ذمہ داری دیانت داری کا مظاہرہ کرے مصلحت کے نام پر بزدلی اختیار کھبی نہیں کرنی ہوگی اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے سب سے زیادہ قدرتی وسائل امت مسلم کے پاس ہے انکا صحیح استعمال کرکے امت مسلم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں جو بھی اس وقت ہمارے پاس موجود ہے تعلیم،اقتدر یا وسائل انکو غنیمت سمجھ کر انکی قدر کریں اور جو ہمارے پاس موجود نہیں ہے اسکو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
