تازہ ترین
درابو کی برخواستگی، مشن مکمل
عاصم محی الدین
گزشتہ ہفتہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے دوران جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کیا جسے طاقتور وزیر خزانہ تصور کیا جاتا تھا اور انہوں نے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو سے ایجنڈآف الائنس مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر درابو نہ صرف پی ڈی پی سرپرست و سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے قریبی تھے بلکہ وہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان واحد رابطہ تھا اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اورمخلوط حکومت میں دیگر مختلف پارٹی لیڈران کے ساتھ اچھی سوجھ بوجھ تھی۔
مفتی محمد سعید نے حسیب درابو کو جموں وکشمیر کی سیاست میں لایا اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے حوصلہ افزائی کی اور ان کی حکومت کیلئے وزیر خزانہ بننے کی راہ ہموار کی۔ جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دی ، درابو کو وزارت خزانہ کے قلمدان کی ذمہ داری اُس وقت سونپی گئی جب 2014میں تباہ کن سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے ریاست کوکافی مالی مدد کی ضرورت تھی ۔

درابو کو کشمیر پر دیئے گئے متنازعہ بیان سیاسی مسئلہ کی بجائے ’سماجی مسئلہ‘قرار دینے کے بعد برخواست کیاگیا۔ بیان کی وجہ سے پی ڈی پی کی اعلیٰ قیادت بشمول جموں وکشمیر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ڈی پی کے قیام کے وقت سے ہی پارٹی کا موقف ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹھوس مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔والد کے انتقال کے بعد وزیر اعلیٰ بننے سے ہی محبوبہ مفتی نے ہمیشہ ہندو پاک اور مزاحمتی خیمہ کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی تاہم ابھی تک ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔
کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے کے بیان نے نہ صرف پی ڈی پی میں کھلبلی مچا دی بلکہ ہند نواز اور علیحدگی پسندجماعتوں کے شدید حملوں کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ درابو کے علاوہ ،پی ڈی پی کے 2وزرائ، وزیر تعلیم الطاف بخاری اور یوتھ سروس اینڈ سپورٹس کے وزیر عمران رضا انصاری بھی اُس تقریب میں شامل تھے ، جس میںدرابو نے یہ تبصرہ کیا تھا حالانکہ انہوںنے درابو کا کوئی دفاع نہیں کیا، یہ سماجی بہبود کے وزیراور بی جے پی کے اتحادی سجاد لون اور بارہمولہ کے رکن قانون سازیہ جاوید بیگ تھے جنہوںنے درابو کا دفاع کیا باقی تمام نے سابق وزیر خزانہ کو کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے پر تنقید کی۔
گزشتہ ہفتہ نئی دہلی میں ’کشمیر:آگے بڑھنے کا راستہ‘ (Kashmir: The Way Forward)کے موضوع پر درابو کہا تھا کہ ’کشمیر کو ایک تنازعہ کی ریاست اور سیاسی مسئلہ‘ سے نہ دیکھا جائے، یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جسے سماجی مسائل کا سامنا ہے، ہم اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ایسے عمل سے گزر رہے ہیں جس طرح دیگر ممالک گزر رہے ہیں‘۔ ”یہ (جے اینڈ کے) ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے جہاں تک میں دیکھتا ہوں، یہ گزشتہ50یا 70برسوں سے سیاست کی باتیں کرکے غلط درخت کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیاسی صورتحال میں کبھی بہتری نہیں آئی ہے، ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک ایسا سماج ہے جس کو خود اپنی تلاش میں ہے‘۔
بیان دینے کے بعد درابو کو بیان واپس لینے کیلئے کہا گیا جبکہ پی ڈی پی نے انضباطی کارروائی کرتے ہوئے انہیں خط بھیج دیا۔ پی ڈی پی ذرائع کے مطابق درابو کے بیان واپس نہ لینے اورکوئی جواب نہ دینے کے بعدمحبوبہ مفتی نے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ نے برطرف کیا ۔ کسی نے بھی درابو کا دفاع نہیں کیااور ان کےخلاف سخت کارروائی چاہی اورپارٹی کےلئے مسائل کیلئے پیدا کرنے کیلئے انہیں واحد شخص ذمہ دار قراردیا۔
پی ڈی پی نائب صدر، جو وزیر اعلیٰ کے ماموں ہیں، نے کہاکہ ان کی پارٹی جموں وکشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرتی ہے۔ ” تشکیل کے وقت سے ہی پارٹی کی انتھک کوششیں ہیں کہ مسئلہ کو افہام و تفہیم اورمذاکرات کے ذریعہ داخلہ اور خارجی سطح پر حل کیاجائے‘۔ مدنی نے کہاکہ یہ بدقسمتی تھی کہ برصغیر میں چند طاقتیںمسئلہ کوصرف انتظامیہ کے زاویے سے دیکھ کر عوامی خواہشات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ حسیب درابو نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو ایک خط شائع کرنے کیلئے جاری کیا جس میں انہوںنے کہاکہ اس کا خطاب پارٹی کی ’کشمیر کی سیاسی پالیسی‘ کیخلاف نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ انہیں وضاحت کرنے کا موقعہ نہیں دیا گیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کی برطرفی کی جانکاری دی گئی جو کہ دردناک تھا۔
درابو نے کہاکہ انہوںنے یہ کوشش کی کہ کشمیرنہ صرف ایک سیاسی مسئلہ تھا جسے بھارت اور آنے والی مرکزی و ریاستی حکومتوں کو حل کرنا چاہئے بلکہ یہ ایک سماجی معاملہ بھی ہے جسے سول سوسائٹی کی سطح پر بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
’جنہوں نے میری تقریر سنی یا تصب کے بغیر پڑھینگے، وہ یہ جان سکتے ہیں کہ میںہماری خواہشات اور خود کو سمجھنے کا ذکر رہا تھا ، حتی کہ میں پی ڈی پی کے نظریہ کو منتخب حاضرین کے سامنے لارہا تھا‘۔ درابو نے کہاکہ وہ پی ڈی پی کے سیلف رول دستاویز بنانے والے گروپ کا حصہ تھے، ’جہاں تک میری سوچ اور علم کا تعلق ہے، پی ڈ پی کے سیاسی موقف کا مخالف نہیں ہوسکتا،نہ ہی اس کی ساخت کو مجروح کرسکتا ہوں، پی ڈی پی کے سیاسی فلسفے اور افہام و تفہیم کا حصہ ہوں“۔
انہوں نے کہا کہ’ نئی دہلی سے واپسی کے بعد انہیں برطرفی کی خبرذرائع ابلاغ سے ملی اور پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی کا بیان دیکھا جس میں کہا گیا کہ میں اپنے بیان سے منحرف ہوجاﺅں‘۔ انضباطی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمان ویری کی طرف سے شام کو رہائش گاہ پر خط ملا جس میں کہا گیاکہ میں دیئے گئے بیان کی وضاحت کروں ، جس کی وجہ سے پارٹی کی ساخت کو زبردست نقصان پہنچا ہے‘۔
درابو نے کہاکہ برطرفی کے بعد وہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملنا چاہتے تھے ، ’سوموار کی صبح میں نے ویری صاحب سے بات کی اور انہوںنے مشورہ دیا کہ مجھے پارٹی صدر و وزیر اعلیٰ سے بات کرنی چاہئے، میں نے نئی دہلی میں وزیر اعلیٰ کی رہائش سے رابطہ کیا تاہم مجھے بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں اور 10منٹ بعد واپس رابطہ کرینگی،جو کبھی نہ ہوسکا‘۔ اگرچہ بی جے پی اس فیصلہ سے خوش نہیں ہے تاہم معاملہ کو پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ قرار دیا لیکن اس کی قیادت نے کہا کہ درابو نے کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا اور بی جے پی سمجھتی ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے اور یہ 1947میں حل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کہاکہ اگر کوئی معاملہ ہے تو وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی میں سیاستدانوں اور ورکروں کی اکثریت وزیر خزانہ حسیب درابو کے کام کرنے کے طریقے سے خوش نہیں تھی اور الزام عائد کیا کہ جب وہ ان سے ملنے کیلئے جاتے تو ان کی بے عزتی کرتے تھے۔ جموںوکشمیر کی وزیر اعلیٰ کے قریبی سمجھے جانے والی 3کابینہ وزراءبھی پی ڈی پی ورکروں کومدد نہ کرنے پر درابو سے ناراض تھے جبکہ کئی پی ڈی پی ورکروں اور سیاستدانوں نے درابو کی برطرفی کا جشن منایا اور تکبر کیلئے انہیںسبق سکھانا چاہتے تھے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ کشمیر کو سماجی معاملہ قرار دینے کا بیان درابو کو ہٹانے کیلئے پارٹی کو موقعہ ہاتھ لگا اور وہ بنیادی ورکر نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ جیسےچھت سے ٹپک کرسیاست میں آگئے۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزارت خزانہ کا قلمدان وزیر تعلیم الطاف بخاری کو سونپ دیا جسے تعاون کرنے والا وزیر سمجھا جاتا ہے اور پارٹی کے اندر اور زمینی سطح پر ان کی شبیہ اچھی مانی جاتی ہے۔ وزیر خزانہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی بخاری نے ٹھیکیداروں کی ہڑتال ختم کروائی جنہوںنے تمام دفاتر اور تعمیرات عامہ کے شعبوں کو مقفل کیا تھا۔ بخاری نے پارٹی ورکروں کو اور ارکان قانون سازیہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے، درابو کی برطرفی سے بے نقاب ہوا اور پی ڈی پی میں بہت لیڈروں کا خیال تھا کہ درابو کو بی جے پی نے پی ڈی پی میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا ۔
ایک سینئر پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ ’ان کا بیان ہماری سیاست اور دلیل کا خاتمہ کرنے کیلئے کافی تھا، درابو کی کوشش تھی کہ وہ مرکزی قیادت کو خوش رکھے اور کشمیر میں لوگوں کی کوئی فکر نہیں تھی‘۔ درابو نے پہلے ہی یہ واضح کیا ہے کہ وہ پی ڈی پی میں موجود رہینگے اور اگلے 3 برسوں کو وہ ان کیلئے استعمال کرینگے جنہوں نے انہیںاسمبلی کیلئے منتخب کیا ہے۔ درابو کی برطرفی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انہوںنے پارٹی میں اثرورسوخ کھو دیا ہے اور اسے آنے والے مہینوںمیں بحال کرنا مشکل ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ ان کے دہلی میں دوست مستقبل میں ان کی باز آبادکاری کرینگے؟
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
