تازہ ترین
جہاں تنازعہ ، وہاںامریکہ
سمیرہ بی ریشی
اندھا ہونے کی سبب سے بدترین چیز یہ ہے کہ نظر ہونے کے باوجود بصارت نہیں ہے اور یہ شام کے 19ویں صدر بشارالاسد پر صادق آتا ہے۔ ماہر امراض چشم ہونے کے باوجود اسد اسی طرح اندھا ہے جس طرح اُلو، وہ اقتدار سے پرے کچھ نہیں دیکھ رہاہے۔ بشارالاسد کے دورِ اقتدار میں شام کا تنازعہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا انسانی بحران بن گیا ہے۔ 8سالہ تنازعہ نے شام میں آبادی کی تباہی مچادی ہے۔ آثاریاتی شواہد کے مطابقکرہ ارض پر شامی تہذیب بہت پرانی تھی اور اسے لوینٹ (Levant)، جسے عربی میں الشام کہتے ہے،کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیکن یہ ماضی تھا۔ 2011سے شام نے تاریخ کی سب سے بدترین خانہ جنگی دیکھی ہے ، آج شام مکمل طور پر گڑبڑی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجہ میں5لاکھ لوگ مارے گئے جبکہ 1کروڑ سے بھی افراد ہجرت کرگئے، 1کروڑ 35لاکھ شام کے اندر امداد کے منتظر ہیں، جن میں 60لاکھ سے زائد افراد ملک میں ہی ہجرت کرچکے ہیں۔ قریب 50لاکھ لوگوںنے ہمسایہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی ہے۔
ذبح خانوے کے پہلے شکار مشرق وسطی میں تھے، یورپ میں نہیں اور یورپ ان ظلم و جبرکا بہت سے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہسپتالوں کے بستروں پرکی جانے والی بمباری کا اہلِ یورپ ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ان کے Warlords اسد حکومت کی مذمت کرنے کیلئے اخباری بیان جاری کرتے ہیں۔ بشارا لاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے یورپ ناکام ہوا ہے ، سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ اگر اہل مغرب نے وقت پر بشارالاسد پر دباﺅ ڈالا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب ملوسوچ سلبڈان کو 1995میں ڈیٹان سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا تاکہ بوزنیا میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل و غارت گری کا خاتمہ کرسکے تاہم یہ شام میں 8سال سے جاری وحشیانہ خانہ جنگی کو بند کرانے میں ناکام رہا۔ 
اسد حکومت کے حامی اور مخالفین، کرد ترکوں کی حمایت کرنے والے، شیعہ اسلام کے ماننے والے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اورجن کا شیرازہ بکھرچکا ہے، وہ اپنی موجوددکھانے کیلئے ، ان سب کی وجہ سے شام میں تباہی مچ رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کی آمد اور ابو ظہبی میںپہلے ہندو مندر کے افتتاح کے سلسلہ میں خلیجی ممالک مصروف تھے اور پاکستان سپُر لیگ کے کرکٹ بخار میں سرابور تھے اور وہ مکمل طور پر مسلم دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بے حس تھے۔ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستانی ذرائع ابلاغ کیلئے کوئی اہمیت نہیں تھی تاہم معروف اداکارہ سری دیوی کی وفات ان کیلئے سب سے برتر اہمیت تھی لیکن عرصہ دراز سے شام میں ہونی والی خون کی ہولی پر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
8سال کا یہ مسلح تنازعہ مارچ 2011میںحکومت مخالف مظاہروں سے جنوبی شہر کے دیرا شہر میں اُس وقت شروع ہوا جب چند نوعمر لڑکوں نے سکول کی دیوار پر انقلابی نعرے تحریر کئے اور ان کی گرفتاری اور اذیت پہنچانے کے بعد وسیع پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بے چینی ملک بھر میں شروع ہوئی اور اس حکومت سے مستعفی ہونے کی مانگ کی۔ حکومت کے فوجی طاقت کے استعمال سے مظاہرین کے حوصلے پختہ ہوگئے اور جولائی 2011سے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل گئے۔
2011سے ہوئی اموات پر دنیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔انکل سیم۔۔ امریکہ نے 2013میں ڈیل ہونے کا موقعہ اُس وقت گنوا دیا جب شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد اس نے کوئی سرخ لکیر نہیں کھینچی اور امریکہ کی ہچکچاہٹ کے سبب شام نے بشارالاسد کی حکومت بچانے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی۔
نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ بھی اسد حکومت پر دباو ڈالنے سے باز رہا تاہم فرانس 2013میںجنگی جہازوں کے استعمال کیلئے تیار تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اکیلا ہی رہ جائیگا۔شام 2011سے افراتفری اور تباہی میں ہے اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ نے استحکام لانے کیلئے عہد کیا لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی دنیا سے عدم استحکام اور افراتفری نے یورپ کو گھیر لیا ہے۔ یورپ نے ایک وقت میں کہا تھا کہ وہ ماضی کونہیںدہرائے گالیکن یہ وعدہ نبھانے میں وہ ناکام رہا۔ یورپ آج ایک خاموش تماشائی اور برا ملٹری ایکٹر ہے۔ اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ مشرق وسطی کے سابق نوآبادیاتی طاقتیں ہیں اور وہ آج موجودہ وقت میں غیر اہم ہے،کسی فالج زدہ کی طرح وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔
رقہ کی ہار کے بعد شام میں بحران گہرا گیا اور جنگ جیسی صورتحال میں تبدیل ہوگیا، یہ اب داخلی تنازعہ نہیں رہا، اس میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ( روس، ایران، ترکی اور امریکہ) الجھ گئیں اور اگر کھلے طور نہیں تو درپردہ طور پر ، یہ بڑے کردار شام کی مدد نہیں کررہے ہیں بلکہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہے ہیں۔
چند ماہرین اس کا لبنان کے 15سالہ تنازعہ سے جوڑ رہے ہیں اور اور شام اس درپردہ جنگ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
روس اور ایران جیسے سپانسر کی مداخلت کی وجہ سے نام نہاد اسلامک سٹیٹ (IS)بکھر گئی ہے ، صدر بشارالاسد ابھی بھی حکمران ہیں اوربا غیوں کوشکست دینے میں روس کامیاب ہوگیا اوربشارالاسد کو بچالیا۔ ترکی بھی اب میدان میں کود پڑا ہے اوراس نے کردش جنگجوﺅںسے لڑنے کیلئے افواج سرحد پر بھیج دیئے۔ حریف روس کو مارنے کیلئے امریکہ فاتح بن گیا اور ایران و اسرائیل کے درمیان دیرینہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ابھی شام کے بحران سے چھٹکارا نہیں ملا ہے۔
یہ تنازعہ ہر گزرتے دن اور 8برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ، اندرونی تنازعہ نے شام کی ہر ایک انچ کو یرغمال بناکے رکھ دیا ہے ۔ شام میں جنگ کے شعلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کیوں کوئی چھٹکارا نہیں ؟ بے شک ، اس کا جواب خارجی کرداروں کے پاس ہے ، جن کا شام میں پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ صدر بشارالاسد کیخلاف اٹھنے والی مقامی شورش اب یہ جنگ اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بدل گئی ہے۔ اب یہ فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈھل چکی ہے اوراکثریتی سنی فرقہ کوصدر کے شیعہ علوی فرقہ کے خلاف جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس تنازعہ کا حصہ بن گئیں۔ جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کے وجود میں آنے سے اس کے پہلو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسلامک سٹیٹ کی شکست کے بعدشام کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں میںمزید دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔سابق امریکہ کے سیٹٹ سیکریٹری ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ کردش کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی فوج تب تک قیام پذیر رہینگی جب تک آئی ایس کا خطرہ موجود ہے اور جنگ کا کوئی حل نہیں نکل آتا۔
شام میں کرد کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی افواج کی موجودگی سے ناٹو کے اتحادی ترکی آگ بگولہ ہوگیا۔ پیپلز پروٹکشن یونٹس (YPG)جیسے گروپ امریکہ کے شریک کو ترکی دہشت گرد مانتی ہے جو شام میں کردش ملیشیا ہے ۔ جس وقت ٹلرسن نے شام کیلئے منصوبے کا اعلان کیا، ترکی نے شمال ۔ مغرب شام میں وائی پی جی کے زیر کنٹرول عفرین میں افواج بھیج کر حملہ کیا تاہم عفرین میں امریکی فوج موجود نہیں ہے ، ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ منبج کی طرف مارچ کرے گا۔ امریکہ کے یہ کہنے سے کہ ملک کو ISسے پاک کرنے تک وہی رہے گا، اس پر روس آگ بگولہ ہوگیا جو عفرین میں ترکی کے حملہ کرنے کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس طاقت کے کھیل میں شام میں حالات مزید دگرگوں ہوگئے ہیں۔
شام اب داخلی معاملہ نہیں رہا، آمرحکمران کیخلاف ایک اور عرب بہار شروع ہونے سے درپردہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں نبردآزما ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ کو قائم کرے جبکہ اس تنازعہ کے ترکی، روس ، امریکہ اور ایران کردار ہیں۔
شام میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور لبنان کی درپردہ حزب اللہ کے ذریعہ ہتھیاروں کی ترسیل سے وہ اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ مشرق وسطی اب طاقت کے کھیل کا میدان جنگ بن چکا ہے۔ حزب اللہ ایران کا پشت پناہی والا ملی ٹنٹ گروپ ہے جو اسرائیلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں کے قریب ہیں۔ ایران اور اسرائیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتے اور علاقہ میں ایران کے اثرورسوخ سے اسرائیل میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خارجہ کرداروں کے ذریعہ طاقت کا کھیل
شام میںمرکزی عناصر کی وجہ سے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے مداخلت کاسبب بن گیا ، جن میںایران، روس، سعودی عربیہ اور امریکہ قابل ذکر ہے۔حکومت اور حزب اختلاف کیلئے ان ممالک کی فوجی ، مالی اور سیاسی امداد سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور شام ایک درپردہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جہادی گروپوں کی تقسیم اور ان کے فروغ کے سبب جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ’حیات تحریر ال شام‘ جوالقاعدہ سے جڑا ’النصرت فرنٹ‘ کا اتحادی تھا، شمال مغربی کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول ہے ۔ متبرک شیعہ زیارتوں کی حفاظت کیلئے ہزاروں شیعہ ملیشیا ، جو ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ شام کی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔
بھیس بدل کر ہر ایک ملک اپنے دشمنوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اور شام ایک آزاد میدان جنگ ہے۔ تنازعہ شروع ہوتے ہی ایران اسد حکومت کا زبردست حامی ہے اور اسے پیسوں، ہتھیاروں اور خفیہ اطلاعات کی فراہمی سے مدد کررہاہے۔ شام میں ایران کی مداخلت کو شیعیت کی حفاظت کرنے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ایران اسد کو حکومت میں برقرار رکھنے کے حق میں ہے تاکہ تہران شام کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد جاری رکھ سکے۔ اسد کے حامیوں کی ایران سے اچھی بنتی ہے اور وہ سعودی عربیہ کے مقابلہ میں ایران کو علاقائی لیڈرشپ کے طرفدار ہیں۔حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے سے اسرائیل میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ اسے شام میں’مورچہ بندی‘ کہہ رہا ہے اور اس کا توڑ کرنے کیلئے اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کئے۔
اکھاڑے کے میدان میں ایک اور کردار 2015میں روس بھی شامل ہوگیا اور اسد مخالف قوتوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے مدد کی۔ مشرق وسطی میںروس اپنا اثرورسوخ رکھنے کیلئےاسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اوراس کے بدلے وہ مغربی صوبہ لٹاکیا میںاہم فوجی اڈہ اور بندرگاہ کے شہر ٹاٹرس میںبحری اڈے کو محفوظ رکھنے کا خواہاں ہیں ۔ ماسکو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطی میں روس کی ساخت کومضبوط کیاجائے۔
شام کے نزدیک ہونے سے سعودی عربیہ کے سیاسی نظام پر اثر پڑسکتا ہے ، سعودی عرب دنیا ویسا ہی جیسے باقی دنیا کیلئے امریکہ ۔۔مڈل ایسٹ انکل سام۔ یہ خاموش نہیں رہا بلکہ اس نے شامی حکومت کے مخالفین کو رقومات اور ہتھیار فراہم کئے اور امریکہ کی قیادت والی بین الاقوامی اتحاد کے حصہ رہا ہے۔
لوگوں کا یہ یقین ہے کہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کا بچانے والا فقط ترکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصی طور پر روہنگیائی مسلمانوں کی بودھوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور حالت زار اور اب معصوم شامیوں کیلئے ترکی نے یہ مسائل زورشور سے اٹھائے۔ ترکی باغیوں کا پُرجوش حامی رہا ہے تاہم ہمدرد ہونے کی آڑ میں وہ ’کردش پاپولر پروٹکشن یونٹس‘ (YPG) کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جنہیں وہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جب میدان جنگ میں چھوٹے کھلاڑی ہیں تو بڑے بھائی (امریکہ) کو یہ نہیں لگتا کہ وہ ہٹ جائیگا اور امریکہ خدا کی طرح قادر مطلق دکھنا چاہتا ہے۔
جہاں کہیں بھی تنازعہ ہوتا ہے ، وہاں امریکہ ہوگا۔ اس کا مرکزی مقصدشام میں ISکی تباہی اور دیگر سخت گیر گروپوں کا خاتمہ ہے۔ شامی حکومت کا مخالفین کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہٹ کر ٹرمپ انتظامیہ اسد حکومت کے متعلق مشکوک ہے۔ جب تک خارجی عناصر طاقت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، شام خون خرابے سے آزاد نہیں ہوگا۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
