تازہ ترین
جہاں تنازعہ ، وہاںامریکہ
سمیرہ بی ریشی
اندھا ہونے کی سبب سے بدترین چیز یہ ہے کہ نظر ہونے کے باوجود بصارت نہیں ہے اور یہ شام کے 19ویں صدر بشارالاسد پر صادق آتا ہے۔ ماہر امراض چشم ہونے کے باوجود اسد اسی طرح اندھا ہے جس طرح اُلو، وہ اقتدار سے پرے کچھ نہیں دیکھ رہاہے۔ بشارالاسد کے دورِ اقتدار میں شام کا تنازعہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا انسانی بحران بن گیا ہے۔ 8سالہ تنازعہ نے شام میں آبادی کی تباہی مچادی ہے۔ آثاریاتی شواہد کے مطابقکرہ ارض پر شامی تہذیب بہت پرانی تھی اور اسے لوینٹ (Levant)، جسے عربی میں الشام کہتے ہے،کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیکن یہ ماضی تھا۔ 2011سے شام نے تاریخ کی سب سے بدترین خانہ جنگی دیکھی ہے ، آج شام مکمل طور پر گڑبڑی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجہ میں5لاکھ لوگ مارے گئے جبکہ 1کروڑ سے بھی افراد ہجرت کرگئے، 1کروڑ 35لاکھ شام کے اندر امداد کے منتظر ہیں، جن میں 60لاکھ سے زائد افراد ملک میں ہی ہجرت کرچکے ہیں۔ قریب 50لاکھ لوگوںنے ہمسایہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی ہے۔
ذبح خانوے کے پہلے شکار مشرق وسطی میں تھے، یورپ میں نہیں اور یورپ ان ظلم و جبرکا بہت سے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہسپتالوں کے بستروں پرکی جانے والی بمباری کا اہلِ یورپ ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ان کے Warlords اسد حکومت کی مذمت کرنے کیلئے اخباری بیان جاری کرتے ہیں۔ بشارا لاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے یورپ ناکام ہوا ہے ، سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ اگر اہل مغرب نے وقت پر بشارالاسد پر دباﺅ ڈالا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب ملوسوچ سلبڈان کو 1995میں ڈیٹان سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا تاکہ بوزنیا میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل و غارت گری کا خاتمہ کرسکے تاہم یہ شام میں 8سال سے جاری وحشیانہ خانہ جنگی کو بند کرانے میں ناکام رہا۔ 
اسد حکومت کے حامی اور مخالفین، کرد ترکوں کی حمایت کرنے والے، شیعہ اسلام کے ماننے والے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اورجن کا شیرازہ بکھرچکا ہے، وہ اپنی موجوددکھانے کیلئے ، ان سب کی وجہ سے شام میں تباہی مچ رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کی آمد اور ابو ظہبی میںپہلے ہندو مندر کے افتتاح کے سلسلہ میں خلیجی ممالک مصروف تھے اور پاکستان سپُر لیگ کے کرکٹ بخار میں سرابور تھے اور وہ مکمل طور پر مسلم دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بے حس تھے۔ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستانی ذرائع ابلاغ کیلئے کوئی اہمیت نہیں تھی تاہم معروف اداکارہ سری دیوی کی وفات ان کیلئے سب سے برتر اہمیت تھی لیکن عرصہ دراز سے شام میں ہونی والی خون کی ہولی پر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
8سال کا یہ مسلح تنازعہ مارچ 2011میںحکومت مخالف مظاہروں سے جنوبی شہر کے دیرا شہر میں اُس وقت شروع ہوا جب چند نوعمر لڑکوں نے سکول کی دیوار پر انقلابی نعرے تحریر کئے اور ان کی گرفتاری اور اذیت پہنچانے کے بعد وسیع پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بے چینی ملک بھر میں شروع ہوئی اور اس حکومت سے مستعفی ہونے کی مانگ کی۔ حکومت کے فوجی طاقت کے استعمال سے مظاہرین کے حوصلے پختہ ہوگئے اور جولائی 2011سے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل گئے۔
2011سے ہوئی اموات پر دنیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔انکل سیم۔۔ امریکہ نے 2013میں ڈیل ہونے کا موقعہ اُس وقت گنوا دیا جب شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد اس نے کوئی سرخ لکیر نہیں کھینچی اور امریکہ کی ہچکچاہٹ کے سبب شام نے بشارالاسد کی حکومت بچانے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی۔
نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ بھی اسد حکومت پر دباو ڈالنے سے باز رہا تاہم فرانس 2013میںجنگی جہازوں کے استعمال کیلئے تیار تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اکیلا ہی رہ جائیگا۔شام 2011سے افراتفری اور تباہی میں ہے اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ نے استحکام لانے کیلئے عہد کیا لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی دنیا سے عدم استحکام اور افراتفری نے یورپ کو گھیر لیا ہے۔ یورپ نے ایک وقت میں کہا تھا کہ وہ ماضی کونہیںدہرائے گالیکن یہ وعدہ نبھانے میں وہ ناکام رہا۔ یورپ آج ایک خاموش تماشائی اور برا ملٹری ایکٹر ہے۔ اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ مشرق وسطی کے سابق نوآبادیاتی طاقتیں ہیں اور وہ آج موجودہ وقت میں غیر اہم ہے،کسی فالج زدہ کی طرح وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔
رقہ کی ہار کے بعد شام میں بحران گہرا گیا اور جنگ جیسی صورتحال میں تبدیل ہوگیا، یہ اب داخلی تنازعہ نہیں رہا، اس میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ( روس، ایران، ترکی اور امریکہ) الجھ گئیں اور اگر کھلے طور نہیں تو درپردہ طور پر ، یہ بڑے کردار شام کی مدد نہیں کررہے ہیں بلکہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہے ہیں۔
چند ماہرین اس کا لبنان کے 15سالہ تنازعہ سے جوڑ رہے ہیں اور اور شام اس درپردہ جنگ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
روس اور ایران جیسے سپانسر کی مداخلت کی وجہ سے نام نہاد اسلامک سٹیٹ (IS)بکھر گئی ہے ، صدر بشارالاسد ابھی بھی حکمران ہیں اوربا غیوں کوشکست دینے میں روس کامیاب ہوگیا اوربشارالاسد کو بچالیا۔ ترکی بھی اب میدان میں کود پڑا ہے اوراس نے کردش جنگجوﺅںسے لڑنے کیلئے افواج سرحد پر بھیج دیئے۔ حریف روس کو مارنے کیلئے امریکہ فاتح بن گیا اور ایران و اسرائیل کے درمیان دیرینہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ابھی شام کے بحران سے چھٹکارا نہیں ملا ہے۔
یہ تنازعہ ہر گزرتے دن اور 8برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ، اندرونی تنازعہ نے شام کی ہر ایک انچ کو یرغمال بناکے رکھ دیا ہے ۔ شام میں جنگ کے شعلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کیوں کوئی چھٹکارا نہیں ؟ بے شک ، اس کا جواب خارجی کرداروں کے پاس ہے ، جن کا شام میں پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ صدر بشارالاسد کیخلاف اٹھنے والی مقامی شورش اب یہ جنگ اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بدل گئی ہے۔ اب یہ فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈھل چکی ہے اوراکثریتی سنی فرقہ کوصدر کے شیعہ علوی فرقہ کے خلاف جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس تنازعہ کا حصہ بن گئیں۔ جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کے وجود میں آنے سے اس کے پہلو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسلامک سٹیٹ کی شکست کے بعدشام کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں میںمزید دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔سابق امریکہ کے سیٹٹ سیکریٹری ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ کردش کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی فوج تب تک قیام پذیر رہینگی جب تک آئی ایس کا خطرہ موجود ہے اور جنگ کا کوئی حل نہیں نکل آتا۔
شام میں کرد کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی افواج کی موجودگی سے ناٹو کے اتحادی ترکی آگ بگولہ ہوگیا۔ پیپلز پروٹکشن یونٹس (YPG)جیسے گروپ امریکہ کے شریک کو ترکی دہشت گرد مانتی ہے جو شام میں کردش ملیشیا ہے ۔ جس وقت ٹلرسن نے شام کیلئے منصوبے کا اعلان کیا، ترکی نے شمال ۔ مغرب شام میں وائی پی جی کے زیر کنٹرول عفرین میں افواج بھیج کر حملہ کیا تاہم عفرین میں امریکی فوج موجود نہیں ہے ، ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ منبج کی طرف مارچ کرے گا۔ امریکہ کے یہ کہنے سے کہ ملک کو ISسے پاک کرنے تک وہی رہے گا، اس پر روس آگ بگولہ ہوگیا جو عفرین میں ترکی کے حملہ کرنے کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس طاقت کے کھیل میں شام میں حالات مزید دگرگوں ہوگئے ہیں۔
شام اب داخلی معاملہ نہیں رہا، آمرحکمران کیخلاف ایک اور عرب بہار شروع ہونے سے درپردہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں نبردآزما ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ کو قائم کرے جبکہ اس تنازعہ کے ترکی، روس ، امریکہ اور ایران کردار ہیں۔
شام میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور لبنان کی درپردہ حزب اللہ کے ذریعہ ہتھیاروں کی ترسیل سے وہ اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ مشرق وسطی اب طاقت کے کھیل کا میدان جنگ بن چکا ہے۔ حزب اللہ ایران کا پشت پناہی والا ملی ٹنٹ گروپ ہے جو اسرائیلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں کے قریب ہیں۔ ایران اور اسرائیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتے اور علاقہ میں ایران کے اثرورسوخ سے اسرائیل میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خارجہ کرداروں کے ذریعہ طاقت کا کھیل
شام میںمرکزی عناصر کی وجہ سے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے مداخلت کاسبب بن گیا ، جن میںایران، روس، سعودی عربیہ اور امریکہ قابل ذکر ہے۔حکومت اور حزب اختلاف کیلئے ان ممالک کی فوجی ، مالی اور سیاسی امداد سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور شام ایک درپردہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جہادی گروپوں کی تقسیم اور ان کے فروغ کے سبب جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ’حیات تحریر ال شام‘ جوالقاعدہ سے جڑا ’النصرت فرنٹ‘ کا اتحادی تھا، شمال مغربی کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول ہے ۔ متبرک شیعہ زیارتوں کی حفاظت کیلئے ہزاروں شیعہ ملیشیا ، جو ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ شام کی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔
بھیس بدل کر ہر ایک ملک اپنے دشمنوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اور شام ایک آزاد میدان جنگ ہے۔ تنازعہ شروع ہوتے ہی ایران اسد حکومت کا زبردست حامی ہے اور اسے پیسوں، ہتھیاروں اور خفیہ اطلاعات کی فراہمی سے مدد کررہاہے۔ شام میں ایران کی مداخلت کو شیعیت کی حفاظت کرنے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ایران اسد کو حکومت میں برقرار رکھنے کے حق میں ہے تاکہ تہران شام کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد جاری رکھ سکے۔ اسد کے حامیوں کی ایران سے اچھی بنتی ہے اور وہ سعودی عربیہ کے مقابلہ میں ایران کو علاقائی لیڈرشپ کے طرفدار ہیں۔حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے سے اسرائیل میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ اسے شام میں’مورچہ بندی‘ کہہ رہا ہے اور اس کا توڑ کرنے کیلئے اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کئے۔
اکھاڑے کے میدان میں ایک اور کردار 2015میں روس بھی شامل ہوگیا اور اسد مخالف قوتوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے مدد کی۔ مشرق وسطی میںروس اپنا اثرورسوخ رکھنے کیلئےاسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اوراس کے بدلے وہ مغربی صوبہ لٹاکیا میںاہم فوجی اڈہ اور بندرگاہ کے شہر ٹاٹرس میںبحری اڈے کو محفوظ رکھنے کا خواہاں ہیں ۔ ماسکو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطی میں روس کی ساخت کومضبوط کیاجائے۔
شام کے نزدیک ہونے سے سعودی عربیہ کے سیاسی نظام پر اثر پڑسکتا ہے ، سعودی عرب دنیا ویسا ہی جیسے باقی دنیا کیلئے امریکہ ۔۔مڈل ایسٹ انکل سام۔ یہ خاموش نہیں رہا بلکہ اس نے شامی حکومت کے مخالفین کو رقومات اور ہتھیار فراہم کئے اور امریکہ کی قیادت والی بین الاقوامی اتحاد کے حصہ رہا ہے۔
لوگوں کا یہ یقین ہے کہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کا بچانے والا فقط ترکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصی طور پر روہنگیائی مسلمانوں کی بودھوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور حالت زار اور اب معصوم شامیوں کیلئے ترکی نے یہ مسائل زورشور سے اٹھائے۔ ترکی باغیوں کا پُرجوش حامی رہا ہے تاہم ہمدرد ہونے کی آڑ میں وہ ’کردش پاپولر پروٹکشن یونٹس‘ (YPG) کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جنہیں وہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جب میدان جنگ میں چھوٹے کھلاڑی ہیں تو بڑے بھائی (امریکہ) کو یہ نہیں لگتا کہ وہ ہٹ جائیگا اور امریکہ خدا کی طرح قادر مطلق دکھنا چاہتا ہے۔
جہاں کہیں بھی تنازعہ ہوتا ہے ، وہاں امریکہ ہوگا۔ اس کا مرکزی مقصدشام میں ISکی تباہی اور دیگر سخت گیر گروپوں کا خاتمہ ہے۔ شامی حکومت کا مخالفین کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہٹ کر ٹرمپ انتظامیہ اسد حکومت کے متعلق مشکوک ہے۔ جب تک خارجی عناصر طاقت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، شام خون خرابے سے آزاد نہیں ہوگا۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
