جموں و کشمیر
چند روز قبل عسکری صفوں میں شامل جنگجو کی گھر واپسی
اننت ناگ// عسکری تنظیم لشکر طیبہ میں شامل ہوئے کشمیری فٹبالرماجد خان گھر واپس آگیا۔اپنے والد کو دل کا دورہ پڑنے اور اپنی والدہ کی آہوزاری کو دیکھ کر ماجد خان عرف پولاک (شان پولاک) نے اپنے گھر والوں سے ٹیلیفونک رابطہ قائم کرکے گھر واپس لوٹنے کی خواہش ظاہر کردی تھی ۔ پولیس نے بتایا ’ماجد کی خودسپردگی سے متعلق خبریں صحیح نہیں ہیں۔ نہ اس نے خودسپردگی اختیار کی اور نہ ہم نے اسے گرفتار کیا ‘۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ماجد نے گھر والوں سے بات کرکے اپنے گھر واپس لوٹنے کی خواہش ظاہر کی ۔ کشمیر کے ابھرتے ہوئے 20 سالہ فٹبالر ماجد خان نے صرف ایک ہفتہ قبل ہی کھیل کو چھوڑ کر بندوق تھام لی تھی۔ماجد کے عسکریت کی صف میں شامل ہونے سے اس کے اہل خانہ اور دوست و احباب کافی پریشان تھے اور انہوں نے ماجد سے واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ اس کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ اپنے بیٹے سے جذباتی طو رپر لوٹنے کی اپیل کی تھی اورجمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اس نے خود سپردگی کردی ۔ماجد کے اہل خانہ کو بیٹے کے عسکریت پسند بن جانے کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعہ ملی تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی ، جس میں ماجد اے کے 47 کے ساتھ نظر آرہا تھا۔ سوشل میڈیا پر ماجد خان کی والدہ عائشہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ، جس میں وہ اپنے بیٹے سے واپس لوٹ آنے کی اپیل کررہی ہے۔ ویڈیو میں اس کی والدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ لوٹ آو اور ہماری جان لے لو ، اس کے بعد چلے جانا ، تم مجھے کس کے سہارے چھوڑ گئے ۔ ماجد کے دوستوں نے بھی سوشل میڈیا پر اس سے لوٹ آنے کی گزارش کی تھی۔ اس کے ایک دوست نے فیس بک پر لکھا آج میں نے تمہارے والد اور والدہ کو دیکھا ، وہ بری طرح سے ٹوٹ چکے ہیں ، پلیز لوٹ آو۔ اس طرح اپنے والدین کو مت چھوڑو ، پلیز واپس آجاو ، تم اپنے والدین کی واحد اولاد ہو ، وہ تم سے بچھڑنا برداشت نہیں کرپائیں گے ، جب میں نے دیکھا تب وہ رو رہے تھے ، پلیز ماجد ان کیلئے لوٹ آو، ہم سب تمہیں بہت پیار کرتے ہیں۔لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت کے بعد ماجد کی والدہ عائشہ بیگم نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ عائشہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے نور (ماجد خان) کے واپس آنے تک بھوکی رہے گی۔ وہ اپنے گھر آنے والے ہر ایک شخص سے کہتی رہی کہ وہ ’ماجد‘ کو واپس لانے میں مدد کرے۔ اس دوران ماجد کے والد ارشاد احمد خان کو 14 نومبر کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب اسے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنس گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ماجد خان کا والد 14 نومبر سے بدستور اننت ناگ کے ایک مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ قصبہ اننت ناگ میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی کام سال دوم کے طالب علم ماجد نے اپنے ایک قریبی دوست یاور نثار کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ نثار نے جولائی 2017 ء میں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسے گذشتہ ماہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح تصادم میں جاں بحق کیا گیا۔ادھرپولیس اور آرمی سربراہان نے ماجد کو لیکر خودسپردگی یا گرفتاری کو رد کیا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ماجد نے خود ہی عسکریت کاراستہ چنا اور خود ہی واپسی کا فیصلہ بھی کیا اور اسے نارمل زندگی جینے کا موقعہ دیا جائے گا۔
ماں کی پکار کا احترام کیا:لشکر
سرینگر //لشکر طیبہ نے کہا ہے کہ ماں کی پکار پر ماجد کو گھر جانے کی اجازت دی گئی۔لشکر چیف محمود شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انکی ماں کی درخواست پر ماجد ارشد خان کو گھر جانے کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ گھر کا واحد دیکھ ریکھ کرنے والا ہے۔لشکر ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے لشکر چیف کے حوالے سے کہا ’’ لشکر طیبہ نے کبھی بھی تشدد اور ظلم و جبر کو پسند نہیں کیا،ماجد کی پیش رفت اس سلسلے کا ثبوت ہے‘‘۔بیان میں انہوں نے کہا’’ کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کو پوری قوم نے پروان چڑھایا ہے، اگر ایک ماں اپنے بیٹے سے تاکید کر رہی ہے کہ وہ اسکے پاس واپس آئے، ہم اسکے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن دنیا کو اس تشدد کا مشاہدہ کرنا چاہیے جو ماجد کے گھر والوں پر بھارت کے جبری قبضے کے خلاد آواز لگانے پر دیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا’’ اہل خانہ کو فورسز نے موت کی دھمکی دی تھی،اسی کے جواب میں اسکی ماں نے اپنے بیٹے کو گھر واپس آنے کیلئے کہا، ہم ماں کی پکار کا احترام کرتے ہیں، لیکن اگر ماجد کو کسی بھی طرح یا کسی فرضی جھڑپ میں ہلاک کیا گیا تو ہر ایک پولیس آفیسر کے بیٹے کیساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جائیگا‘‘۔(کے این ایس)
وقار کی زندگی گزارنے کا موقع دیا جائیگا:پولیس
سید اعجاز
اونتی پورہ// فٹ بالر کی دس روز تک جنگجوئوں کیساتھ شامل ہونے کے بعدپولیس نے اسے حراست میں لیکر اعلان کیا ہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے مقامی جنگجوئوں کووقار کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ اننت ناگ کے صادق آباد علاقے سے تعلق رکھنے والا ماجد خان عرف شان پولاک کو پولیس نے گرفتار کر کے جمعہ کو چار بجے وکٹر فورس اونتی پورہ میں آئی جی پی کشمیر منیر احمد خان اور وکٹر فورس کے میجر جنرل بی ایس راجو نے ایک مشترکہ پرس کانفرنس میں کہا کہ مذکورہ نوجوان نے نہ ہی سرنڈر کیااور نہ ہی وہ گرفتار ہوا ، بلکہ جنگجوئوں کیساتھ شامل ہونے کے بعد میڈیا میں ان کے والدین سے متعلق خبریں آنے اور گھر والوں کی کوششوں کے بعد وہ از خود جنگجویت کو خیر باد کر کے گھر لوٹ آیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ نوجوان کو باز آباد کاری پالیسی کے تحت بنا ء کسی پریشانی اور کیس کے زند گی گزارے گا۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام مقامی جنگجو نوجوانوںکو قومی دھارے میں شامل ہونے موقع فراہم کیا جائے گا،جس کا مقامی جنگجو فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔آئی جی نے کہا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے جنگجو نوجوانوں کا باضابطہ طور پر خیر مقدم کر کے وقار کی زند گی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔جبکہ نوجوان کو بہت جلد گھر والوں کے حوالے کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
