جموں و کشمیر
وزیرا علیٰ کی عوامی رابطہ مہم : سانبہ میں عوامی شکایتوں کے ازالے کا کیمپ منعقد
سانبہ//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع سانبہ کا دورہ کیا اور وہاں عوامی شکایتوں کے ازالے کے کیمپ کا انعقاد کیا۔ کیمپ کے دوران وزیرا علیٰ نے درجنوں وفود اور سینکڑوں لوگوں کے مسائل بغور سنے جن میں ترقیاتی ضروریات سرفہرست تھیں۔ صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا، وائس چیئرمین او بی سی بورڈ ریشپال ورما، ارکان قانون سازیہ دویند ر منیال اور کلدیپ راج اس موقعہ پر موجود تھے۔وفود نے عمومی طور پر لوگوں تک پہنچنے ، ان کی ترقیاتی ضرورتوں کو سمجھنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ لوگوں نے سانبہ اور وجے پور میں فلائی اوور کی تعمیر ، ضلع میں ایک زنانہ کالج کا قیام ،ایس سی / ایس ٹی لوگوں کی بہبودی کے لئے رقومات کی واگزاری ،صنعتوں کے قیام سے پیدا شدہ آلودگی کو روکنے ،سرحدی لوگوں کے لئے روزگار مہم شروع کرنے، ریلوے لائن پر اوور ہیڈ برج کی تعمیر اور ضلع ہسپتال کو مزید مستحکم بنانے کے مطالبات پیش کئے ۔بار ایسو سی ایشن کے ممبران کی ایک وفد نے وکلاء کے لئے مزید چیمبروں کی تعمیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کا قیام،مزید عدالتوں کو قائم کرنے جگہ اور بار لائبریری کو اَپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قصبے میں ایک آڈیٹوریم کی تعمیر اور لکھن پور ۔ وجے پور قومی شاہراہ پر فلائی اوور تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بار لائبریری کو اَپ گریڈکرنے کے لئے 10لاکھ روپے کی رقم واگزار کی ۔انہوں نے قصبے میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لئے امکانات تلاش کرنے کے بھی ہدایات دیں۔امر کھشٹریا راجپوت سبھا کے ایک وفد نے سانبہ قلعے کی مرمت کرنے ، مقامی ضلع ہسپتال کے استحکام اور نئے بس سٹینڈ کو چالو کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے سانبہ فورٹ میں ڈسٹرکٹ لائبریری کی اَپ گریڈیشن اور فورٹ میں دیگر تجدید و مرمت کے کام انجام دینے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزار ی کا اعلان کیا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفود نے وجے پور میںایمز پر جاری تعمیراتی کام میں سرعت لانے ، قصبے اور کنڈی بیلٹ میں پینے کے پانی کی فراہمی ،ریلوے لائن پر اوور برج تعمیر کرنے ،مرحلہ اول اور مرحلہ دوم کے تحت سڑکوں کی تعمیر،مقامی ہسپتال کو سہولیات میں اضافہ کرنے اور مقامی ہائیر سکینڈری سکول کے لئے جگہ میں وسعت دینے کا مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے مقامی ہائیر سکینڈری سکول کو اضافی اقامتی سہولیات کے لئے 50لاکھ روپے کی رقم واگزار کی۔انہوں نے ضلع میں ٹرانسفارمر بفر کے قیام کے لئے 25لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سانبہ کو ہدایت دی کہ وہ ریلوے لائن پر کراسنگس کی ایک فہرست پیش کریںجہاں جہاں اوور برجو ں کو تعمیر کرنے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے ضلع ہسپتال میں ایکسرے سہولیات میں بہتری لانے کے لئے 15لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔اوقاف اسلامیہ سانبہ کے ایک وفد نے آئی ٹی کالج کے لئے عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا جس کے لئے اسماعیل پور میں زمین کی نشاندگی کی گئی ہے ۔انہوں نے چھنی مناسہ میں 38کنال وقف اراضی پر ایک واٹر پارک تعمیر کرنے کی تجویز بھی رکھی۔انہوں نے رام گڈھ میں وقف اراضی پر بینکٹ ہال /شاپنگ کمپلیکس تعمیرکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے اسماعیل پور میں آئی ٹی کالج کی تعمیر شروع کرنے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی۔کسانوں کے ایک وفد نے 2014ء کے سیلاب کی وجہ سے سوئیل پولیوشن سے اراضی کو ہوئے نقصان اور فصل کے نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے فارمنگ کمیونٹی کے لئے انشورنس کور اور علاقے میں آرگینک فارمنگ کو متعارف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ رام گڈھ علاقے کے ایک وفد نے کسان کریڈٹ کارڈ سکیم کے تحت قرضہ جات کو معاف کرنے اور پکھڑی گائوں میں بجلی کی تقسیم کاری کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چک ناکہ سے پکھڑی تک سڑک تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے کیم اور دیگر ملحقہ دیہات کے بجلی کے تقسیمی نظام میں بہتری لانے کے لئے 40لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی ۔انہوںنے پکھڑی علاقے میں بجلی کی تقسیم کاری کے نیٹ کو بحال کرنے کے لئے 25لاکھ روپے اور نڈ میں ایک ریسونگ سٹیشن کے قیام کے لئے 50لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔چھمب کے ایک وفد نے آرمی کے قبضے میں اراضی کے کرایہ کی ادائیگی اور معاوضے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے باشندگان کے لئے ایک خصوصی بھرتی مہم چلانے کے علاوہ سرحد ی علاقے کے لوگوں کو دیگر سہولیت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اتر بانی ، پرمنڈل ،چملیال ، بیملا ، کھارہ ،کٹیاں ، گگوال ، مانسر و دیگر علاقوں کے وفود بھی وزیراعلیٰ سے ملے اور اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ کو عوام تک پہنچنے اور ان کے مطالبات بغور سننے کی سراہنا کی۔وزیر اعلیٰ نے دن بھر تمام وفود کے مطالبات بغور سنے اور یہ سلسلہ شام تک جاری رہا۔ کئی معاملات میں وزیر اعلیٰ نے موقعہ پر ہی مسائل کے حل نکالنے کی ہدایت دی جس کی وفود نے بہت ستائش کی ہے ۔وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویژنل کمشنر جموںڈاکٹر ایم کے بھنڈاری ، آئی جی پی جموں زون ڈاکٹر ایس ڈی ایس جموال ،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور پلاننگ محکمہ کے سینئر افسران ، کئی محکموںکے سربراہان ، انجینئرنگ ونگوں کے چیف ، ڈی آئی جی ، ایس کے آررفیق الحسن ،ڈپٹی کمشنر سانبہ شیتل نندا، ایس ایس پی اور ضلع انتظامیہ کے افسران اس موقعہ پرموجود تھے۔جموں صوبہ میں وزیر اعلیٰ کا یہ دوسرا عوام تک پہنچنے کا پروگرام تھا ۔ اس سے قبل انہوں نے رام بن میں ایسے ہی ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ عوامی حلقوں میں ان پروگراموں کی کافی سراہنا کی جارہی ہے جن میں لوگوں کے مسائل عمومی طور پر موقعہ پر ہی حل کئے جاتے ہیں۔ابھی تک محبوبہ مفتی نے ایسے پروگرام پلوامہ ، کپواڑہ ، بڈگام اور بارہمولہ میںمنعقد کئے جن میں سینکڑوں لوگوں نے اپنے مطالبات کی فہرست وزیر اعلیٰ کو پیش کیںاور ان کا ازالہ بھی کیا گیا ۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
